کینسر سے بچاؤ کے لیے ٹین کے ایس اے کی افتتاحی تقریب، شہزادی ریما کی شرکت
گورنر عسیر ریجن شہزادہ ترکی بن طلال بن عبدالعزیز کی سرپرستی میں امریکہ میں متعین سعودی سفیر شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان بن عبد العزیز نے عوام کے ساتھ مل کر ٹین کے ایس اے 10KSA انیشیٹیو کا افتتاح کرنے میں شرکت کی۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق اس مہم کا مقصد تمام اقسام کے سرطان سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی بڑھانا ہے۔
یہ مہم ’صحت سب کے لیے‘ کے نعرے کے تحت ابہا شہر کے آرٹ سٹریٹ واک وے میں منعقد ہوئی ہے۔

اس موقع پر شہزادی ریما بنت بندر نے کنگ خالد یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر فالح بن رجاء اللہ السلمی، گورنریٹ کے سیکریٹری محمد بن سلطان بن جریس اور متعدد سرکاری و نجی اداروں کے رہنماؤں کی موجودگی میں طلبہ کی آگاہی مارچ کا مشاہدہ کیا ہے۔
انہوں نے مختلف اداروں کی جانب سے فراہم کردہ آگاہی پروگراموں کا جائزہ لیا جن کا مقصد معاشرے میں ابتدائی تشخیص، باقاعدہ میڈیکل چیک اپ، صحت مند طرزِ زندگی اپنانے اور صحت و احتیاطی آگاہی کو فروغ دینا ہے۔
اپنی خطاب میں شہزادی ریما بنت بندر نے وضاحت کی کہ یہ مہم دس سال قبل چھاتی کے سرطان کی ابتدائی تشخیص کے حوالے سے آگاہی بڑھانے کے لیے شروع کی گئی تھی۔‘

شہزادی ریما نے کہا کہ ’گزشتہ برسوں میں اس کا دائرہ وسیع ہوکر تمام اقسام کے سرطان سے متعلق آگاہی تک پھیل گیا ہے۔‘
انہوں نے زور دیا کہ ابتدائی تشخیص حفاظت کی بنیاد ہے جو جانیں بچانے اور صحت مند معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
انہوں نے سرکاری و نجی سیکٹر کے شریک اداروں کا شکریہ ادا کیا اور سرطان کے مریضوں اور صحت یاب ہونے والے افراد کی کہانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جن کی جد و جہد آگاہی مہمات کے تسلسل کے لیے محرک کا باعث ہے۔

انہوں نے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کی مسلسل مدد اور سماجی یکجہتی کو فروغ دینے پر زور دیا۔
بعد ازاں کنگ خالد یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر فالح السلمی نے کہا کہ ’معاشرتی خدمت یونیورسٹیوں کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔‘
انہوں نے نشاندہی کی کہ یونیورسٹی اپنی میڈیکل فیکلٹی، میڈیکل سٹی، یونیورسٹی ہسپتال، ڈینٹل ہسپتال اور دیگر آگاہی پروگراموں کے ذریعے معاشرتی صحت کو مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے۔

ڈاکٹر فالح السلمی نے بتایا کہ ’کنگ خالد یونیورسٹی کے میڈیکل سٹی کا کینسر سینٹر منفرد اقدام ہے جو یونیورسٹی، اوقاف الشاکرین اور کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال و ریسرچ سینٹر کے درمیان سٹریٹیجک شراکت کا نمونہ ہے جس کے ذریعے بہترین طبی آلات کا انتخاب، انتظامی منصوبہ بندی اور بین الاقوامی معیار تیار کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ جمعیة الکوثر کے ساتھ شراکت کے ذریعے مالی و انتظامی نگرانی کو بھی مضبوط کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ منصوبے کا سرکاری اعلان دسمبر 2024 میں ہوا تھا اور اس وقت مرکز میں عالمی معیار کی ریڈیوتھراپی یونٹس، کیموتھراپی فارمیسی، نیوکلیئر میڈیسن یونٹ اور دیگر طبی سہولیات کی تنصیب و تیاری جاری ہے۔

توقع ہے کہ علاج اور تشخیص کی خدمات 2026 کی پہلی سہ ماہی میں شروع ہوجائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ مرکز عسیر اور پورے جنوبی علاقے میں سرطان کے علاج میں بڑی پیش رفت ثابت ہوگا اور تحقیقی و تربیتی شعبوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔‘
اس کے بعد عسیر کے ڈائریکٹر جنرل تعلیم فہد عقلا نے بتایا کہ ٹین کے ایس اے مہم میں محکمہ تعلیم کی شرکت قومی و تربیتی ذمہ داری کے تحت ہے۔

فہد عقلا نے کہا کہ آٹھ دسمبر ہر سال سرطان سے بچاؤ کی آگاہی کا قومی دن تصور کیا جاتا ہے۔
اس سال سکولوں میں 3949 سے زائد آگاہی پروگرام منعقد کیے گئے جن سے پانچ لاکھ 26 ہزار سے زیادہ طلبہ و طالبات مستفید ہوئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عسیر کی تعلیمی قیادت کو اس مہم کا حصہ بننے پر فخر ہے اور 100 سے زائد رضاکاروں نے اس میں حصہ لیا۔

اسی سلسلے میں ’10 ہزار رضاکارانہ گھنٹے‘ کی مہم بھی شروع کی گئی۔
آخر میں، شہزادی ریما بنت بندر نے ’جسد‘ نامی خیراتی صحت تنظیم کا افتتاح کیا جو عسیر کے سرطان کے مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج کے لیے قائم کی گئی ہے۔