Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چترال میں امریکی شکاری کا 2 لاکھ 43 ہزار ڈالر میں کشمیر مارخور کا کامیاب شکار

امریکی شکاری تھامس گیرک نے چترال کے شاشا تھوسی کمیونٹی مینیجڈ گیم ریزرو میں کشمیر مارخور کا کامیاب شکار کر لیا۔
ڈویژنل فارسٹ آفیسر وائلڈ لائف چترال فاروق نبی نے اردو نیوز کو بتایا کہ تھامس گیرک نے کشمیر مارخور کی ٹرافی ہنٹنگ کا پرمٹ 2 لاکھ 43 ہزار ڈالر یعنی 6 کروڑ 80 لاکھ پاکستانی روپے کی بولی لگا کر حاصل کیا تھا۔
امریکی شکاری تھامس گیرک نے یہ شکار 250 میٹر کے فاصلے سے کیا۔ شکار کے سینگ کا سائز 55 انچ ہے اور شکار ہونے والی مارخور کی عمر ساڑھے 13 سال ہے۔
فاروق نبی کے مطابق امریکی شکاری تھامس گیرک کی عمر 75 سال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تھامس نے کشمیر مارخور کے شکار کا پرمٹ رواں سال ہونے والی اوپن بولی میں حاصل کیا تھا۔
خیال رہے کہ کشمیر مارخور کا شمار معدومیت کے خطرے سے دوچار جانوروں میں ہوتا ہے اور 1990 کی دہائی میں چترال میں اس کی آبادی چند سو رہ گئی تھی۔
اس کے بعد محکمہ وائلڈ لائف نے مختلف عالمی تنظیموں کے اشتراک سے اس کی کنزرویشن کے اقدامات شروع کیے۔ کمیونٹی کی جانب سے اس کے شکار کو روکنے کے لیے ٹرافی ہنٹنگ متعارف کرائی گئی، جس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 80 فیصد کمیونٹی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاتا ہے۔ فاروق نبی کے مطابق ویلیج کنزرویشن کمیٹیاں یہ رقم خود خرچ کرتی ہیں۔

پاکستان میں یہ پرمٹس چار خیبر پختونخوا میں، چار گلگت بلتستان میں اور چار بلوچستان میں جاری کیے جاتے ہیں (فوٹو: وائلڈ لائف چترال)

پاکستان میں مارخور خیبر پختونخوا کے اضلاع چترال اور کوہستان، گلگت بلتستان میں استور اور بلوچستان میں کوہِ سلیمان کے علاقے میں پائے جاتے ہیں۔
پاکستان سائٹیز کا سگنیٹری ہے اور سائٹیز کا مقصد خطرے سے دوچار جنگلی جانوروں اور پودوں کی غیرقانونی اور غیر پائیدار تجارت کو روکنا ہے۔ سائٹیز نے پاکستان کو ہر سال مارخور کے شکار کے لیے 12 ایکسپورٹیبل ٹرافی ہنٹ پرمٹس جاری کرنے کی اجازت دی ہے۔
پاکستان میں یہ پرمٹس چار خیبر پختونخوا میں، چار گلگت بلتستان میں اور چار بلوچستان میں جاری کیے جاتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں یہ پرمٹس تین چترال میں اور ایک کوہستان میں جاری کیے جاتے ہیں۔ یہ پرمٹس ہر سال اکتوبر کے مہینے میں اوپن بولی کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں اور سب سے زیادہ بولی لگانے والے شکاریوں کو الاٹ کیے جاتے ہیں۔

ٹرافی ہنٹنگ کیوں کی جاتی ہے؟

محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق ٹرافی ہنٹنگ کی شروعات مارخور کے غیرقانونی شکار کو روکنے اور ان کی نسل کو محفوظ بنانے کے لیے کی گئی تھی۔
وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ چترال کے ڈی ایف او فاروق نبی کا کہنا ہے  کہ بنیادی طور پر ٹرافی ہنٹنگ کا مقصد لوکل کمیونٹی کی جانب سے مارخور کے غیر قانونی شکار کو روکنا ہے۔
ان کے مطابق پہلے مقامی کمیونٹی مارخور کا غیرقانونی طریقے سے بے دریغ شکار کرتی تھی جس کی بنیادی وجہ غربت اور آگاہی کی کمی تھی۔ تاہم کنزرویشن اور ٹرافی ہنٹنگ کی شروعات کے بعد غیرقانونی شکار میں کمی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرافی کی رقم کا 80 فیصد مقامی کمیونٹی پر خرچ کیا جاتا ہے۔ مقامی تنظیم کے ذریعے یہ رقم صحت، صاف پانی اور دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔    
فاروق نبی کا کہنا تھا کہ مارخور کے شکار کی ایک اور وجہ بھے ہے 'مارخور کی جو نسل بوڑھی ہو جاتی ہے تو ان کی بریڈنگ کے نتیجے میں جو جانور پیدا ہوتے ہیں وہ جینیاتی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔ اس لیے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی کوشش ہوتی ہے کہ ٹرافی ہنٹ میں بڑی عمر کے جانوروں کا شکار کرایا جائے تاکہ بوڑھے جانور ختم بھی ہوں اور ان کے بدلے میں مقامی کمیونٹی کو سہولیات کی فراہمی کے لیے رقم بھی میسر ہو۔‘
انہوں نے بتایا کہ چونکہ ٹرافی ہنٹنگ کی نیلامی ڈالروں میں ہوتی ہے تو یہ ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمانے کا سبب بھی بنتا ہے۔

ٹرافی ہنٹنگ کا پرمٹ کسے اور  کیسے جاری کیا جاتا ہے؟

 ٹرافی ہنٹنگ کے پرمٹس اوپن نیلامی کے ذریعے دیے جاتے ہیں۔ یہ نیلامی ہرسال اکتوبر کے مہینے میں کی جاتی ہے۔
چونکہ ٹرافی کی نیلامی ڈالر میں ہوتی ہے اس لیے عموماً اس (مارخور) کے پرمٹ کو غیرملکی شکاری ہی نیلامی میں حاصل کرتے ہیں۔

غیرملکی شکاری آؤٹ فٹرز کی مدد سے شکار کے لیے ٹرافی کی نیلامی میں حصہ لیتے ہیں (فائل فوٹو: محکمہ جنگلی حیات، چترال)


 نیلامی میں شکاریوں کی جانب سے  آؤٹفٹرز حصہ لیتے ہیں جو کہ ایک طرح سے ٹھیکیدار ہوتے ہیں۔ یہ غیرملکی شکاریوں کو مارخور کے شکار کے لیے خدمات اور سہولیات فراہم کرتے ہیں اور پاکستان میں شکار کروانے تک ان کو فیسیلیٹیٹ کرتے ہیں۔
غیرملکی شکاری ان آؤٹ فٹرز کی مدد سے شکار کے لیے ٹرافی کی نیلامی میں حصہ لیتے ہیں۔ سب سے زیادہ بولی دینے والے کو ٹرافی دی جاتی ہے۔
ٹرافی ہنٹنگ کے قواعد کے مطابق اگر شکاری پہلے سال ٹرافی ہنٹنگ کسی بھی وجہ سے نہیں کر سکے تو وہ اگلے سال اسی پرمٹ پر شکار کر سکتا ہے۔ لیکن دو سال کے بعد پرمٹ ایکسپائر ہوجاتا ہے۔ فاروق نبی کا کہنا تھا کہ اگر ٹرافی ہنٹنگ کے دوران شکاری کا فائر مس ہو گیا اور مارخور بھاگ گیا تو بھی پرمٹ قابل استعمال رہتا ہے۔
ڈی ایف او کا کہنا تھا کہ اگر شکاری کی فائرنگ سے مارخور زخمی ہو گیا مگر ہاتھ نہیں آیا تو بھی یہ شکار تصور ہو گا اور شکاری کو مزید شکار کی اجازت نہیں ہوگی۔

 

شیئر: