Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلام آباد: جج کے کم عمر بیٹے کی گاڑی کی ٹکر، سکوٹی پر سوار دو لڑکیوں کی موت

پولیس نے ملزم کو عدالت میں پیش کیا جہاں اس کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا (فائل فوٹو: پِکس ہیئر)
اسلام آباد میں دو کم عمر لڑکیوں کی ہلاکت کے دلخراش واقعے کے بعد اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پولیس نے ایک کم عمر ملزم ابوذر کو مقامی عدالت میں پیش کردیا۔ 
پولیس نے عدالت سے چار روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی جسے منظور کرتے ہوئے عدالت نے ملزم کو مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کیا۔
واقعے سے متعلق درج ایف آئی آر کے مطابق گاڑی چلانے والے شخص کی شناخت ابوذر کے طور پر کی گئی ہے، جو مبینہ طور پر پارکنگ ایریا سے گاڑی نکالتے ہوئے تیز رفتاری اور غفلت کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ 
پولیس حکام کے مطابق ’ملزم اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کا بیٹا ہے جس کی عمر نادرا کے ریکارڈ کے مطابق 16 برس ہے۔‘
تفتیشی افسر ایس آئی محمد اصغر نے ایف آئی آر میں لکھا کہ ’تیز رفتاری کے باعث گاڑی بے قابو ہو کر سکوٹی پر سوار دو لڑکیوں سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئیں۔ دونوں بچیوں کو فوری طور پر پمز ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے موقعے پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کیے۔وہاں موجود ویڈیو اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے۔ 
تفتیشی ٹیم کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت گاڑی کی رفتار معمول سے کہیں زیادہ تھی اور ڈرائیور پارکنگ میں گاڑی چلاتے ہوئے حفاظتی اُصولوں کی پابندی نہیں کر رہا تھا۔ پولیس نے موقع سے گاڑی قبضے میں لے کر اسے فورینزک معائنے کے لیے بھجوا دیا ہے۔

پولیس کے مطابق ’فورینزک رپورٹ، ویڈیوز اور دیگر شواہد کی بنیاد پر مقدمہ آگے بڑھایا جائے گا‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو جائے وقوعہ سے ہی حراست میں لے کر اس کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 322، 279 اور 427 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ 
عدالت میں پیشی کے دوران پولیس نے موقف اختیار کیا کہ حادثے کی وجوہات، ملزم کی مبینہ غفلت، تیز رفتاری اور دیگر پہلوؤں کی تحقیقات کے لیے جسمانی ریمانڈ ناگزیر ہے۔ 
عدالت نے پولیس کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے ملزم کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
پولیس کے مطابق معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور فورینزک رپورٹ، موقعے کی ویڈیوز اور دیگر شواہد کی بنیاد پر مقدمہ آگے بڑھایا جائے گا تاکہ واقعے کو مکمل طور پر واضح کیا جا سکے اور قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے۔

 

شیئر: