Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’حضرموت میں طاقت کے ذریعہ حل مسلط کرنے کی کوشش قبول نہیں‘

’جنوبی علاقوں میں استحکام قائم رکھنے اور تنازعات میں گھسیٹنے سے بچانے پر زور دیا ہے‘ ( فوٹو: سبق)
سعودی عرب نے یمن کے معاملے میں اپنی ذمہ داریوں کے عزم کو ظاہر کرتے ہوئے حضرموت میں کسی بھی صورتحال کو زبردستی مسلط کرنے کی تمام کوششوں کی سختی سے مخالفت کی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ریاض نے جنوبی علاقوں میں استحکام قائم رکھنے اور صوبے کو داخلی تنازعات میں گھسیٹنے سے بچانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
سعودی عرب نے مشرقی صوبوں میں جنوبی عبوری کونسل کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ سٹریٹجک مقامات پر زبردستی کنٹرول حاصل کرنا کشیدگی کے ماحول کو بڑھاتا ہے اور سیاسی عمل کو پیچیدہ بناتا ہے جو جامع حل کی کوششوں کے لئے نقصان دہ ہے۔
سعودی عرب نے اس بات پر زور دیا کہ عبوری کونسل کی فورسز کو حضرموت اور المہرہ سے نکلنا چاہئے اور حالات کو سابقہ صورتحال میں واپس لانا چاہئے، جس میں فوجی مقامات کی ’درع الوطن‘ فورسز کو حوالگی شامل ہے۔
یہ قدم مقامی سکیورٹی کو یقینی بنانے اور حادثات کی تکرار روکنے کے لئے نہایت اہم ہے۔
سعودی عرب نے کہا ہے کہ ’جنوبی مسئلہ اہم سیاسی جہت رکھتا ہے اور اسے کسی ایک فریق تک محدود نہیں کیا جا سکتا‘۔
’یہ مسئلہ صرف عیدروس الزبیدی یا جنوبی عبوری کونسل تک محدود نہیں بلکہ اسے جامع انداز میں پیش کرنا چاہئے جو جنوب کی مختلف تشکیلوں اور رجحانات کی نمائندگی کرے‘۔
’اس موقف کو متوازن سعودی نقطہ نظر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو جنوبی عوام کی خواہشات کی حمایت کرتا ہے، قومی اتفاق کو یقینی بناتا ہے اور کسی ایک فریق کی اجارہ داری یا متفقہ سیاسی راستوں کو نظرانداز کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔
ریاض اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیتا ہے کہ استحکام زبردستی نہیں بلکہ مکالمے اور افہام و تفہیم سے حاصل ہوتا ہے تاکہ سکیورٹی اور سیاسی شراکت میں عدل قائم رہے، یمن کی یکجہتی برقرار رہے اور اس کے متنوع عناصر کا احترام کیا جائے۔

شیئر: