بلوچستان کے ضلع قلات میں آپریشن، 12 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا: آئی ایس پی آر
بلوچستان کے ضلع قلات میں آپریشن، 12 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا: آئی ایس پی آر
اتوار 7 دسمبر 2025 11:38
فوجی ترجمان کے مطابق مارے گئے دہشت گردوں سے اسلحہ اور بارودی مواد ملا۔ فوٹو: آئی ایس پی آر
پاکستان کی فوج نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ضلع قلات میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے دوران 12 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
اتوار کو راولپنڈی میں فوج کے ترجمان محکمے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ’بلوچستان کے ضلع قلات میں انڈین پراکسی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 12 دہشت گردوں کی موجودگی کی انٹیلیجنس اطلاع پر آپریشن کیا گیا۔‘
بیان کے مطابق ’آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔‘
آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ دہشت گرد علاقے میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھے۔
’مارے گئے دہشت گردوں سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی ملا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے وژن ’عزم استحکام‘ کے تحت انسداد دہشت گردی مہم کے طور پر علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی دوسرے انڈین سپانسرڈ دہشت گرد کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
ادھر بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ ’صوبے میں آپریشنز کے دوران ہمارے 900 افراد شہید ہوئے جن میں چھ آفیسرز سمیت 205 کے لگ بھگ سکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’صوبے میں رواں سال 280 سویلینز کو قتل کیا گیا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ تشدد کے ذریعے پاکستان کو توڑنے کی کوشش کی جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردوں کے خلاف جنگ صرف فورسز کی نہیں بلکہ ریاست کی جنگ ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف جنگ کرنے والی فورسز کو بدنام کرنا درست نہیں۔ کیا ہمیں اپنے رویوں کو بدلنے کی ضرورت نہیں۔‘
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں لوگ اپنی فورسز کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے۔‘
بیان کے مطابق مارے گئے دہشت گرد علاقے میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ فوٹو: آئی ایس پی آر
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں پاکستان کو کمزور کرنے کا بیانہ ترک کرنا پڑے گا۔ سیاست سے زیادہ ریاست اہم ہونی چاہیے۔‘
بلوچستان کے وزیراعلٰی کا کہنا تھا کہ ’میں سہیل آفریدی سے کہوں گا کہ آپ کے صوبے کو اس وقت امن، تعلیم اور ترقی کی ضرورت ہے۔ میرا آپ کو یہی مشورہ ہے کہ آپ ایجیٹیشن کی بجائے صوبے کے لیے کام کریں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اس وقت بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا، یہ سب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز ہیں۔ خیبر پختونخوا کے برعکس بلوچستان میں کسی ایک بھی گاؤں کو بھی خالی نہیں کیا گیا۔‘
سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کو انڈورس کرتا ہوں۔ وہ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ آپ ہمارے بیانیے میں ہماری حمایت کریں۔‘