Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان: پنجگور میں فائرنگ کے دو واقعات میں خواتین سمیت 8 افراد ہلاک

ایس ڈی پی او پنجگور امیر جان بلوچ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان گاڑیوں میں حاجی داؤد اور ان کے ساتھی سوار تھے۔ (فوٹو: فیس بک)
ایران کی سرحد سے ملحقہ بلوچستان کے ضلع پنجگور میں فائرنگ کے دو الگ الگ واقعات میں دو خواتین سمیت آٹھ افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔
پولیس کے مطابق پہلا واقعہ پیر کی سہ پہر پنجگور سے تقریباً 60 کلومیٹر دور ایران سے ملحقہ سرحدی علاقے چیدگی میں  دستوک کے مقام پر پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔
ایس ڈی پی او پنجگور امیر جان بلوچ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان گاڑیوں میں حاجی داؤد اور ان کے ساتھی سوار تھے جو سرحدی علاقے سے پنجگور کی جانب جا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حاجی داؤد اور ان کے مسلح ساتھیوں اور  حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا تاہم انہوں نے واقعہ کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
پنجگور پولیس کے ایک اور افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردونیوز کوبتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد درجن سے زائد تھی جو موٹر سائیکلوں پر سوار تھے انہوں نے دو گاڑیوں پر حملہ کیا جس پر گاڑیوں میں سوار افراد نے بھی جوابی فائرنگ کی۔
فائرنگ کا تبادلہ کچھ دیر جاری رہا تاہم موٹر سائیکل مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں گاڑیوں میں سوار چھ افراد مارے گئے۔
پولیس افسر کے مطابق حملہ آوروں نے نہ صرف چھوٹے ہتھیاروں کا استعمال کیا بلکہ راکٹ بھی داغے۔ فائرنگ کے بعد مسلح افراد نے دونوں گاڑیوں کو آگ لگا دی اور قریبی پہاڑوں کی جانب فرار ہوگئے۔
پولیس کے مطابق مرنے والوں کی شناخت حاجی داؤد، سلیم، حاجی شاہ میر، معراج، محمد حیات اور عبدالحمید کے ناموں سے ہوئی ہے جو پنجگور کے مختلف علاقوں کے رہائشی تھے۔ اہلِ خانہ لاشیں اپنے ساتھ لے گئے اور انہیں ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق حاجی داؤد کو حکومتی حمایت یافتہ سمجھا جاتا تھا۔ پنجگور بلوچستان میں بدامنی اور شورش سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شمار ہوتا ہے یہاں بلوچ مسلح تنظیمیں سرگرم ہیں۔
اس حملے میں بھی کالعدم بلوچ مسلح تنظیم کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
اس سے پہلے فائرنگ کا ایک اور واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب پنجگور کے علاقے پروم میں پھل آباد کے قریب پیش آیا۔ یہ علاقہ بھی ایران کی سرحد کے قریب واقع ہے جہاں سکیورٹی فورسز نے ناکہ قائم کر رکھا تھا۔
پولیس کے مطابق اس دوران دو زمیاد پک اپ گاڑیوں کو رکنے کا اشارہ کیا گیا۔ ایک گاڑی رک گئی جبکہ دوسری کے ڈرائیور نے گاڑی بھگانے کی کوشش کی جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی۔ گاڑیوں میں غیر قانونی افغان تارکین وطن سوار تھے۔
فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں سوار دو افغان خواتین ہلاک جبکہ ایک خاتون سمیت تین افراد زخمی ہوگئے۔  لاشوں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال پنجگور منتقل کر دیا گیا جہاں خواتین کی شناخت بی بی گل اور ملائکہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق نشانہ بننے والے افراد کا تعلق افغانستان کے علاقوں ہیرات اور ہلمند سے تھا اور وہ غیر قانونی طور پر ایران جانا چاہتے تھے۔ گاڑی میں سوار دیگر افغان باشندوں کو سکیورٹی فورسز نے حراست میں لے لیا ہے۔
ایران کی سرحد سے ملحقہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اس مہینے متعدد کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز نے درجنوں ایسے افغان باشندوں کو گرفتار کیا ہے جو قانونی دستاویزات کے بغیر ایران جانا چاہتے تھے۔

 

شیئر: