پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاج، کراچی میں امریکی قونصل خانے پر دھاوا، نو افراد ہلاک
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔
کراچی میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان اس وقت شدید جھڑپیں ہوئیں جب مظاہرین امریکی قونصل خانے کی بیرونی دیوار توڑ کر اندر داخل ہو گئے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق احتجاج کے دوران 9 افراد فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس کا کہنا ہے کہ ریڈ زون کی طرف جانے والے تمام راستے، جہاں سفارتی مشنز اور پارلیمنٹ واقع ہیں، ٹریفک اور عوامی نقل و حرکت کے لیے مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔
مظاہرین کی جانب سے اسلام آباد ریڈ زون میں داخلے کی کوشش کے دوران پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس سے شیلنگ بھی کی ہے۔
مزید پڑھیں
کراچی میں جائے وقوعہ سے ملنے والی ویڈیوز میں پولیس کو مظاہرین پر آنسو گیس کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جو اس انتہائی محفوظ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
سندھ حکومت کے ترجمان کے مطابق کراچی میں مظاہرین نے مرکزی دروازے کے باہر ایک گاڑی کو آگ لگا دی اور پولیس کے ساتھ دست بدست لڑائی کی جس کے بعد انہیں قونصل خانے سے پیچھے دھکیل دیا گیا۔
روئٹرز کے نامہ نگاروں نے عمارت کے گرد و نواح میں فائرنگ کی آوازیں سنیں اور گلیوں میں آنسو گیس کے شیل گرتے دیکھے۔ ویڈیو فوٹیج میں ایک قریبی پل کے نیچے لگی آگ بھی دکھائی دے رہی ہے۔
تاہم گلیوں میں ہونے والی جھڑپوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ کراچی میں امریکی قونصل خانے اور اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے پریس آفس نے تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔
پاکستان کے دیگر حصوں میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ شمالی شہر سکردو میں جو کہ ایک پرامن شیعہ اکثریتی علاقہ ہے، مظاہرین نے اقوام متحدہ کے ایک دفتر کو آگ لگا دی۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان شبیر میر نے روئٹرز کو بتایا ’مظاہرین کی ایک بڑی تعداد جی بی (گلگت بلتستان) میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر جمع ہوئی اور عمارت کو نذر آتش کر دیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اس سے قبل دن میں لاہور میں بھی سینکڑوں مظاہرین امریکی قونصل خانے کے باہر جمع ہوئے۔ وہاں پولیس کے ساتھ معمولی جھڑپیں ہوئیں لیکن تشدد کی کوئی بڑی اطلاع نہیں ملی۔
ایک عینی شاہد عقیل رضا نے روئٹرز کو بتایا کہ ’کچھ مظاہرین نے قونصل خانے سے کئی سو گز دور سکیورٹی گیٹ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے طاقت کا استعمال کیے بغیر انہیں روک دیا۔‘
