ٹی20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے میں آج پاکستان اور انگلینڈ اہم میچ کھیلنے جا رہے ہیں۔
میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام 6 بجکر 30 منٹ پر سری لنکا کے پالیکیلے سٹڈیم میں کھیلا جائے گا۔
مزید پڑھیں
-
ٹی20 ورلڈ کپ: کیا انڈیا سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر سکتا ہے؟Node ID: 900998
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق ٹی20 ورلڈ کپ جو ابتدا میں چند بڑی ٹیموں تک محدود دکھائی دے رہا تھا، اب دلچسپ مقابلہ بن چکا ہے۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے انڈیا کو 76 رنز سے شکست نے ٹورنامنٹ کی تصویر بدل دی ہے۔ یاد رہے کہ آسٹریلیا گروپ مرحلے سے ہی باہر ہو چکی ہے۔ لیکن اس غیر یقینی فضا میں بھی انگلینڈ اور پاکستان کی کارکردگی ابھی تک مکمل طور پر قائل نہیں کر سکی۔
انگلینڈ نے مہم کا آغاز نیپال کے خلاف محض چار رنز کی جیت سے کیا، پھر ویسٹ انڈیز سے شکست کھائی، اس کے بعدسکاٹ لینڈ اور اٹلی کے خلاف اعصاب شکن فتوحات حاصل کیں۔ دوسری طرف پاکستان کو پہلے میچ میں نیدرلینڈز کے خلاف سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا، امریکہ اور نمیبیا کو ہرایا مگر انڈیا کے ہاتھوں 61 رنز کی شکست نے سوالات کھڑے کر دیے۔
سپر ایٹ مرحلے میں پاکستان کا نیوزی لینڈ کے خلاف میچ بارش کی نذر ہو گیا تھا، مشترکہ پوائنٹس نے ان کے کوالیفکیشن کے مراحل کو مزید دلچسپ کر دیا ہے۔ اگر آج کامیابی نہ ملی تو ناک آؤٹ مرحلے کا خواب تقریباً ختم ہو سکتا ہے۔ انگلینڈ نے سری لنکا کو 51 رنز سے ہرایا، مگر حقیقت یہ ہے کہ 146 رنز کا ہدف خاصا کمزور تھا اور فل سالٹ کی نصف سنچری کے علاوہ بیٹنگ متاثر کن نہ تھی۔

انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک اور فاسٹ بولر جوفرا آرچر بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ ٹیم ابھی تک اپنا بہترین گیم نہیں کھیل سکی۔ اسی طرح پاکستان بھی بڑی ٹیموں کے خلاف اپنی بہترین کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا ہے۔
اعدادوشمار دباؤ کی کہانی سنا رہے ہیں۔ انگلینڈ کے اوپنر جوس بٹلر اور پاکستان کے صائم ایوب نے مل کر صرف 123 رنز بنائے ہیں۔ اس کے برعکس صاحبزادہ فرحان 220 رنز کے ساتھ ایونٹ کے نمایاں بیٹر ہیں، اوسط 73.33 اور سٹرائیک ریٹ 164.17 کے ساتھ۔
بابر اعظم کا سٹرائیک ریٹ 115.78 تنقید کی زد میں ہے، جبکہ شاہین شاہ آفریدی کو انڈیا کے خلاف مہنگا ثابت ہونے کے بعد ڈراپ کر دیا گیا۔
انگلینڈ کی امیدیں ول جیکس پر ٹکی ہوئی ہیں جو بیٹ اور بال دونوں سے ٹیم کو سہارا دے رہے ہیں۔ اس میدان پر پچھلے ایک ماہ میں انگلینڈ چار میچ جیت چکی ہے اور سری لنکا کے خلاف سیریز بھی جیتی، اس لیے انہیں کسی حد تک ہوم ایڈوانٹیج حاصل ہے۔ پاکستان اس ٹورنامنٹ میں پہلی بار کولمبو سے باہر کھیل رہا ہے۔
سپاٹ لائٹ: جوس بٹلر اور سلمان مرزا
جوس بٹلر پانچ اننگز میں صرف 60 رنز بنا سکے ہیں (سٹرائیک ریٹ 113.20)، مگر ان کے تجربے پر ٹیم کو اعتماد ہے۔ دوسری جانب پاکستان اگر اسی کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترا تو سلمان مرزا واحد فرنٹ لائن سیمر ہوں گے۔ انہوں نے چار وکٹیں 8.75 کی اوسط اور 6.00 اکانومی سے حاصل کی ہیں، بشمول نیدرلینڈز کے خلاف 3/24 کی کارکردگی۔
ممکنہ سکواڈز
انگلینڈ (ممکنہ): فل سالٹ، جوس بٹلر، جیکب بیتھل، ٹام بینٹن، ہیری بروک (کپتان)، سیم کرن، ول جیکس، لیام ڈاسن، جیمی اوورٹن، جوفرا آرچر، عادل رشید۔
پاکستان (ممکنہ): صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، سلمان علی آغا (کپتان)، بابر اعظم، فخر زمان، شاداب خان، عثمان خان، محمد نواز، فہیم اشرف، سلمان مرزا، عثمان طارق۔













