ایک ساتھ سفر اور ایک ساتھ موت، گاڑی کی ٹکر سے مرنے والی ’لڑکیاں بااختیار بننا چاہتی تھیں‘
ایک ساتھ سفر اور ایک ساتھ موت، گاڑی کی ٹکر سے مرنے والی ’لڑکیاں بااختیار بننا چاہتی تھیں‘
بدھ 3 دسمبر 2025 18:27
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
تابندہ بتول کے والد نے بتایا کہ ’ان کی بیٹی نے تین ماہ قبل ہی سکوٹی خریدی تھی‘ (فائل فوٹو: اسلام آباد پولیس)
’وہ ہماری زندگی کی روشنی تھی، بیٹی کی شکل میں میرا بیٹا، میرا سب کچھ، میرا مان۔ اس کی موجودگی ہمارے لیے بڑا سہارا تھی، مگر آج یقین نہیں آرہا کہ وہ ہمارے درمیان نہیں رہی۔‘
یہ کہنا ہے کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب گاڑی کی ٹکر سے مرنے والی 26 سال کی تابندہ کے والد غلام مہدی کا۔
تابندہ گذشتہ چند برسوں سے (پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس) پی این سی اے میں ایک نجی کمپنی کے ساتھ ایونٹ مینجمنٹ کا کام کر رہی تھیں۔
وہ وفاقی دارالحکومت کے سیکریٹیریٹ چوک کے قریب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد آصف کے کم عمر بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں، اُن کے ساتھ سکوٹی پر سوار دوسری لڑکی بھی دم توڑ گئی۔
تابندہ کے والد نے مزید بتایا کہ ’میری اہلیہ، بیٹی کی ناگہانی موت کے بعد ایک لفظ بھی نہیں بول رہیں، اور میں خود کو بھی حوصلہ دینے کی ناکام کوشش کر رہا ہوں۔‘
غلام مہدی نے اردو نیوز کو بتایا کہ پیر کی شب تین بجے انہیں فون کال موصول ہوئی کہ ان کی بیٹی کا حادثہ ہو گیا ہے اور وہ پمز ہسپتال میں ہیں۔ ان کے مطابق ’اس خبر کے بعد سے مجھے اب تک صحیح نیند نہیں آئی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ یہ اطلاع ملتے ہی میں اور میری اہلیہ فوری طور پر ہسپتال پہنچے، لیکن میں وہاں کا منظر بیان نہیں کر سکتا، کیونکہ تب تک میری بیٹی اور اس کی سہیلی دونوں زندگی کی بازی ہار چُکی تھیں۔
تابندہ بتول نے کوئی تین ماہ قبل اپنی سکوٹی خریدی تھی، کیونکہ وہ بااختیار خاتون بننا چاہتی تھیں۔ وہ سکوٹی پر ہی اپنے دفتر کی ساتھی اور دوست ثمرین حسین کے ساتھ آتی جاتی تھیں، یہ سفر ان کے لیے نسبتاً آسان اور محفوظ تھا مگر اُن کے بااختیار بننے کا سفر صرف تین ماہ ہی چل سکا۔
غلام مہدی کے مطابق ان کی بیٹی بعض اوقات رات کو تاخیر سے گھر پہنچتی تھی، لیکن ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا تھا۔ جس دن یہ واقعہ ہوا اس روز وہ ایک ایونٹ کی وجہ سے لیٹ ہو گئی۔
تابندہ بتول نے پنجاب گروپ آف کالج سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا تھا، اور اس کے بعد تعلیم کا سفر جاری نہ رکھ سکیں، بلکہ اپنے والد کا سہارا بننے کے لیے انہوں نے ملازمت شروع کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی کارروائی کو قانونی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ان کے والد ایک سرکاری ملازم ہیں اور صرف تنخواہ میں ان کا گزر اوقات مشکل تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میری بیٹی میرا دایاں بازو تھی اور اس نے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر ہمارا گزر بسر آسان کر دیا تھا۔‘
تابندہ بتول اگرچہ اُن کی چھوٹی بیٹی تھیں، لیکن سمجھ داری میں وہ گھر کی بڑی سمجھی جاتی تھیں۔غلام مہدی کا کہنا ہے کہ ’یقین نہیں آرہا کہ جس بیٹی انہوں نے پال پوس کر بڑا کیا وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہی۔‘
کیس کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’میں ںے دوسری ایف آئی آر درج کروانے کے لیے تھانے میں درخواست دی تو پولیس نے کہا کہ فی الحال دوسری ایف آئی آر کی ضرورت نہیں، تاہم تھانہ سیکریٹیریٹ کی پولیس نے تعاون کیا ہے، اور امید ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا۔‘
حادثے میں تابندہ بتول کے ساتھ جان کی بازی ہارنے والی 27 برس کی ثمرین حسین کے بھائی عدنان تجمل نے بتایا کہ ان کی ہمشیرہ ایونٹ کے بعد چند روز چھٹیاں لے کے اپنی نیند پوری کرنا چاہتی تھیں، لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔
ثمرین پی این سی اے میں ایک نجی کمپنی کے ساتھ صرف ایک ماہ سے ایونٹ مینجمنٹ کا کام کر رہی تھیں۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد انہوں نے انٹیریئر ڈیزائننگ کا کورس کیا تھا۔انہوں نے اپنے بڑے بھائی سے ضد کر کے ملازمت کرنے کی اجازت حاصل کی تھی۔
مرنے والی لڑکی کے بھائی نے الزام لگایا کہ پولیس نے انہیں سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم نہیں کی (فائل فوٹو: آئی سٹاک)
عدنان تجمل نے پولیس کی تحقیقات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر میں ان کے مطالبے کے باوجود ملزم اور اس کے والد کا نام شامل نہیں کیا گیا۔
’پولیس نے جائے وقوعہ سے نشانات بھی ختم کر دیے ہیں، اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی تاحال فراہم نہیں کی گئی۔ اب وہ ملزم کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد کیس کا جائزہ لیں گے۔‘
دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے دفعہ 322 پی پی سی (قتل بالسبب) ، دفعہ 279 پی پی سی (بے پروائی سے گاڑی چلانا) اور دفعہ 427 کے تحت ایف آئی آر درج کر کے ملزم کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر رکھا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس کو قانونی تقاضوں کے مطابق دیکھا جا رہا ہے جس کے مطابق ہی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔