Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

افغانستان سے ڈرون حملے میں تاجکستان میں تین چینی شہری ہلاک، پاکستان کا اظہارِ مذمت

تاجکستان اور افغان طالبان کے درمیان حالیہ مہینوں میں سرحدی جھڑپوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ (فائل فوٹو: ابار)
تاجک حکام نے جمعرات کو کہا ہے کہ افغانستان کی سرحد کے قریب سے کیے گئے ایک حملے میں تاجکستان میں کام کرنے والے تین چینی کارکن ہلاک ہو گئے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تاجکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، اور حالیہ مہینوں میں سرحدی جھڑپوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
تاجک وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ ملک کے جنوبی حصے میں ایک چینی کمپنی کے کارکنوں کو ڈرون اور فائرنگ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آتشیں اسلحے اور دستی بموں سے لیس ڈرون کے ذریعے کیے گئے حملے میں چین کے تین شہری جان سے گئے۔‘
دوشنبہ عام طور پر ایسے واقعات پر باضابطہ تبصرہ نہیں کرتا اور اس نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ اس حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
پہاڑی سرحدی علاقوں میں مختلف عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ سرحد تقریباً 1350 کلومیٹر طویل ہے۔
مسلم اکثریتی آبادی والا ملک تاجکستان، جو سابق سوویت یونین کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، طالبان کی سنہ 2021 میں افغانستان میں واپسی کے بعد سے ممکنہ شدت پسندی کے خدشات کا اظہار کرتا رہا ہے۔
صدر امام علی رحمان، جو سنہ 1992 سے برسراقتدار ہیں، طالبان کے شدید ناقد ہیں اور انہوں نے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کی تقریباً چار کروڑ آبادی میں سے قریباً ایک چوتھائی پر مشتمل تاجکوں کے حقوق کا احترام کرے۔
اس کے باوجود تاجکستان نے بعض شعبوں میں محتاط انداز میں روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں، جن میں سفارتی ملاقاتیں، سرحدی شہروں میں منڈیوں کا قیام اور بجلی کی فراہمی شامل ہیں۔

تاجکستان کے صدر امام علی رحمان طالبان کے شدید ناقد ہیں۔ (فائل فوٹو: اقوام متحدہ)

تاجک وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ ’ہم پڑوسی ملک (افغانستان) میں موجود جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے سرحدی علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کارروائیوں کو دیکھ رہے ہیں۔‘
پاکستان کا اظہار مذمت
پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ایک بیان میں اس حملے کی مذمت کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد کے قریب تاجکستان میں ایک گھناؤنے دہشت گردانہ حملے میں چینی شہریوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر عوامی جمہوریہ چین کی حکومت اور عوام کے ساتھ ساتھ تاجکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنی گہری تعزیت اور مضبوط یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘
’پاکستان چینی شہریوں پر ہونے والے اس بزدلانہ حملے کی واضح الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔‘

Image

دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ’ایک پڑوسی کے طور پر جو بار بار افغان سرزمین سے دہشت گردی کے حملوں کا شکار ہوا ہے، پاکستان کے لوگ ہمارے چینی دوستوں اور تاجک شراکت داروں کے دکھ اور غم کو پوری طرح سمجھتے اور ان میں شریک ہیں۔‘
’پاکستان نے مسلسل اس بات پر زور دیا ہے کہ افغان سرزمین اپنے پڑوسیوں یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ دہشت گرد عناصر کی جانب سے افغان سرزمین کا بار بار استعمال اور افغان طالبان حکومت کی سرپرستی میں ان کی مسلسل موجودگی پورے خطے اور وسیع تر عالمی برادری کے لیے تشویش ناک ہے۔‘
’افغان سرزمین سے کام کرنے والے دہشت گرد گروپوں کے مجرموں، ان کی حوصلہ افزائی کرنے والوں، سہولت کاروں اور مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائی ہی اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے۔‘
تاجکستان میں کئی چینی کمپنیاں کام کر رہی ہیں، خصوصاً کان کنی اور قدرتی وسائل کے شعبوں میں، جو اکثر پہاڑی سرحدی حصوں میں واقع ہیں۔
گذشتہ برس بھی افغان سرحد کے نزدیک ایک اسی نوعیت کے حملے میں ایک چینی کارکن ہلاک ہوا تھا۔

 

شیئر: