چمن سرحد پر کشیدگی، پاکستان اور افغان طالبان کے ایک دوسرے پر حملے کے الزامات
چمن سرحد پر کشیدگی، پاکستان اور افغان طالبان کے ایک دوسرے پر حملے کے الزامات
ہفتہ 6 دسمبر 2025 5:41
پاکستان اور افغان طالبان نے ایک بار پھر ایک دوسرے پر چمن، سپِین بولدک سرحد پر حملے کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی نے جمعے کی شب ایکس پر اپنے بیان میں بتایا کہ ’افغان طالبان نے چمن سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کی ہے جس پر ہماری مسلح افواج نے فوری اور شدید ردِعمل دیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان مکمل طور پر چوکنّا ہے اور اپنی علاقائی سالمیت اور شہریوں کی حفاظت کے لیے پُرعزم ہے۔‘
اُدھر افغانستان میں طالبان حکومت کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر سپِین بولدک، قندہار میں افغانستان کی طرف حملے شروع کر دیے ہیں۔
ایکس پر اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے آج شام پاکستان نے ایک بار پھر سپِین بولدک، قندھار میں افغانستان کی طرف حملے شروع کر دیے، جس پر امارتِ اسلامیہ کے دستے بھی ردِعمل دینے پر مجبور ہوئے۔
افغان حکام کا چار شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جمعے کی شب پاکستانی فوج اور افغان فورسز کے درمیان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپ میں چار شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
سرحد کی دوسری جانب افغان علاقے کے رہائشیوں نے بتایا کہ فائرنگ کا تبادلہ رات تقریباً 10 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوا اور دو گھنٹے تک جاری رہا۔
قندھار کے محکمہ اطلاعات کے سربراہ لی محمد حقمل نے اے ایف پی کو بتایا کہ پاکستانی فورسز نے ’ہلکے اور بھاری ہتھیاروں‘ سے حملہ کیا اور مارٹر گولے شہریوں کے گھروں پر گرے۔
انہوں نے کہا کہ ’جھڑپیں ختم ہو گئی ہیں، دونوں فریقین نے فائر بندی پر اتفاق کیا ہے۔‘
قطر کی ثالثی میں اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی زیادہ تر برقرار رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
’افغانستان کی جانب سے فائرنگ شروع کی گئی‘
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان کے مقامی پولیس افسر محمد صادق نے دعویٰ کیا ہے کہ فائرنگ کا آغاز افغانستان کی جانب سے ہوا جس کے بعد پاکستانی فورسز نے چمن بارڈر کے قریب جوابی فائرنگ کی۔
فریقین نے گذشتہ دو ماہ سے جاری نازک جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک دوسرے پر جھڑپ شروع کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
کابل اور اسلام آباد کے درمیان سرحدی کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے مذاکرات نومبر میں ختم ہو گئے تھے لیکن قطر کی ثالثی میں اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی زیادہ تر برقرار رہی ہے۔
پاکستان اور افغانستان میں فائرنگ کا تبادلہ اس پیش رفت کے ایک دن بعد ہوا ہے جب پاکستان نے کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کو چمن اور طورخم کی سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے افغانستان کو امدادی سامان بھیجنے کی اجازت دے گا، جو تقریباً دو ماہ سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث زیادہ تر بند رہی ہیں۔
فائرنگ کا یہ واقعہ ایک دن بعد پیش آیا جب پاکستان نے اعلان کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کو چمن اور طورخم سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے افغانستان میں امدادی سامان بھیجنے کی اجازت دے گا۔
یہ گزرگاہیں تقریباً دو ماہ سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث زیادہ تر بند تھیں۔
کابل نے گزشتہ ماہ اپنے سرحدی علاقے میں فضائی حملوں کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
رواں سال اکتوبر میں ہونے والی سرحدی جھڑپوں کے بعد سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ ان جھڑپوں میں 70 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
پاکستان کابل پر شدت پسند گروپوں خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے جو پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
قطر کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی سے اگرچہ کشیدگی میں کچھ کمی آئی لیکن اس کے بعد استنبول میں ہونے والے امن مذاکرات بھی کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہے۔
کابل نے گزشتہ ماہ اپنے سرحدی علاقے میں فضائی حملوں کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا جن میں 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسلام آباد نے اس دعوے کی تردید کی تھی
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ ’پاکستان کوئی کارروائی چھپا کر نہیں کرتا۔‘