Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عام آدمی کے کردار کو خاص بنانے والا اداکار، امول پالیکر

امول پالیکر نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے ذریعے عام آدمی کے کرداروں کو بھی خاص بنا دیا (فوٹو: انڈین ایکسپریس)
ان کی شخصیت میں کچھ بھی ایسا نہیں تھا جو بالی وڈ کی مسالہ فلموں کے ایک ہیرو کے لیے ضروری تصور کیا جاتا ہے یا جسے لوگ پسند کرتے ہیں۔
وہ دھرمیندر کی طرح وجیہہ نہیں تھے اور نہ ہی امیتابھ بچن کی طرح اینگری ینگ مین۔ وہ راجیش کھنہ کی طرح ایک رومانی ہیرو بھی نہیں تھے کہ لڑکیاں ان کو اپنے خون سے خط لکھا کرتیں اور جتندر کی طرح رقص کرنے میں بھی مہارت نہیں رکھتے تھے مگر اس کے باوجود ان کو ایک اداکار، ایک ہیرو کے طور پر وہ پسندیدگی، وہ پذیرائی ملی کہ لوگ ان کی فلموں کی ریلیز کا انتظار کیا کرتے۔
بات اگر بالی وڈ کی فلموں ’رجنی گندھا‘، ’چھوٹی سی بات‘، ’گول مال‘ اور ’گرم نرم‘کی ہو تو ان تمام شاندار اور کامیاب فلموں میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہیں ان فلموں کے لیڈ ایکٹر امول پالیکر۔ ایک ایسے اداکار جو دہائیوں تک بڑی سکرین پر راج کرتے رہے۔
امول پالیکر درحقیقت ایک ایسے اداکار ہیں جنہوں نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے ذریعے عام آدمی کے کرداروں کو بھی خاص بنا دیا۔
وہ آج ہی کے روز 24 نومبر 1944 کو بمبئی (ممبئی) کے ایک نچلے متوسط طبقے کے خاندان میں پیدا ہوئے۔ اداکار نے اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ سے بات کرتے ہوئے اپنے بچپن کے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ مجھے ’امول‘ کا نام دیا گیا، جس کا مطلب ہے قیمتی۔ بابا جی پی او میں کام کرتے تھے، اور آئی ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتی تھیں، جنہوں نے مجھے یہ سکھایا کہ جو کچھ بھی ہم کریں، اس پر فخر کریں۔ ہمیں اپنے نچلے متوسط طبقے سے ہونے پر فخر تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارا خاندان بہت سی چیزیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا۔‘
’میرے بچپن میں ہمارے پاس حتیٰ کہ ریڈیو تک نہیں تھا اور ہم پڑوسی کے ریڈیو پر گانے سنتے تھے۔ لیکن جس طرح ہم یعنی میری تینوں بہنوں اور میری پرورش ہوئی، ہم نے ہمیشہ پیسے کا احترام کیا۔ مجھے معلوم ہے کہ میرے والدین نے اسے کمانے کے لیے سخت محنت کی۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ امول پالیکر اداکار نہیں بلکہ مصور بننا چاہتے تھے تو ان کا داخلہ ممبئی کے سر جے جے سکول آف آرٹ میں کروا دیا گیا مگر اُن کے لیے اپنے خوابوں کو پانے کی جستجو آسان نہیں تھی۔
انہوں نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ مشکل وقت تھا۔ میں نے مختلف چھوٹے موٹے کام کیے، ٹائپ رائٹنگ سیکھی اور دوسروں کو ٹائپ کرنا سکھا کر اپنے کالج کے اخراجات پورے کیے۔‘

امول پالیکر کو تھیٹر کرنے کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ اس عہد کے نمایاں ہدایت کار ان کے مداحوں میں شامل ہو گئے (فوٹو: اے ایف پی)

’گریجویشن کے بعد مختلف تشہیری ایجنسیوں میں کام کرنے کی کوشش کی، لیکن جلد ہی یہ احساس ہو گیا کہ یہ میرے بس کا روگ نہیں ہے۔ میں دن کو کلرکی کرتا اور رات کو مصوری۔ میں ایک غیر یقینی دور سے گزرا، اس کے بعد مجھے بینک آف انڈیا میں ملازمت مل گئی۔‘
امول پالیکر صبح 9 سے شام 6 بجے تک بینک میں ملازمت کرتے جس کے بعد کینوس پر جھکے برش تھامے مصوری کرنے لگتے۔ لیکن شومئی قسمت کہ کوئی ایک آرٹ گیلری بھی ان کے فن پاروں کی نمائش پر تیار نہ ہوئی مگر انہوں نے کوشش جاری رکھی۔
ان دنوں ہی ان کی تھیٹر میں دلچسپی پیدا ہوئی جس کی وجہ ان کی بہن کی ہم جماعت چترا تھیں۔ اداکار نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’چترا کو میری تخلیقی صلاحیتوں پر یقین تھا۔ ہم دونوں میں محبت پروان چڑھی، اور ہم نے شادی کر لی۔ مجھے ڈراموں میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی، لیکن چترا تھیٹر کی شوقین تھی اور میں اکثر اسے ریہرسل سے لینے جاتا۔ یوں میں حادثاتی طور پر اداکار بن گیا۔‘
امول پالیکر کی ان ریہرسلز کے دوران ہی انڈین تھیٹر کے پارکھ ستیا دیو دوبے سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے امول پالیکر میں پنہاں اداکاری کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور یوں ان کے اصرار پر امول پالیکر کا بطور اداکار فنی سفر شروع ہوا۔ ان کا اولین کھیل ’چپ! کورٹ چالو ہے‘ تھا۔
اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے اپنے تبصرے میں ان کا کچھ یوں ذکر کیا: ’نئے آنے والے اداکار امول پالیکر بہت ’شاندار‘ ہیں۔‘ اس ایک سطر کے تبصرے نے اداکار کو فکرمند کر دیا کہ آیا ان کی تعریف کی گئی ہے یا نہیں۔
امول پالیکر کو تھیٹر کرنے کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ اس عہد کے نمایاں ہدایت کار ان کے مداحوں میں شامل ہو گئے جن میں بے مثل ڈائریکٹر باسو چیٹرجی بھی شامل تھے جو امول پالیکر کو فلموں کی جانب لائے۔

امول پالیکر نے کہا کہ ’میری سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ میں جب چاہوں تو صاف انکار کر دیتا ہوں۔‘ (فوٹو: ے ایف پی)

اداکار نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایک دن باسو چیٹرجی نے مجھے اداکارہ جیا بہادری کے ساتھ فلم ’پیا کا گھر‘میں کام کرنے کی پیشکش کی۔ میں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے ازاں بعد مجھ سے دوبارہ رابطہ کیا اور فلم ’رجنی گندھا‘ میں کام کرنے کی پیشکش کی۔‘
’میں اچانک ایک سپر ہٹ ہیرو بن گیا۔ میں نے باسو چیٹرجی کی پیشکش قبول کی اور یہ فلم ’رجنی گندھا‘ سپرہٹ ثابت ہوئی۔ میں نے ’رجنی گندھا‘، ’چھوٹی سی بات‘ اور ’چت چور‘ کے ساتھ کامیاب فلموں کی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔ اس کے کچھ عرصے بعد، شیام بینیگل کی فلم ’بھومیکا‘ میں ایک ’منفی‘ کردار ادا کیا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ میرا ’بھومیکا‘ میں کام کرنا ایک غلط فیصلہ تھا، لیکن میرا کردار یادگار ثابت ہوا۔‘
امول پالیکر فلموں میں آئے تو ان پر یہ تنقید ہوئی کہ انہوں نے تھیٹر چھوڑ دیا ہے۔ وہ اس وقت تک تھیٹر کی دنیا کا ایک معتبر حوالہ بن چکے تھے۔ شائقین کا خیال تھا کہ فلم انڈسٹری کا گلیمر ان کے جنون پر حاوی آ گیا ہے مگر یہ تاثر درست نہیں تھا۔ امول پالیکر کا اس تنقید پر دل ٹوٹ گیا۔
انہوں نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں فلموں کی جانب حادثاتی طور پر آیا لیکن میں نے جب کام کیا تو پوری محنت اور لگن سے کیا۔ میں نے ’گول مال‘، ’باتوں باتوں میں‘، ’گھروندا‘ اور ’نرم گرم‘ جیسی فلموں سے پذیرائی اور کامیابی حاصل کی۔‘
امول پالیکر نے اپنی شرائط پر کام کیا۔ وہ خود یہ کہتے ہیں کہ ’فلم انڈسٹری نے مجھے کبھی دل سے قبول نہیں کیا۔ میں ہمیشہ اکیلے ہی جستجو کرتا رہا ہوں۔ میں نے کبھی دن میں دو شفٹوں میں کام نہیں کیا اور ہمیشہ اتوار کو چھٹی کی ہے۔ میری سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ میں جب چاہوں تو صاف انکار کر دیتا ہوں۔‘
امول پالیکر کبھی رسک لینے سے نہیں ہچکچائے۔ انہوں نے بالی وڈ میں ابھی پوری طرح قدم بھی نہیں جمائے تھے کہ سال 1980 میں ایک مراٹھی فلم کی ہدایت کاری کی اور ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ وہ فن کی باریکیوں پر مکمل عبور رکھتے ہیں۔

امول پالیکر کی بیوی سندھیا پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

امول پالیکر سال 1981 میں ریلیز ہوئی فلم ’اگنی پریکشا‘ کا حصہ تھے مگر فلم کی ریلیز کے بعد بھی ان کو واجبات نہیں ملے۔ انہوں نے اس بارے میں فلم کے پروڈیوسر بی آر چوپڑہ سے بات کی۔ ان کو واجبات تو کیا ملتے، یہ تنازعہ اس حد تک بڑھ گیا کہ بی آر چوپڑا جیسے مہان فلم میکر نے امول پالیکر کو یہ دھمکی دے ڈالی کہ انہوں نے اگر واجبات طلب کیے تو وہ اُن کو انڈسٹری سے نکال باہر کریں گے۔ چناں چہ امول پالیکر نے بی آر چوپڑا کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا اور وہ یہ جیت بھی گئے۔
اداکار کی ذاتی زندگی بھی اُتار چڑھاؤ کا شکار رہی لیکن وہ اس قدر خوش قسمت تھے کہ دو مضبوط ارادوں والی خواتین نے انہیں دو بار اپنی بے مول محبت سے نوازا۔ چترا کی وجہ سے تو وہ اداکاری کی جانب آئے۔ انہوں نے خود یہ اعتراف کیا تھا کہ ’میں ایک جدوجہد کرتا ہوا فنکار تھا اور اس کے لیے کوئی بہت زیادہ کشش نہیں رکھتا تھا لیکن چترا کو میری صلاحیتوں پر بھروسہ تھا تو یوں ہماری محبت پروان چڑھی۔‘
سال 1968 میں جب امول پالیکر تھیٹر میں کامیاب ہو چکے تھے تو ان دونوں نے شادی کر لی۔ ان دونوں نے بہت سی فلموں پر ایک ساتھ کام کیا۔ ان کی ایک صاحب زادی ہیں جو آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔
تین دہائیاں ایک ساتھ گزارنے کے بعد امول اور چترا میں اختلافات اس نہج پر پہنچ گئے کہ ان دونوں نے الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ ان دونوں کا یہ فیصلہ حیران کن تھا کیوں کہ عام طور پر جو جوڑے اس قدر طویل عرصہ ایک ساتھ گزارتے ہیں تو وہ شادی کامیاب خیال کی جاتی ہے۔ تاہم، امول اور چترا کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ چترا نے اپنے شوہر کا خاندانی نام برقرار رکھا اور بعد میں بھی کئی منصوبوں پر ان کے ساتھ کام کرتی رہیں۔
چترا سے الگ ہونے کے بعد امول کی ملاقات سکرین پلے رائٹر سندھیا گوکھلے سے ہوئی۔ وہ ان کی فلموں کے لیے لکھا کرتی تھیں۔ امول کی طلاق کے بعد دونوں ایک دوسرے کے قریب آئے۔ سندھیا پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور انہوں نے تقریباً دس سال امریکا میں پریکٹس کی۔ بعد ازاں لکھنے اور پرفارمنگ آرٹس میں گہری دلچسپی کے باعث انڈیا منتقل ہوگئیں۔ دونوں نے جلد ہی شادی کر لی اور اُن کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جو اپنی والدہ کی طرح وکیل ہی ہیں۔
امول پالیکر کہتے ہیں کہ ’اُس کا میری شریکِ حیات اور تخلیقی سفر کی ساتھی ہونا میرے لیے بے حد خوشی کی بات ہے۔ وہ منطقی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ تخلیقی بھی ہے اور یہ منفرد امتزاج ہے۔‘

امول پالیکر کی شخصیت کا کوئی ایک تعارف نہیں ہے۔ وہ تھیٹر کی دنیا کا ایک معتبر حوالہ ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

امول کی دونوں بیٹیاں اپنی اپنی زندگی میں خوش اور مستحکم ہیں اور ان کا دونوں کے ساتھ گہرا لگائو ہے۔ ان کا چترا کے ساتھ بھی خوش گوار تعلق قائم ہے۔ وہ فی الحال اپنی دوسری بیوی سندھیا کے ساتھ بطور مصور زندگی کے مختلف رنگوں سے لطف اٹھا رہے ہیں۔
اداکار نے اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجھے اچھا لگتا ہے کہ میں اس دور کا حصہ تھا جب متوازی سینما پروان چڑھ رہا تھا۔‘
انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ فلم بین کیوں ان کے کرداروں کے ساتھ خود کو منسلک کر لیتے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’رجنی گنّدھا، چھوٹی سی بات، چِت چور، باتوں باتوں میں، گول مال، نرم گرم  ان سب میں میَں نے جس ہیرو کا کردار نبھایا، وہ کبھی سیدھے الفاظ میں ‘آئی لو یو’ نہیں کہتا۔ اور یہی چیز ان تمام کرداروں میں مشترک تھی۔‘
’میرا خیال ہے کہ ہر نوجوان لڑکے نے ان کرداروں میں خود کو محسوس کیا۔ میرا خیال ہے کہ میں نے ’گلی محلے کے لڑکے’ والی معصومیت اور نفاست کو کافی اچھے طریقے سے پیش کیا۔ اور ایک مرد کی کمزوری… میں نے جان بوجھ کر اس کمزوری کو برقرار رکھا۔ مجھے ہر کردار میں یہ نرمی اور کمزوری ملی، اور مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنے کرداروں کو بہتر طور پر ادا کیا۔‘
امول پالیکر کی شخصیت کا کوئی ایک تعارف نہیں ہے۔ وہ تھیٹر کی دنیا کا ایک معتبر حوالہ ہیں۔ بڑے پردے پر ان کے کام کو ہمیشہ سراہا گیا۔ ہدایت کاری میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور تو اور چھوٹی سکرین کے لیے بھی کام کیا اور ان سب سے بڑھ کر اپنے جنون یعنی مصوری سے بھی ناتا نہیں توڑا۔
امول پالیکر نے درجن بھر کے قریب فلموں کی ہدایت کاری کی ہے جن میں ’ان کہی‘، ’تھوڑا سا رومانی ہو جائے‘ اور ’پہیلی‘ جیسی فلمیں بھی شامل ہیں۔

امول پالیکر اپنی فکر، اپنی سوچ میں ہمیشہ واضح رہے ہیں جس کا اظہار انہوں نے ایک انٹرویو میں کیا (فوٹو: اے ایف پی)

سال 2005 میں ریلیز ہونے والی فلم ’پہیلی‘ میں شاہ رُخ خان اور رانی مکھرجی نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔
’پہیلی‘ کو 79ویں اکادمی ایوارڈز کے لیے انڈیا کی جانب سے سرکاری طور پر نامزد کیا گیا تھا جب کہ فلم ناقدین کی جانب سے بھی فلم کو سراہا گیا تھا۔
بالی وڈ ہنگامہ سے منسلک معروف نقاد ترن آدرش نے فلم کو پانچ میں سے چار سٹارز دیے تھے اور اپنے تبصرے میں لکھا تھا کہ ’مجموعی طور پر ’پہیلی‘ حالیہ دور میں بنی بہترین فلموں میں سے ایک ہے۔ ایسی فلم ایک بار پھر یہ ثابت کرتی ہے کہ ہمیں بیرونی دنیا (یعنی ہالی وڈ سے) سے تحریک لینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
امول پالیکر نے ایک طویل فنی زندگی گزاری ہے۔ انہوں نے سال 2023 میں فلم ’گل مہر‘ اور ویب سیریز ’فرضی‘ میں کام کیا۔ ان کی خودنوشت ’ویو فائندر‘ گزشتہ برس ہی شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے بہت سے گوشوں سے پردہ اُٹھایا ہے۔
امول پالیکر اپنی فکر، اپنی سوچ میں ہمیشہ واضح رہے ہیں جس کا اظہار انہوں نے خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو ایک انٹرویو میں بھی کیا تھا۔
ان سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ انہوں نے کمرشل سنیما کیوں نہیں کیا تو ان کا جواب تھا کہ انہوں نے کبھی کامیابی کا تعین باکس آفس کی آمدنی سے نہیں کیا۔

نے ایک مشکل راستہ چنا مگر اپنی صلاحیتوں سے یہ ثابت کیا کہ وہ سرتاپا فن کار ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

’آج کے دور میں 100 کروڑ روپے کے کلب میں شامل ہونا معمول بن چکا ہے، اور بات صرف 400 یا 500 کروڑ روپے کی ہوتی ہے۔ سب کچھ صرف تجارتی کامیابی سے پرکھا جاتا ہے۔‘
’میرا ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ جو بھی پیسہ لگائے، آپ نے اگر 5 روپے لگائے اور اس سے 15 روپے کمائے، تو آپ کو خوش ہونا چاہیے۔ لیکن انڈسٹری خوش نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں، صرف 15 کیوں؟ کیوں نہ 150 یا 1500؟‘
انہوں نے اپنی کتاب پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں ایمان داری سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنی ناکامیوں پر نظر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ ہم زیادہ تر اپنی ناکامیوں کو دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ ہم صرف اپنی کامیابیوں کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ میں نے اپنی ناکامیوں کے بارے میں بات کی ہے، اور جب میں ناکامی کے بارے میں بات کرتا ہوں، تو یہ زیادہ تر تخلیقی عمل کے بارے میں ہوتی ہے۔‘
امول پالیکر آج اپنی 81 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ وہ اپنے طویل فنی سفر سے مطمئن ہیں کیوں کہ انہوں نے ایک مشکل راستہ چنا مگر اپنی صلاحیتوں سے یہ ثابت کیا کہ وہ سرتاپا فن کار ہیں اور آج بھی جواں جذبوں کے ساتھ کبھی مصوری کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی تھیٹر اور فلم میں اداکاری کر کے اپنا جی بہلا رہے ہوتے ہیں۔

 

شیئر: