ہانگ کانگ میں بدترین آگ سے ہلاکتوں کی تعداد 83 ہوگئی، تعمیراتی کمپنی کے مالکان گرفتار
ہانگ کانگ میں بدترین آگ سے ہلاکتوں کی تعداد 83 ہوگئی، تعمیراتی کمپنی کے مالکان گرفتار
جمعرات 27 نومبر 2025 21:00
ہانگ کانگ میں 80 برس کے دوران لگنے والی بدترین آگ کے نتیجے میں 83 افراد کی ہلاکت اور قریباً 300 افراد کے لاپتا ہونے کے بعد پولیس نے جمعرات کے روز ایک تعمیراتی کمپنی کے مالکان کو گرفتار کر لیا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امدادی کارکنوں نے ٹاور کی بالائی منزلوں پر پھنسے ہوئے رہائشیوں کو نکالنے کے لیے ایک روز سے زائد عرصے تک شدید گرمی اور شدید دھوئیں کا مقابلہ کیا۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائر فائٹرز ٹاورز میں جلی ہوئی باقیات کو فلیش لائٹس کی مدد سے تلاش کر رہے ہیں جبکہ ایک پریشان خاتون اپنی بیٹی کی تصویر لیے اُسے پناہ گاہ کے باہر تلاش کر رہی تھی۔
52 برس کی خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ ’میری بیٹی اور اُن کے والد تاحال عمارت سے باہر نہیں آئے۔‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’اِن لوگوں کے پاس ہماری بلڈنگ کو بچانے کے لیے پانی نہیں ہے۔‘
پولیس نے ایک فرم ’پرسٹیج کنسٹرکشن‘ کے دو ڈائریکٹرز اور ایک انجینیئرنگ کنسلٹنٹ کو گرفتار کیا ہے، اس فرم کے ذمے عمارتوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ہے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے افراد پر ناقص میٹیریل استعمال کرنے کا الزام ہے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔
ایس پی ایلین چنگ نے بتایا کہ ’پولیس نے کمپنی کے دفتر پر چھاپہ مار کر بولی کے عمل کی دستاویزات، ملازمین کی فہرست، 14 کمپیوٹر اور تین موبائل فون ضبط کر لیے ہیں۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ ‘بدھ کو لگنے والی آگ ممکنہ طور پر مرمت کے دوران استعمال ہونے والے غیر محفوظ بانس یا دھات کے عارضی ڈھانچے (سکاڈنگ) اور فوم کی وجہ سے پھیلی۔‘
پولیس نے کمپنی کے دفتر پر چھاپہ مار کر دستاویزات، ملازمین کی فہرست، 14 کمپیوٹر اور تین موبائل فون ضبط کر لیے (فائل فوٹو: آئی سٹاک)
ضلع تائی پو میں واقع یہ کمپلیکس دو ہزار اپارٹمنٹس پر مشتمل ہے جن میں چار ہزار 600 سے زیادہ افراد رہائش پذیر ہیں۔
جمعرات کی صبح تک حکام نے چار بلاکس میں آگ پر قابو پالیا جبکہ تین بلاکس میں کارروائیاں جاری رہیں۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کم سے کم 32 منزلہ دو ٹاورز میں شعلے بلند ہو رہے تھے۔
پولیس کے مطابق ’بعض عمارتوں کی کھڑکیاں حفاظتی فوم سے بند تھیں اور کچھ عمارتوں کو تعمیراتی شیٹس اور پلاسٹک سے ڈھانپا گیا تھا جو فائر سٹینڈرڈ کے مطابق نہیں تھا۔‘
سپرنٹنڈنٹ ہانگ کانگ پولیس ایلن چونگ نے بتایا کہ ’ہمارے پاس اس بات پر یقین کرنے کی وجوہات ہیں کہ کمپنی کے ذمہ داران کی سنگین غفلت کی وجہ سے یہ حادثہ ہوا، آگ قابو سے باہر ہو گئی اور بھاری نقصان ہوا۔‘
دو ڈائریکٹرز اور ایک انجینیئرنگ مشیر کو ’غفلت کے باعث قتل‘ کے شُبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔