علاقائی ترجیحات، یورپ اور تارکین: صدر ٹرمپ کی قومی سلامتی کی نئی حکمتِ عملی
علاقائی ترجیحات، یورپ اور تارکین: صدر ٹرمپ کی قومی سلامتی کی نئی حکمتِ عملی
جمعہ 5 دسمبر 2025 17:00
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر آمد کا خاتمہ ہونا چاہیے۔‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو امریکی خارجہ پالیسی کی ازسرِنو ترتیب کرتے ہوئے ایک نئی حکمت عملی پیش کر دی ہے۔ اس کے تحت عالمی کے بجائے علاقائی ترجیحات پر زور دیا گیا ہے، جبکہ یورپ کو ’تہذیبی تباہی‘ کے خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے اور تارکین وطن کی آمد کے خاتمے کو اولین ترجیح بنایا گیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قومی سلامتی کی نئی حکمتِ عملی، جو ٹرمپ کے روایات شکن نقطۂ نظر کی وضاحت کرتی ہے، لاطینی امریکہ کو امریکی ایجنڈے کی سرفہرست میں لاتے ہوئے ایک نمایاں تبدیلی کا اعلان کرتی ہے۔ یہ برسوں سے ابھرتے ہوئے چین کا مقابلہ کرنے کے لیے ایشیا پر توجہ مرکوز کرنے کی امریکی پالیسی سے ہٹ کر ہے۔
صدر ٹرمپ نے طویل عرصے سے زیرِتکمیل اس دستاویز کے دیباچے میں کہا ہے کہ ’ہم جو بھی کرتے ہیں، امریکہ کو پہلے رکھ رہے ہیں۔‘
دہائیوں سے واحد سپر پاور بنے رہنے کی کوششوں سے ہٹتے ہوئے حکمتِ عملی میں کہا گیا کہ ’امریکہ دنیا پر غلبے کے ناکام تصور کو مسترد کرتا ہے۔‘
دستاویز کے مطابق امریکہ دیگر طاقتوں، خصوصاً چین، کو بھی غلبہ حاصل کرنے سے روکے گا، مگر یہ بھی کہا کہ ’اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دنیا کی تمام بڑی اور ابھرتی طاقتوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے خون اور دولت ضائع کریں۔‘
حکمتِ عملی میں ’نیم کرۂ ارض (شمالی، سینٹرل اور جنوبی امریکہ) میں فوری خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکی فوج کی عالمی موجودگی کی ازسرِنو ترتیب‘ کی ضرورت پر زور دیا گیا، جس کی ابتدا تارکین وطن کے مسئلے سے ہو گی۔
دستاویز کے مطابق ’تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر آمد کا خاتمہ ہونا چاہیے۔‘
حکمتِ عملی میں واضح کیا گیا کہ یورپ میں بھی امریکہ ٹرمپ کے دور میں وہی سخت مقاصد اپنائے گا، جو اکثر دائیں بازو کی جماعتوں کے منشور سے مطابقت رکھتے ہیں۔
اپنے قریبی اتحادیوں کے بارے میں غیرمعمولی الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا گیا کہ انتظامیہ یورپی ممالک کے اندر ’یورپ کی موجودہ سمت کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے‘ کی کوشش کرے گی۔
تاہم جرمنی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے کسی ’بیرونی مشورے‘ کی ضرورت نہیں۔
دستاویز میں یورپ کی عالمی معیشت میں کم ہوتی حصے داری، جو بنیادی طور پر چین اور دیگر ابھرتی معیشتوں کے عروج کا نتیجہ ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’اس معاشی زوال سے بھی زیادہ سنگین خطرہ تہذیبی تباہی کا ہے۔‘
حکمتِ عملی کے مطابق ’اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو 20 برس یا اس سے بھی کم عرصے میں براعظم پہچانا نہیں جائے گا۔‘
ایک ایسے وقت میں جب صدر ٹرمپ یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششیں کر رہے ہیں جس سے روس کو ممکنہ طور پر علاقائی فائدہ پہنچ سکتا ہے، امریکہ کی نئی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں یورپی ممالک پر کمزوری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکہ کو ’نیٹو کو ہمیشہ پھیلتے ہوئے اتحاد کے طور پر دیکھنے کے تاثر کے خاتمے اور اس حقیقت کو روکنے‘ پر توجہ دینی چاہیے۔
’منرو ڈاکٹرائن‘ کی نئی تشریح
جنوری میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے صدر ٹرمپ نے تارکین وطن کی آمد پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ ان کا سیاسی کیریئر زیادہ تر سفید فام آبادی کی حیثیت کھونے کے خوف پر مبنی بیانیے سے جڑا رہا ہے۔
حکمتِ عملی میں لاطینی امریکہ میں امریکی غلبے کو نمایاں طور پر آگے بڑھانے کی بات کی گئی ہے، جہاں ٹرمپ انتظامیہ سمندر میں مبینہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے، وینیزویلا سمیت بائیں بازو کے رہنماؤں کو ہٹانے کے لیے مداخلت کر رہی ہے اور پاناما نہر جیسے کلیدی وسائل پر اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششیں کر رہی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ لاطینی امریکہ میں مبینہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ (فوٹو: ٹرمپ ٹروتھ)
دستاویز میں ٹرمپ کو دو صدی پرانی ’منرو ڈاکٹرائن‘ کی جدید شکل دینے والا قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ہم منرو ڈاکٹرائن پر ’ٹرمپ ضمیمہ‘ نافذ کریں گے اور عمل درآمد کرائیں گے۔‘
حکمتِ عملی میں مشرقِ وسطیٰ کو نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے، جو طویل عرصے سے واشنگٹن کی اولین ترجیح رہا ہے۔
مقامی توانائی پیداوار بڑھانے کے تناظر میں کہا گیا کہ ’مشرقِ وسطیٰ پر امریکہ کی تاریخی توجہ کم ہوتی جائے گی۔‘
اس میں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی ترجیح قرار دیا گیا ہے، تاہم الفاظ ٹرمپ کے پہلے دور کے مقابلے میں نسبتاً کم پرجوش ہیں۔
چین پھر بھی حریف
چین کے حوالے سے حکمتِ عملی میں ’آزاد اور کھلا‘ ایشیا پیسیفک کے مطالبات دہرائے گئے، مگر اس بار توجہ زیادہ تر چین کو معاشی حریف کے طور پر پیش کرنے پر رہی ہے۔
طویل قیاس آرائی کے بعد بھی حکمتِ عملی نے واضح کیا کہ امریکہ تائیوان کے حوالے سے عشروں پرانے سٹیسس کو برقرار رکھے گا، تاہم جاپان اور جنوبی کوریا پر زور دیا کہ وہ تائیوان کے دفاع کے لیے زیادہ کردار ادا کریں۔
افریقہ پر توقع کے مطابق کم توجہ دی گئی اور کہا گیا ہے کہ امریکہ کو ’لبرل نظریے‘ اور ’امداد پر مبنی تعلق‘ سے ہٹ کر بنیادی وسائل کی حفاظت جیسے مقاصد کو ترجیح دینی چاہیے۔
نئی حکمت عملی میں اس بار توجہ زیادہ تر چین کو معاشی حریف کے طور پر پیش کرنے پر رہی ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
امریکی صدور عموماً ہر دورِ حکومت میں قومی سلامتی حکمتِ عملی جاری کرتے ہیں۔ آخری حکمتِ عملی جو سنہ 2022 میں جو بائیڈن نے جاری کی تھی، اس میں چین پر برتری حاصل کرنے اور ’خطرناک‘ روس کو محدود رکھنے کو اہم قرار دیا گیا تھا۔