Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’شوہر بغیر اجازت میری ویڈیو بناتے ہیں‘، خاتون مقدمہ درج کروانے عدالت پہنچ گئیں

خاتون کی درخواست پر عدالت نے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے (فائل فوٹو: پِکس ہیئر)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی ایک عدالت میں ایک خاتون نے درخواست دائر کی ہے کہ اُن کے شوہر اجازت کے بغیر اُن کی ویڈیوز بناتے ہیں، لہٰذا اُن کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ 
جج نے درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ  اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔
نسرین بی بی (فرضی نام) نے عدالت میں جمع کروائی گئی درخواست میں ایسی کئی ویڈیوز بطور ثبوت پیش بھی کیں جو مبینہ طور پر اُن کے شوہر نے بنائی تھیں۔ 
اپنی درخواست میں خاتون کا کہنا ہے کہ ’میری شادی گذشتہ برس غلام شبیر سے ہوئی جو مشرق وسطیٰ کے ایک ملک میں ملازمت کرتے ہیں۔‘
’شادی کے دوسرے ماہ ہی وہ مجھے اپنے ساتھ بیرون ملک لے گئے اور اس دوران مجھے اندازہ ہوا کہ وہ بغیر اجازت میری ویڈیوز بناتے ہیں۔ میں نے کئی مرتبہ انہیں منع بھی کیا لیکن وہ باز نہیں آئے۔‘
ان کا اپنی درخواست میں مزید کہنا تھا کہ ’میرے شوہر کی پہلے بھی دو بیویاں ہیں جن کا مجھے علم نہیں تھا۔ شادی سے پہلے صرف اتنا بتایا گیا تھا کہ ان کی پہلے ایک شادی ہوئی تھی جو کامیاب نہیں ہو سکی، لیکن اب سرکاری ریکارڈ سے پتا چلا ہے کہ میرے علاوہ بھی اُن کی دو بیویاں ہیں۔‘
عدالت نے خاتون کا موقف سننے کے بعد نیشنل سائبر کرائم ایجنسی سے اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے جہاں مدعیہ نے پہلے ہی درخواست دے رکھی ہے۔ 
تاہم خاتون کے شوہر کے خلاف تاحال مقدمہ درج نہیں ہوا۔ نسرین بی بی نے اپنی درخواست میں یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اُن کے شوہر کے سگے بھائی بھی اس معاملے میں ملوث ہیں۔
ترجمان نیشنل سائبر کرائم ایجنسی لاہور نے بتایا کہ اُن کے پاس یہ درخواست گذشتہ ماہ آئی تھی جس پر قانون کے مطابق انکوائری کی جا رہی ہے۔

متاثرہ خاتون نے عدالت میں ایسی کئی ویڈیوز بطور ثبوت پیش کیں جو مبینہ طور پر اُن کے شوہر نے بنائی تھیں (فائل فوٹو: فری پِک)

’مدعیہ نے اپنے شوہر پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں تاہم وہ اس وقت ملک میں موجود نہیں ہیں۔ ہم نے انہیں نوٹس جاری کیا ہے، لیکن انہوں نے ابھی تک اس کا جواب نہیں دیا۔‘
ترجمان نیشنل سائبر کرائم ایجنسی لاہور کے مطابق ’اب عدالت کا آرڈر آنے کے بعد اگلی تاریخ پر اس مقدمے کے اب تک کے دستیاب حقائق پر مبنی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔‘
خاتون کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والے وکیل وسیم راجپوت کہتے ہیں کہ ’پاکستان کے قوانین اس حوالے سے بالکل واضح ہیں۔ کسی کی ویڈیو یا تصویر بِلا اجازت کسی صورت نہیں بنائی جا سکتی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’بے شک ویڈیو بنانے والا آپ کا جتنا بھی قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، اگر آپ کو  اعتراض ہے تو وہ اس بات کا مجاز نہیں ہے، اور میاں بیوی کا رشتہ تو اس حوالے سے زیادہ حساس ہے۔‘
’اگر خاتون نے ایک مرتبہ منع کیا ہے تو پھر اس کا مطلب نہیں ہی ہے۔ عدالت نے ہماری بات توجہ سے سُنی ہے اور اس حوالے سے نوٹس بھی جاری کر دیا ہے۔ ہم نے خاتون کے شوہر کو بھی پارٹی بنایا ہے لیکن وہ اس وقت ملک میں نہیں ہیں۔‘

 

شیئر: