پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو آنکھ کے علاج کے لیے پیر اور منگل کی درمیانی شب اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے پمز ہسپتال لے جایا گیا۔
پمز ہسپتال کی انتظامیہ کے بیان کے مطابق ’74 سالہ عمران خان احمد نیازی ولد اکرام اللہ خان نیازی کو 24 فروری کو آنکھوں کے فالو اپ علاج کے لیے پمز ہسپتال لایا گیا جہاں انہیں انٹرا وٹریل انجیکشن کی دوسری خوراک دی گئی۔‘
مزید پڑھیں
انجیکشن کی دوسری خوراک دینے سے قبل ایک بورڈ نے ان کا معائنہ کیا، کارڈیالوجسٹ کنسلٹنٹ نے ایکو کارڈیوگرافی اور ای سی جی کیا جس کے نتائج نارمل آئے جبکہ کنسلٹنٹ فزیشن نے بھی انہیں طبی طور پر مستحکم قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ’یہ پروسیجر رضامندی کے ساتھ آپریشن تھیٹر میں معیاری نگرانی، احتیاطی تدابیر اور پروٹوکول کے تحت پمز اور شفا آئی ہسپتال کے کنسلٹنٹ اور سرجن کی رہنمائی میں مکمل کیا گیا۔‘
ہسپتال میں قیام، پروسیجر کے دوران اور بعد میں بانی کے وائٹل مستحکم رہے۔
معائنے کے بعد انہیں ضروری ہدایات، فالو اپ مشورے، نسخے اور دستاویزات کے ساتھ ڈسچارج کر دیا گیا۔
’کچھ چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘، سہیل آفریدی اور علیمہ خان کا سخت ردعمل
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور علیمہ خان نے اقدام کو ’کچھ چھپانے کی کوشش‘ قرار دیا ہے۔
عمران خان صاحب کو ایک دفعہ پھر اُن کی فیملی کو بتائے بغیر اور اُن کے ذاتی معالج کی غیر موجودگی میں PIMS لایا گیا۔ جو قانوناً جرم ہے۔ PIMS میں آنکھ کے بہترین علاج کے ڈاکٹرز موجود نہیں ہے اور ایسے میں پاکستان کے سابقہ وزیر اعظم کا وہاں سے آنکھ کا علاج کرانا اُن کی صحت کے ساتھ مذاق… https://t.co/ct7ZHJ9bAg
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) February 24, 2026
منگل کو ایکس پر کی گئی پوسٹ میں سہیل آفریدی نے لکھا کہ خاندان والوں کو بتائے بغیر اور ذاتی معالج کی غیرموجودگی میں پمز لے جایا جانا قانوناً جرم ہے۔ پمز میں آنکھوں کے بہترین ڈاکٹر موجود نہیں ہیں اور ایسے میں وہاں سے سابق وزیراعظم کا علاج کرنا ان کی صحت کے ساتھ مذاق ہے اور لگتا ہے کہ قوم سے کچھ چھپایا جایا جا رہا ہے۔
اسی طرح علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ’خبروں سے ہمیں پتہ چلا کہ عمران خان کو آدھی رات کو دوبارہ پمز لے جایا گیا، خیال ہے کہ ان کی آنکھ میں دوسرا انجکشن لگایا گیا تھا۔ جب قانون کے مطابق ضروری ہے کہ قیدی پر کوئی طبی طریقہ کار کروانے سے پہلے خاندان کو مطلع کیا جائے تو خاندان کو کیوں نہیں بتایا گیا۔‘











