Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لکھنؤ یونیورسٹی کیمپس میں مسجد سیل، ہندو طلبا نے مسلم ساتھیوں کی نماز کے لیے پہرہ دیا

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلم طلبا نماز ادا کر رہے ہیں جبکہ ہندو طلبا ان کے گرد انسانی زنجیر بنا کر کھڑے ہیں تاکہ وہ پرامن طور پر عبادت کر سکیں۔
ویڈیو کے ساتھ شیئر کیے گئے کیپشن میں لکھا گیا کہ ’اس بھائی چارے کو کسی کی نظر نہ لگے۔ مسلم طلبا نماز پڑھ رہے ہیں اور ہندو طلبا ان کی حفاظت کے لیے سامنے کھڑے ہیں۔ دراصل لکھنؤ یونیورسٹی کیمپس کے اندر لال بارادری مسجد بند کیے جانے کی خبر کے بعد ہندو اور مسلم طلبا ایک ساتھ ہو گئے، ایک ساتھ افطار کیا، مسلم طلبا نے نماز پڑھی اور ہندو طلبا سامنے کھڑے رہے۔‘
انڈین نیوز ویب سائٹ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق لکھنؤ یونیورسٹی سے وابستہ طلبا تنظیموں سماجوادی چھاترا سبھا، نیشنل سٹوڈنٹس یونین آف انڈیا اور آل انڈیا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے طلبا نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب تاریخی لال بارادری کے باہر دھرنا دیا۔
طلبا کا الزام تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے جان بوجھ کر لال بارادری کے اندر واقع مسجد کو سیل کر دیا تاکہ رمضان المبارک کے دوران مسلم طلبا کو نماز کی ادائیگی سے روکا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق اتوار کو ان تینوں تنظیموں کے نمائندوں، جو سب ہندو تھے، نے انسانی زنجیر بنائی تاکہ مسجد کے دروازے بند پائے جانے کے بعد طلبا لال بارادری کے باہر نماز ادا کر سکیں۔ نماز کی ادائیگی اور طلبا رہنماؤں کی جانب سے انسانی زنجیر بنانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جسے طلبا نے ’گنگا جمنی تہذیب‘ کی مثال قرار دیا اور کہا کہ یونیورسٹی مذہب، ذات، نسل یا ثقافت کی بنیاد پر امتیاز کی جگہ نہیں ہے۔
ایس سی ایس کے نمائندے نوینیت کمار کے مطابق لکھنؤ یونیورسٹی کے قیام سے ہی مسلم طلبا صدیوں پرانی لال بارادری میں نماز ادا کرتے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رمضان کے دوران نماز پڑھنے والے مسلم طلبا کو بغیر پیشگی اطلاع دیے اس تاریخی عمارت کو سیل کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم ’گنگا جمنی تہذیب‘ پر یقین رکھتی ہے، اسی لیے ان کی تنظیم سے وابستہ ہندو طلبا نے مسلم طلبا کی نماز کے دوران پہرہ دیا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چونکہ عمارت سیل تھی، اس لیے افطار کا اہتمام عمارت کے باہر دیگر طلبا کے ساتھ کیا گیا تاکہ ہم آہنگی کا پیغام دیا جا سکے۔
این ایس یو آئی کے قومی کوآرڈینیٹر وشال سنگھ نے کہا کہ اگر کوئی شخص روزانہ عبادت کے لیے کسی مقام پر جائے اور اچانک ایک دن اسے وہاں داخلے سے روک دیا جائے تو اسے کیسا محسوس ہوگا؟ ان کے مطابق مسجد کے دروازے بغیر اطلاع ویلڈنگ کر کے بند کر دیے گئے۔
تاہم یونیورسٹی کے ترجمان پروفیسر مکول سریواستو نے مؤقف اختیار کیا کہ تاریخی عمارت خستہ حال ہے اور کسی بھی وقت حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ ان کے مطابق عمارت میں موجود بینک اور کینٹین پہلے ہی بند کر دیے گئے تھے، اور حال ہی میں دیوار گرنے کے بعد انتظامیہ نے عمارت کے اندر نقل و حرکت پر پابندی لگا دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبا کے اندر جانے سے جانی نقصان کا خدشہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق احتجاج اس وقت شروع ہوا جب لال بارادری کے گرد باڑ لگانے کا کام شروع کیا گیا، جسے طلبا تنظیموں نے غیر مجاز قرار دیا۔ بعد ازاں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔
لال بارادری کی تاریخی حیثیت بھی نمایاں ہے۔ مؤرخین کے مطابق یہ نوابی دور کی واحد سرخ پتھر کی عمارت ہے۔ اس کی بنیاد 1814 میں نواب غازی الدین حیدر شاہ نے رکھی اور 1820 میں ان کے بیٹے نصیرالدین حیدر شاہ نے اسے مکمل کیا۔ ماضی میں یہاں اساتذہ کی انجمن کا دفتر، بینک، کیفیٹیریا اور سٹاف کلب بھی قائم رہے، تاہم عمارت کی حالت کے باعث تقریباً ایک دہائی قبل انہیں منتقل کر دیا گیا تھا۔

شیئر: