کراچی میں گاڑیاں چھیننے والا ’لاشاری گروپ‘ کوئٹہ میں ’پولیس مقابلے میں ہلاک‘
کراچی میں گاڑیاں چھیننے والا ’لاشاری گروپ‘ کوئٹہ میں ’پولیس مقابلے میں ہلاک‘
جمعرات 4 دسمبر 2025 11:10
زین الدین احمد -اردو نیوز، کوئٹہ
پولیس کے مطابق گروہ گاڑیاں چوری کرکے بلوچستان منتقل کرتا تھا (فوٹو: اردو نیوز)
کوئٹہ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں سے گاڑیاں چھیننے والے گروہ کے تین ارکان کوئٹہ میں ایک پولیس مقابلے میں مارے گئے ہیں۔
ایس ایچ او جناح ٹاؤن ظہور احمد کے مطابق سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے اہکاروں اور ملزمان کے درمیان جناح ٹاؤن تھانے کی حدود میں سی پیک روڈ پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
اس مقابلے میں تین افراد مارے گئے جبکہ دو فرار ہوگئے۔ لاشیں سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت ساجد حسین، محمد پناہ اور شہزاد علی کے نام سے ہوئی ہے جو بلوچستان کے ضلع جھل مگسی اور بلوچستان سے ملحقہ سندھ کے علاقے جیکب آباد کے رہائشی تھے۔
کوئٹہ پولیس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اُردو نیوز کو بتایا کہ ’یہ افراد ایک بین الصوبائی جرائم پیشہ گروہ لاشاری گروپ سے تعلق رکھتے تھے جو سندھ اور پنجاب میں پولیس کو گاڑیاں چھیننے، چوری اور ڈکیتی کے 172 مقدمات میں مطلوب تھے۔‘
پولیس کے مطابق یہ گروہ کراچی، سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں سے گاڑیاں چوری کرکے مختلف راستوں سے بلوچستان منتقل کرتا تھا جہاں انہیں ایک دوسرے گروہ کے ذریعے فروخت کیا جاتا تھا۔
لین دین وٹس ایپ گروپس اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے کیا جاتا تھا تاکہ اس کا سراغ نہ لگایا جا سکے۔
پولیس نے بتایا کہ اب تک اس گروہ سے 26 گاڑیاں کوئٹہ سے برآمد کی جا چکی ہیں جن میں سے زیادہ تر کراچی سے چھینی گئی تھیں۔
پولیس نے بتایا کہ اب تک اس گروہ سے 26 گاڑیاں کوئٹہ سے برآمد کی جا چکی ہیں (فوٹو: گیٹی امیجز)
ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت نے گزشتہ ہفتے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ کراچی سمیت سندھ اور دیگر صوبوں سے شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ وہاں سے چوری اور چھینی گئی گاڑیاں بلوچستان میں فروخت کی جا رہی ہیں۔
ان کے بقول ان شکایات کی روشنی میں سیریس کرائمز انویسٹی گیشن ونگ کو ٹاسک دیا گیا جس نے تین ہفتے سے زائد مانیٹرنگ اور انٹیلی جنس معلومات کے بعد ایک بڑا آپریشن کیا۔ اس دوران 20 گاڑیاں برآمد کی گئیں اور چار افراد گرفتار ہوئے۔
پولیس حکام نے انکشاف کیا تھا کہ یہ گروہ واٹس ایپ گروپس اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے گاڑیوں کی خرید و فروخت کرتا تھا اور خریداروں کو یہ تاثر دیتا تھا کہ گاڑیاں بینک کی نادہندہ ہیں جبکہ اصل میں یہ تمام گاڑیاں چوری شدہ یا چھینی گئی تھیں۔
ایف آئی آر کے مطابق واقعہ کیسے پیش آیا؟
کوئٹہ کے پولیس تھانہ جناح ٹاؤن میں درج ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی کہ لاشاری گروپ کے پانچ افراد بائی پاس روڈ سے کوئٹہ کی طرف آرہے ہیں۔ اطلاع ملنے پر رات 2 بجے پولیس نے سمنگلی روڈ پر ناکہ بندی کی۔
پولیس کے مطابق لین دین وٹس ایپ گروپس اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے کیا جاتا تھا تاکہ اس کا سراغ نہ لگایا جا سکے (فوٹو: اردو نیوز)
’رات تین بج کر 10 منٹ پر خروٹ آباد کی طرف سے آنے والی ایک گاڑی کو روکنے کا اشارہ کیا گیا جس پر گاڑی میں موجود افراد نے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی اور گاڑی بھگا کر زیر تعمیر سی پیک روڈ کی طرف نکل گئے۔‘
ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے تعاقب کیا، اس دوران ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کی جن میں سے کئی گولیاں پولیس اہلکاروں کی بلٹ پروف جیکٹس پر بھی لگیں۔ گاڑی آگے جا کر رکی، اس میں سوار پانچ افراد نیچے اُترے اور پولیس پر مسلسل فائرنگ کرتے رہے۔ پولیس نے جوابی فائرنگ کی۔
ایف آئی آر کے مطابق کچھ دیر بعد جب فائرنگ کا سلسلہ تھما تو تین افراد کی لاشیں زمین پر پڑی تھیں جو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے جبکہ دو مسلح ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوگئے۔
ہلاک افراد سے پستول، موبائل فون، نقدی اور گاڑی کے کاغذات برآمد ہوئے۔
ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہلاک اور فرار ہونے والے ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ، کار سرکار میں مزاحمت اور اپنے ساتھیوں کو قتل کر کے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا۔