Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کرپشن کے مقدمات، اسرائیلی وزیراعظم کی صدر سے معافی کی درخواست

نیتن یاہو نے اپنے ویڈیو پیغام میں زور دیا کہ بارہا انتخابات جیت کر وہ عوام کا اعتماد حاصل کر چکے ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کو ملک کے صدر سے اپنی برسوں پر محیط بدعنوانی کے مقدمے میں ملک کے صدر سے معافی کی درخواست کی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نیتن یاہو کا موقف ہے کہ فوجداری کارروائیاں اُن کے فرائض منصبی ادا کرنے میں رکاوٹ بن رہی ہیں اور معافی ملک کے مفاد میں ہو گی۔
نیتن یاہو اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزیراعظم ہیں، رشوت، دھوکہ دہی اور اعتماد شکنی کے الزامات کی طویل عرصے سے تردید کرتے آئے ہیں۔
وکلا نے صدر کے دفتر کو بھیجے گئے خط میں کہا کہ وزیراعظم کو اب بھی یقین ہے کہ قانونی کارروائی اُن کی مکمل بریت پر منتج ہو گی۔
اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی جماعت لیکوڈ کی جانب سے جاری ایک مختصر ویڈیو بیان میں کہا کہ ’میرے وکلا نے آج صدرِ مملکت کو معافی کی درخواست بھیجی ہے۔ میں توقع کرتا ہوں کہ جو بھی ملک کی بہتری چاہتا ہے، اس اقدام کی حمایت کرے۔‘
صدر آئزک ہرزوگ کے دفتر نے اتوار کو درخواست موصول ہونے کی تصدیق کی اور وکلا کا خط جاری کیا۔
اسرائیلی صدر کے دفتر کے مطابق یہ درخواست حسبِ معمول قانونی رائے کے حصول کے لیے وزارتِ انصاف کو بھیجی جائے گی، جسے بعدازاں صدر کے قانونی مشیر کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ وہ صدر کے لیے سفارش تیار کر سکیں۔
اسرائیل کے وزیرِ انصاف یاریو لیون، نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے رکن اور وزیراعظم کے قریبی ساتھی ہیں۔
خط میں نیتن یاہو کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ اُن کے خلاف فوجداری کارروائیوں نے معاشرتی تقسیم کو گہرا کیا ہے اور قومی مفاہمت کے لیے مقدمے کا خاتمہ ضروری ہو گیا ہے۔
اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت میں بار بار حاضری دینا وزیراعظم کے فرائض منصبی ادا کرنے پر بوجھ بن چکا ہے۔
نیتن یاہو نے ویڈیو بیان میں کہا کہ ’مجھے ہر ہفتے تین بار عدالت میں گواہی دینا پڑتی ہے، یہ ایک ناممکن مطالبہ ہے جو کسی اور شہری سے نہیں کیا جاتا۔‘
اُنہوں نے زور دیا کہ بارہا انتخابات جیت کر وہ عوام کا اعتماد حاصل کر چکے ہیں۔
نہ تو وزیراعظم اور نہ ہی اُن کے وکلا نے کسی قسم کی جرم کا اعتراف کیا ہے۔ اسرائیل میں روایتی طور پر معافی صرف اس وقت دی جاتی ہے جب قانونی کارروائی مکمل ہو جائے اور ملزم کو سزا سنا دی جائے۔
نیتن یاہو کے وکلا کا کہنا ہے کہ صدر عوامی مفاد کے تحت مداخلت کر سکتے ہیں، خصوصاً اس صورت حال میں، تاکہ تقسیم ختم ہو اور قومی اتحاد مضبوط ہو۔
حزبِ اختلاف کے رہنما یائر لاپڈ نے بیان میں کہا کہ نیتن یاہو کو اعترافِ جرم، نادم ہونے کے اظہار اور فوری طور پر سیاست سے ریٹائرمنٹ کے بغیر معافی نہیں دی جانی چاہیے۔

 

شیئر: