Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کا شام پر عائد پابندیاں اٹھانے کے امریکی فیصلے کا خیرمقدم

بیان کے مطابق اس عمل کا آغاز مئی 2025 میں صدر ٹرمپ کے ریاض کے دورے کے دوران شام پر تمام پابندیاں اٹھانے کے اعلان سے ہوا۔ (فوٹو: روئٹرز)
سعودی عرب نے امریکہ کی جانب سے سیزر ایکٹ کے تحت شامی عرب جمہوریہ پر عائد پابندیاں اٹھانے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ملک میں استحکام، خوشحالی اور ترقی کے فروغ میں مدد دے گا اور شامی عوام کی امنگوں کی تکمیل میں معاون ثابت ہو گا۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق جمعے کو جاری ایک بیان میں مملکت نے اس عمل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مثبت کردار کو سراہا۔
بیان کے مطابق اس عمل کا آغاز مئی 2025 میں صدر ٹرمپ کے ریاض کے دورے کے دوران شام پر تمام پابندیاں اٹھانے کے اعلان سے ہوا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ عمل مالی سال 2026 کے لیے نیشنل ڈیفنس آتھورائزیشن ایکٹ پر صدر ٹرمپ کے دستخط کے ساتھ مکمل ہوا، جس میں سیزر ایکٹ کی منسوخی بھی شامل تھی۔
سعودی عرب نے پابندیاں اٹھائے جانے پر شامی قیادت، حکومت اور عوام کو مبارکباد بھی دی، اور ملک بھر میں استحکام کی بحالی کے لیے دمشق کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ کوششیں شامی ریاست اور معیشت کی تعمیرِ نو کے لیے موزوں حالات پیدا کرنے میں مددگار ہوں گی، نیز شامی مہاجرین اور بے گھر افراد کی اپنے گھروں کو واپسی کو بھی آسان بنائیں گی۔

 

شیئر: