Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے مشرق وسطیٰ میں کن اہداف کو نشانہ بنایا؟

خلیج کے خوشحال ممالک کے بڑے شہروں کی فضا سنیچر کو اس وقت زور دار دھماکوں سے گونج اٹھی جب ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد جوابی کارروائیاں شروع کیں۔ اس کے نتیجے میں وسیع تر علاقائی جنگ کے خدشات شدت اختیار کر گئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی عرب نے تصدیق کی کہ ایران نے دارالحکومت ریاض اور مشرقی علاقوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ’مملکت اپنی سلامتی، اپنی سرزمین، شہریوں اور مقیم غیرملکیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی، بشمول جارحیت کا جواب دینے کا حق استعمال کرنے کے۔‘
دبئی کی پُرتعیش علاقے پام جمیرہ سے دھواں اور شعلے بلند ہوتے دیکھے گئے، جبکہ شہری تنصیبات کے ساتھ ساتھ خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
خلیج کے مختلف علاقوں میں آسمان پر میزائلوں کی چمکتی لکیریں دکھائی دیں، جن میں سے کئی کو فضا ہی میں مار گرایا گیا۔ تاہم عینی شاہدین کے مطابق ابوظبی اور منامہ میں واقع امریکی اڈوں سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا، جہاں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا تعینات ہے۔
حکام نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں گرنے والے ملبے سے ایک پاکستانی شہری ہلاک ہو گیا۔
منامہ کے علاقے جفیر میں امریکی اڈے کے قریب رہائش پذیر 50 سالہ ریٹائرڈ شہری نے بتایا کہ ’پہلے دھماکے کی آواز نے مجھے شدید خوف میں مبتلا کر دیا۔‘ واقعے کے فوراً بعد مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں نے خبردار کیا کہ وہ ان حملوں کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ ریاض نے ان کارروائیوں کو ’بلا جواز جارحیت‘ قرار دیا ہے۔
دونوں ممالک کو اس اعلان کے باوجود نشانہ بنایا گیا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے اپنی سرزمین امریکی افواج کو استعمال نہیں کرنے دیں گے۔
خلیج میں یہ تصادم غیرمعمولی سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ خطہ استحکام کی شہرت کے باعث مشرقِ وسطیٰ کا اہم تجارتی اور سفارتی مرکز بن چکا ہے۔

دھوئیں کے بادل اور بند فضائی حدود

غیرمعمولی میزائل حملوں میں قطر کو بھی شدید نشانہ بنایا گیا، جہاں خطے کا سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ قائم ہے، اس کے علاوہ ریاض، مشرقی سعودی عرب اور کویت بھی زد میں آئے۔
متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت نے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کر دیا۔
خلیج بھر میں فوجی سرگرمیاں نمایاں رہیں۔ قطر میں ایک صحافی نے سفید دھوئیں کے بادل میں ایک میزائل کو تباہ ہوتے دیکھا، جبکہ دبئی میں پیٹریاٹ دفاعی نظام کے میزائل فضا میں بلند ہوتے دکھائی دیے۔
دبئی کے میڈیا دفتر کے مطابق پام جمیرہ میں پیش آنے والے واقعے میں چار افراد زخمی ہوئے، جبکہ دنیا کی بلند ترین عمارت کے شہر میں دن اور رات بھر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
دوحہ بھی کئی میزائل حملوں سے لرز اٹھا۔ قطری وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ اس نے ’متعدد حملے ناکام بنا دیے‘، جبکہ حکام نے بحری آمدورفت عارضی طور پر معطل کرنے کی اطلاع دی۔
قطر میں واقع العدید فضائی اڈہ امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) کا علاقائی ہیڈکوارٹر ہے، جہاں امریکی فضائی اور خصوصی آپریشنز فورسز بھی تعینات ہیں۔ گذشتہ برس جون میں ایران نے اسرائیل کے ساتھ مختصر جنگ کے دوران ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد اسی اڈے کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا۔

’کھلی جارحیت‘ قرار

متحدہ عرب امارات نے ان حملوں کو ’خطرناک کشیدگیقرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے کئی میزائل تباہ کر دیے۔
اماراتی وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا کہ ’آج متحدہ عرب امارات کو ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے کھلے حملے کا سامنا کرنا پڑا،‘ اور دعویٰ کیا گیا کہ دفاعی نظام نے ’انتہائی مؤثر کارکردگی‘ کا مظاہرہ کیا۔
ابوظبی میں واقع الظفرہ فضائی اڈے پر بھی امریکی افواج تعینات ہیں، جہاں عینی شاہدین نے دھواں اٹھتے دیکھا۔
کویت میں ایک ایرانی میزائل حملے سے اس فضائی اڈے کے رن وے کو نمایاں نقصان پہنچا جہاں اطالوی فضائیہ کا عملہ موجود تھا۔ حکام کے مطابق کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک ڈرون گرنے سے چند ملازمین معمولی زخمی بھی ہوئے۔
خلیج میں مقیم بڑی تعداد میں تارکینِ وطن اور مقامی شہری اس صورت حال پر صدمے کا شکار دکھائی دیے۔

 

شیئر: