Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

زیادہ فیسوں کی وصولی، اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن

وزارت کے مطابق موجودہ ضابطوں کے تحت او ای پی بیرون ملک ملازمت کے لیے منتخب امیدوار سے زیادہ سے زیادہ 15 ہزار روپے بطور سروس فیس وصول کر سکتا ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
پاکستان کی وزارت برائے اوورسیز پاکستانی و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ نے بیرون ملک روزگار کے خواہش مند پاکستانیوں سے مقررہ حد سے زیادہ رقوم وصول کرنے والے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز (او ای پیز) کے خلاف ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی ہیں۔
اردو نیوز کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق گذشتہ کچھ عرصے میں 826 او ای پیز کے لائسنس منسوخ کیے گئے، 99 لائسنس معطل ہوئے، جبکہ قواعد کی خلاف ورزی پر 15 کروڑ 24 لاکھ 86 ہزار روپے ریاست کے حق میں ضبط کیے گئے۔
اس کے ساتھ ساتھ زائد فیسوں اور بدعنوانی کے مختلف مقدمات میں 850 کیسز وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حوالے کیے گئے تاکہ ان میں ممکنہ مجرمانہ عناصر کی آزادانہ تفتیش کی جا سکے۔
وزارت اوورسیز کے مطابق ’امیگریشن آرڈیننس 1979‘ اور ’امیگریشن رولز 1979‘ اگرچہ بینکنگ چینلز کے استعمال کو لازمی قرار نہیں دیتے، تاہم قواعد واضح طور پر اس امر کے پابند بناتے ہیں کہ او ای پیز صرف انتخاب کے بعد امیدوار سے اصل اور ضروری اخراجات وصول کر سکتے ہیں اور اس کے بدلے دستخط شدہ رسید، دفتر کی مہر اور مناسب ریونیو سٹیمپ فراہم کرنا ضروری ہے۔‘
وزارت کے مطابق ممنوعہ یا اضافی رقوم وصول کرنا نہ صرف قواعد کی خلاف ورزی ہے بلکہ امیگریشن آرڈیننس کے تحت قابل سزا جرم ہے، جس پر لائسنس منسوخی اور مالی جرمانے دونوں عائد ہو سکتے ہیں۔
وزارت نے وضاحت کی کہ موجودہ ضابطوں کے تحت او ای پی بیرون ملک ملازمت کے لیے منتخب امیدوار سے زیادہ سے زیادہ 15 ہزار روپے بطور سروس فیس وصول کر سکتا ہے، جبکہ ویزا، میڈیکل، ٹکٹ، لیوی اور سرکاری فیسیں اصل اخراجات کے طور پر علیحدہ شامل ہوتی ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی امیدوار اپنی کوشش سے بیرون ملک ملازمت حاصل کرے اور صرف پروٹیکٹریٹ یا پراسیسنگ کے لیے او ای پی کی خدمات حاصل کرے تو وہ زیادہ سے زیادہ چھ ہزار روپے وصول کر سکتا ہے۔ حکومت نے واضح کیا کہ اس سے ایک روپیہ بھی زائد چارج کرنے کی اجازت نہیں، اور زائد فیس لینا اوورچارجنگ کے زمرے میں آتا ہے۔
وزارت نے مزید بتایا کہ اگر کوئی امیدوار بیرون ملک ملازمت نہ حاصل کر سکے تو او ای پی پر لازم ہے کہ پوری رقم چیک یا بینک ڈرافٹ کے ذریعے واپس کرے۔
بیورو آف امیگریشن کے مطابق شکایات منیجمنٹ سسٹم کے ذریعے انہیں موصول ہونے والی شکایات پر فوری کارروائی کی جاتی ہے اور یہ نظام او ای پیز کی مالی بے ضابطگیوں کے خلاف مؤثر آڈٹ اور نگرانی فراہم کرتا ہے۔

وزارت نے بتایا کہ اگر کوئی امیدوار بیرون ملک ملازمت نہ حاصل کر سکے تو او ای پی پر لازم ہے کہ پوری رقم چیک یا بینک ڈرافٹ کے ذریعے واپس کرے۔ (فائل فوٹو: ایشین ٹالکز)

وزارت نے آگاہ کیا کہ امیدواروں کے لیے لازمی ’پری ڈپارچر‘ بریفنگ سیشنز، فیسوں سے متعلق آگاہی، حقوق کی وضاحت، اور جعلی ایجنٹس سے بچاؤ کے بارے میں رہنمائی بھی نظام کا حصہ بنا دی گئی ہے۔
وزارت کے مطابق ایف آئی اے کے ساتھ قریبی رابطہ بھی رکھا جا رہا ہے تاکہ سب ایجنٹس، جعلی پروموٹرز اور غیرقانونی بھرتی کے نیٹ ورکس کے خلاف بروقت کارروائی ہو سکے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات مشترکہ طور پر ایک زیادہ شفاف، محفوظ امیگریشن نظام کی تشکیل کی جانب پیش رفت ہیں، جہاں امیدوار مالی استحصال، غلط رہنمائی اور غیرقانونی کٹوتیوں سے محفوظ رہیں۔

 

شیئر: