Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایک اور افریقی ملک میں بغاوت کی کوشش، پانچ برس میں 10 فوجی بغاوتوں والے ملک

براعظم افریقہ کے ملک بینن میں ایک فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضے کی کوشش نے اس خطے میں اس طرح کی کارروائیوں کی فہرست میں اضافہ کر دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بینن میں فوجیوں کے ایک گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے صدر پیٹرس ٹیلون کو اقتدار سے بے دخل کر دیا ہے تاہم صدر کے دفتر نے کہا ہے کہ وہ محفوظ ہیں اور فوج کنٹرول واپس حاصل کر رہی ہے۔
یہاں ہم افریقہ میں گزشتہ پانچ برس میں اُن کامیاب فوجی بغاوتوں کا جائزہ پیش کر رہے ہیں۔

مالی

مالی کے صدر ابراہیم بوبکر کیتا کو اگست 2020 میں فوج کے پانچ کرنلوں نے معزول کر دیا تھا۔
مئی 2021 میں مالی کی فوج نے ایک عبوری حکومت کے سویلین رہنماؤں سے بھی اقتدار واپس حاصل کیا۔
دونوں بغاوتوں کی قیادت کرنے والے کرنل اسیمی گوئٹا نے عبوری صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔
فروری 2024 میں انتخابات کرانے کا وعدہ کرنے کے بعد فوج نے ملک میں جہادی تشدد کا جواز پیش کرتے ہوئے انہیں غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔
جولائی 2025 میں کرنل اسیمی گوئٹا نے خود کو پانچ سالہ صدارتی مینڈیٹ دینے والے قانون کی منظوری دی۔ اس قانون کے ذریعے وہ بغیر انتخابات کرائے مزید عرصے کے لیے بھی اقتدار میں رہ سکیں گے۔
رواں سال ستمبر میں جہادیوں نے ایندھن کی ترسیل کے راستوں کی ناکہ بندی کر کے فوجی حکمران کو کمزور کیا۔

مالی میں فوج نے ملک میں ہونے والے الیکشن کو غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔ فوٹو: اے ایف پی

گینیا (گنی)

پانچ ستمبر 2021 کو لیفٹیننٹ کرنل مامادے دومبیویا کی قیادت میں باغی فوج نے صدر الفا کوندے کو حراست میں لے کر ملک کا اقتدار سنبھال لیا۔
کرنل مامادے رواں سال نومبر میں اگلے عام انتخابات کے لیے خود کو امیدوار کے طور پر سامنے لائے۔
رواں ماہ کی 28 تاریخ کو ملک میں الیکشن ہو رہے ہیں جس کے ذریعے فوجی حکمران نے آئین کو بحال کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

سوڈان

اکتوبر 2021 میں ڈکٹیٹر عمر البشیر کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے بعد کئی ہفتوں تک فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان اقتدار کی کشمکش رہی اور پھر دونوں شراکت پر راضی ہوئے۔
فوج کے سربراہ عبدالفتح البرہان کی ڈکٹیٹر عمر البشیر کے خلاف فوجی بغاوت میں اگلا موڑ اپریل 2023 میں آیا جب پیراملٹری فورسز (آر ایس ایف) اور فوجی دستوں میں اقتدار کے حصول کے لیے جنگ چھڑ گئی۔

سوڈان میں فوج اور پیراملٹری فورسز کے درمیان اقتدار کے لیے جنگ جاری ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

آر ایس ایف کے سربراہ محمد حمدان داغلو ہیں۔
اس لڑائی میں اب تک دسیوں ہزار افراد مارے جا چکے ہیں اور یہ دنیا کے ایک بڑے انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

برکینا فاسو

افریقی ملک برکینا فاسو میں سنہ 2022 میں دو فوجی بغاوتیں ہوئیں جن کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا گیا۔
جنوری میں لیفٹیننٹ کرنل پال ہنری سنداگو نے صدر روچ ماک کرسچین کو حراست میں لیا۔ اس کے بعد ستمبر میں فوجی افسران نے اعلان کیا کہ انہوں نے کرنل پال کو برطرف کر دیا ہے۔
اس کے بعد کیپٹن ابراہیم ترورے کو عبوری صدر نامزد کیا گیا لیکن اُن کی جانب سے جلد انتخابات کرانے کے اعلان پر عمل نہیں کیا گیا۔
مئی 2024 میں فوج نے اعلان کیا کہ ابراہیم ترورے مزید پانچ سال اقتدار میں رہیں گے۔
ملک کا امن و امان پُرتشدد جہادی تحریکوں کی وجہ سے متاثر ہے۔

برکینا فاسو میں سنہ 2022 میں دو فوجی بغاوتیں ہوئیں۔ فوٹو: اے ایف پی

نائجر

جولائی 2023 میں نائجر کے صدارتی گارڈ نے صدر محمد باظوم کو اقتدار سے بے دخل کیا جو سنہ 2021 میں الیکشن جیت کر آئے تھے۔
صدارتی گارڈ کے سربراہ جنرل عبدالرحمان تیانی نے اقتدار پر قبضہ کیا۔
رواں سال مارچ میں جنرل تیانی نے اپنے عبوری دورِ صدارت کو مزید پانچ سال کی توسیع دے دی۔
نائجر میں اسلام پسند جہادی تحریکوں کے باعث تشدد جاری ہے۔

گیبون

گیبون میں بونگو خاندان نے 55 سال تک حکومت کی۔ 30 اگست 2023 کو فوجی افسران نے صدر علی بونگو اونڈیمبا کا تختہ الٹ دیا۔
فوج کے اقتدار پر قبضے سے صرف ایک گھنٹہ قبل صدر بونگو نے خود کو انتخابات کا فاتح قرار دیا تھا۔ اپوزیشن نے الیکشن کو فراڈ قرار دیا تھا۔

متعدد افریقی ملکوں میں انسانی بحران کے باعث عالمی امدادی ادارے سرگرم ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

فوجی بغاوت کے بعد جنرل برائس اولیگوئی نگوما کو عبوری صدر نامزد کیا گیا ہے۔
اپریل 2025 میں وہ 94 فیصد ووٹ لے کر صدر منتخب ہوئے۔ انہوں نے عبوری عرصے کے دوران ریفرنڈم کے ذریعے منظور کیے گئے نئے آئین کی بنیاد پر حلف اٹھایا۔

مڈغاسکر

اکتوبر 2025 میں فوج نے مڈغاسکر کے صدر اینڈری راجوئلینا کو معزول کیا۔ فوجی افسران نے یہ قدم ’جنریشن زی کے کئی ہفتوں تک حکومت مخالف مظاہروں کے بعد اُٹھایا۔
فوج کے کرنل مائیکل رینڈرینرینا نے مڈغاسکر کے نئے صدر کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے، انہوں نے ڈیڑھ سے دو سال کے اندر انتخابات کرانے کا وعدہ کیا ہے۔

گنی بساؤ

نومبر 2025 میں گنی بساؤ میں فوجی افسران نے اقتدار پر ’مکمل کنٹرول‘ کا دعویٰ کیا۔
مغربی افریقہ کے اس ملک میں وقتا فوقتا فوجی بغاوتیں ہوتی رہتی ہیں۔
فوج نے سرحدوں کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا۔ یہ بغاوت عام انتخابات کے صرف تین دن بعد کی گئی اور الیکشن کے پورے عمل کو معطل کر دیا گیا۔
فوج کا کہنا ہے کہ ’مسلح افواج کی تمام شاخوں پر مشتمل‘ کمانڈ ’اگلی اطلاع تک‘ ملک کا اقتدار سنبھال رہی ہے۔

 

شیئر: