مصر: جڑواں بھائی کی جگہ کام کرنے والا جعلی ڈاکٹر گرفتار، نرس نے راز کیسے فاش کیا؟
دونوں کی شکلیں بہت ملتی تھی جس کی وجہ سے کوئی شناحت نہ کرسکا (فوٹو العربیہ نیٹ)
مصر میں ڈاکٹر جڑواں بھائی کی جگہ دو برس تک سرکاری ہسپتال میں نوکری کرنے والے جعلی ڈاکٹر کا راز نرس نے فاش کردیا۔
العربیہ نیوز کے مطابق مصری کمشنری البحیرہ میں پولیس نے اپنی نوعیت کے انتہائی عجیب وغریب کیس کو بالاخر حل کرلیا جس میں معمولی گریجوٹ پاس 29 سالہ شخص دو برس تک سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر بن کر مریضوں کا علاج کر رہا تھا۔
اپنی نوعیت کے اس منفرد کیس کے حوالے سے پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ کمشنری میں رہنے والے دو جڑواں بھائی جن میں ایک سند یافتہ ڈاکٹر جبکہ دوسرا محض سائنس گریجویٹ تھا ان کی شکل وجسامت ایک دوسرے سے بے حد ملتی تھی۔
ڈاکٹر بھائی کمشنری کے طبی مرکز شبرا خیت میں ملازم تھا جبکہ دوسرا بے روزگار۔ ڈاکٹر کو ایک نجی ہسپتال سے بہتر تنخواہ پر ملازمت کی پیش کش ہوئی جس پر اس نے بغیرتنخواہ کے لمبی چھٹی کی درخواست دی مگرریجنل ڈائریکٹر صحت نے رد کردیا۔
لمبی چھٹی کی درخواست رد ہونے پر دونوں بھائیوں کو ایک خیال آیا انہوں نے اپنی یکساں شکل و قامت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے باہمی طور پر یہ فیصلہ کیا کہ ڈاکٹربھائی نئی نوکری جوائن کرے جبکہ دوسرا اس کی جگہ سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر کے طورپر خدمات انجام دے۔
دونوں نے آپس میں فیصلہ کیا اور اس پر عمل شروع کردیا۔ جڑواں بھائیوں کی شکل اورجسامت اس قدر یکساں تھی کہ ہسپتال کا عملہ اور مریض کوئی بھی فرق محسوس نہ کرسکا۔
جعلی ڈاکٹر دو برس تک اپنے بھائی کی جگہ ملازمت کرتا رہا تاہم ایسے کیسز جن میں کسی قسم کا خطرہ تھا انہیں مصروفیت کا بہانہ بنا کر لینے سے معذرت کردیتا جبکہ معمولی کیسز پر وہ اپنے بھائی سے مشورہ کرتا اور اس کی ہدایات پرعمل کرتا تھا۔
جعل سازی کا یہ کھیل دو برس تک بغیر کسی مشکل کے چلتا رہا مگر ایک روز ڈاکٹر کی نرس کو کسی بات پرشک ہوگیا اور اس نے حقیقت کا کھوج لگا کر متعلقہ ادارے کو اطلاع کردی۔
ہسپتال کی انتظامیہ نے کیس کی باریک بینی سے تحقیقات کرنے کے لیے سپیشل برانچ کی خدمات حاصل کیں جنہوں نے سب سے پہلے جعلی ڈاکٹر سے تحقیقات کی اور حقیقت آشکار ہونے پر اسے گرفتار کرلیا گیا بعدازاں اصلی ڈاکٹر کو بھی حراست میں لے کر ان کے خلاف جعل سازی کا مقدمہ درج کرکے کیس پراسیکیوشن کو بھیج دیا گیا۔
