Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کوہاٹ میں پولیس وین پر شدت پسندوں کا حملہ، ڈی ایس پی سمیت تین اہلکار جان سے گئے

حملے کے بعد دہشتگرد پولیس موبائل کو آگ لگا کر فرار ہو گئے (فائل فوٹو)
خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس وین پر شدت پسندوں کے حملے میں ڈی ایس پی سمیت تین اہلکار جان سے گئے۔
منگل کو خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کوہاٹ کے نواحی علاقے شکردرہ روڈ پر پولیس وین پر شدت پسندوں کے حملے میں ڈی ایس پی اسد محمود سمیت تین اہلکار شہد اور چار زخمی ہوگئے۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد دہشتگرد پولیس موبائل کو آگ لگا کر فرار ہو گئے۔
علاقے میں پولیس کی بھاری نفری طلب کرکے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کر لی۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف پہلی دفاعی لکیر ہے اور ان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ’صوبائی حکومت شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔‘
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’شہید ڈی ایس پی اسد محمود اور دونوں اہلکاروں نے اپنا آج قوم کے کل پر قربان کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ دکھ کی گھڑی میں شہید ڈی ایس پی اسد محمود اور شہداءکے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
پیر کو ضلع کرک میں فیڈرل کانسٹیبلری کی پوسٹ پر شدت پسندوں نے کواڈ کاپٹر سے حملہ کیا تھا اور بعد میں زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں تین اہلکار جان سے گئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک ایمبولینس کو آگ لگا کے مریضوں سمیت جلا دیا گیا جبکہ دوسری ایمبولینس زخمیوں کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہو گئی۔

شیئر: