لاہور میں چوری کی انوکھی واردات، ’ٹرانسفارمر لگا کر بجلی کی فروخت‘
لاہور میں چوری کی انوکھی واردات، ’ٹرانسفارمر لگا کر بجلی کی فروخت‘
منگل 24 فروری 2026 7:35
رائے شاہنواز - اردو نیوز، لاہور
دو افراد ذاتی رقم سے ٹرانسفارمر لگا کر چوری کی بجلی گھروں کو فراہم کر رہے تھے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستان میں بجلی کی چوری کی خبر اب اتنی اہم نہیں سمجھی جاتی کیونکہ یہ خبر اتنے تواتر سے اخبارات اور میڈیا کی زینت بنتی ہے کہ اس میں پڑھنے والوں کی دلچسپی معدود ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن پھر بھی کچھ ایسے واقعات ہوتے ہیں جو بجلی چوری کی خبر کو بھی دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ حال ہی میں لاہور کے رائیونڈ ڈویژن میں بجلی چوری کی ایک انوکھی واردات پکڑی گئی ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ جاتی امرا سب ڈویژن میں بابل شاہ غازی بھوبھتیاں کے علاقے میں لیسکو حکام نے مستند معلومات پر ایک گرینڈ آپریشن کیا۔ جسں میں 70 سے زائد گھروں کے کنکشن منقطع کر دیے گئے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دو افراد ذاتی رقم سے ٹرانسفارمر لگا کر چوری کی بجلی گھروں کو فراہم کر رہے تھے۔
ایکسیئن رائیونڈ ڈویژن محمد علی رضا نے بتاتے ہیں کہ ’ہمیں اطلاعات ملی تھیں کہ بڑے پیمانے پر منظم طریقے سے بجلی کی چوری ہو رہی ہے۔ آپریشن کے دوران پتہ چلا کہ دو شہریوں محمد عارف اور چوہدری منظور نے ڈائریکٹ سپلائی سے بجلی چوری کر کے فروخت کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ انہوں نے ایک طرح سے منی گرڈ بنایا ہوا تھا، جہاں دو ٹرانسفارمر رکھے گئے تھے اور ہر گھر کو 95 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی فروخت کی جا رہی تھی۔‘
لیسکو کی ٹیم نے دونوں ٹرانسفارمر قبضے میں لے لیے، مقدمات درج کر لیے اور اب ڈیٹیکشن بل بھی جاری کیے جائیں گے۔
محمد علی رضا کا کہنا تھا کہ تحقیقات جاری ہیں کہ یہ چوری کب سے ہو رہی تھی کیونکہ پچھلے دو سال سے بجلی چوری کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشنز ہو رہے ہیں، ایسے میں لاہور کی حدود میں ٹرانسفارمر لگا کر چوری کرنا انتہائی عجیب اور انوکھا واقعہ ہے۔ اس کی تہہ تک پہنچا جائے گا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ بجلی کی چوری اب انفرادی سطح سے نکل کر کاروباری شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں چور اپنے ’منی گرڈ‘ بنا کر منافع کما رہے ہیں۔
جدید طریقوں میں سمارٹ میٹرز کو ہیک کرنا یا خصوصی کیبل شیٹس کا استعمال شامل ہے۔ (فائل فوٹو: اے پی پی)
’جدید دور کا بجلی چور‘
لاہور ہی میں بجلی کی چوری کے انوکھے طریقوں میں ایک واقعہ پچھلے سال پیش آیا جب شہر کے ایک مشہور ہوٹل میں جہاں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کی ٹیم نے اڑھائی کروڑ روپے کی بجلی چوری پکڑی۔ تکینکی ٹیم نے جب ہوٹل کے میٹر کو شک کی بنیاد پر قبضے میں لیا تو انکشاف ہوا کہ ہوٹل نے ایک ایسا الیکٹریشن رکھا ہوا تھا جو میٹر کو ری پروگرام کرنے کا فن جانتا تھا۔ اور اسی نے غیرقانونی طور پر اس میٹر کو ری پروگرام کیا تھا جس سے اصل استعمال سے کم یونٹس ریکارڈ ہو رہے تھے۔
یہ تکنیکی چوری کی ایک کلاسیکی مثال ہے جہاں میٹر کے سافٹ ویئر میں چھیڑ چھاڑ کر کے کروڑوں روپے کی بجلی چوری کی جاتی ہے۔ لیسکو کی چھاپہ مار ٹیموں نے اس کے بعد درجنوں ایسے میٹرز ضبط کیے اور قانونی کارروائی شروع کی۔
لیسکو کے سابق افسر مسعود خان کہتے ہیں کہ ’بجلی کی چوری کے طریقے دو بڑی اقسام میں تقسیم ہوتے ہیں، ایک میٹر ٹیمپرنگ اور دوسری لائن ٹیمپرنگ۔ میٹر ٹیمپرنگ میں چور میٹر کے اندرونی سٹرکچر میں تبدیلی کرتے ہیں، جیسے میٹر کی ریورسنگ، مقناطیس کا استعمال کر کے ڈسک کو روکنا، یا میٹر کو الٹا لگانا۔ لائن ٹیمپرنگ میں میٹر کو بائی پاس کر کے براہ راست لائن سے بجلی کھینچی جاتی ہے، جسے ’کنڈا سسٹم‘ کہا جاتا ہے۔‘
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ 500 ارب سے زائد کی بجلی چوری کی جاتی ہے (فائل فوٹو: اے پی پی)
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں ایک انوکھا طریقہ یہ ہے کہ مختلف محلہ جات کی لوڈ شیڈنگ کے ٹائمنگ کا فائدہ اٹھا کر ایک علاقے سے دوسرے میں کنڈا ڈالا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جدید طریقوں میں سمارٹ میٹرز کو ہیک کرنا یا خصوصی کیبل شیٹس کا استعمال شامل ہے جو چوری کو مزید مشکل سے پکڑنے والا بناتے ہیں۔
ایک اور تکنیک ’ڈائریکٹ ہُک‘ ہے، جہاں وائر کو مین لائن سے جوڑ کر بجلی چوری کی جاتی ہے۔ یہ طریقے نہ صرف خطرناک ہیں بلکہ آگ لگنے اور حادثات کا باعث بھی بنتے ہیں۔‘
خیال رہے کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ 500 ارب سے زائد کی بجلی چوری کی جاتی ہے۔ جبکہ پچھلے دوسال سے بڑے پیمانے پر ملک بھر میں بجلی چوری کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ بڑی حد تک بجلی چوری میں کمی آئی ہے۔ لاہور بجلی سپلائی کمپنی کے اعداد وشمار کے مطابق اس آپریشن کے دوران 20 ارب روپے کے قریب ریکوری کی گئی ہے۔