ہانگ کانگ میں بدترین آگ سے ہلاکتوں کی تعداد 94 ہو گئی، متعدد لاپتا
ہانگ کانگ میں بدترین آگ سے ہلاکتوں کی تعداد 94 ہو گئی، متعدد لاپتا
جمعہ 28 نومبر 2025 7:50
حکام کے مطابق 50 سے زائد افراد ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں جن میں سے 12 کی حالت نازک ہے (فوٹو:اے ایف پی)
ہانگ کانگ کے ایک رہائشی علاقے میں لگنے والی بدترین آگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 94 تک پہنچ گئی ہے اور متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ آگ اس بڑے کمپلیکس کے تقریباً دو ہزار میں سے چار یونٹس تک محدود رہی لیکن اس پر مکمل قابو پانے میں 36 گھنٹے سے زیادہ وقت لگا۔
فائر سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیرک آرمسٹرانگ چن نے بتایا کہ امدادی عملہ مدد کی باقی 25 درخواستوں پر سرچ اور ریسکیو آپریشن جاری رکھے گا اور مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے تک تمام فلیٹس میں داخل ہو کر تلاشی مکمل کرے گا۔
اس وقت 50 سے زائد افراد ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں جن میں سے 12 کی حالت نازک جبکہ 28 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ لاپتا افراد کی صحیح تعداد بدھ کی صبح کے بعد سے اپڈیٹ نہیں کی گئی۔
موقع پر موجود اے ایف پی کے نمائندے نے بتایا کہ ’وانگ فوک کورٹ میں آگ کی شدت اب کافی کم ہو چکی ہے، لیکن عمارت سے دھواں اور چنگاریاں اب بھی اُٹھتی دکھائی دے رہی ہیں۔ فائر فائٹرز عمارت کو ٹھنڈا رکھنے اور دوبارہ آگ بھڑکنے سے روکنے کے لیے مسلسل پانی کا چھڑکاؤ کر رہے ہیں۔‘
حکام نے آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس نے ایک فرم ’پرسٹیج کنسٹرکشن‘ کے دو ڈائریکٹرز اور ایک انجینیئرنگ کنسلٹنٹ کو گرفتار کیا ہے، اس فرم کے ذمے عمارتوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ہے۔
حکام نے آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں (فوٹو: روئٹرز)
پولیس حکام نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے افراد پر ناقص میٹیریل استعمال کرنے کا الزام ہے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔
ایس پی ایلین چنگ نے بتایا کہ ’پولیس نے کمپنی کے دفتر پر چھاپہ مار کر بولی کے عمل کی دستاویزات، ملازمین کی فہرست، 14 کمپیوٹر اور تین موبائل فون ضبط کر لیے ہیں۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ ‘بدھ کو لگنے والی آگ ممکنہ طور پر مرمت کے دوران استعمال ہونے والے غیر محفوظ بانس یا دھات کے عارضی ڈھانچے (سکاڈنگ) اور فوم کی وجہ سے پھیلی۔‘
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی فائر الارم نہیں سُنا اور انہیں خود ہی گھر گھر جا کر لوگوں کو خبردار کرنا پڑا۔
سُوئن نامی رہائشی نے بتایا کہ ’دروازے کی گھنٹی بجانا، دروازے کھٹکھٹانا اور لوگوں کو باہر نکلنے کے لیے کہنا، صورتحال کچھ ایسی ہی تھی۔‘