Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ماں، بچیوں کی غیرقانونی حراست، اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم

عدالت نےاسلام آباد پولیس کے طرزِ عمل کو غیرقانونی قرار دیا ہے (فوٹو: اے پی پی)
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق سی ای او، پی آئی اے مشرف رسول کے لین دین کے تنازع میں پولیس کی جانب سے لاہور اور بہاولپور سے ایک شہری کی اہلیہ اور تین کم سن بچیوں کو بغیر وارنٹ گرفتار کرنے پر پولیس اہلکاروں کو جرمانہ کرنے کے علاوہ ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے طرزِعمل کو غیرقانونی اور آئین و قانون کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نہ صرف تھانہ ترنول میں درج مقدمہ خارج کرنے کا حکم دیا بلکہ اس غیرقانونی کارروائی میں ملوث تفتیشی افسر اور پولیس ٹیم کے تمام اہلکاروں پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ شہریوں، بالخصوص خواتین اور کم سن بچوں کو اس طرح گھروں سے اٹھانا کسی بھی صورت میں قانونی کارروائی نہیں بلکہ اغوا کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اگر خود قانون کی پامالی کریں گے تو شہریوں کے بنیادی حقوق غیرمحفوظ ہو جائیں گے۔
یہ معاملہ دراصل ایک مالی اور کاروباری تنازع سے جڑا ہوا ہے، جس میں سابق سی ای او پی آئی اے مشرف رسول، وقاص احمد اور سہیل علیم کے درمیان لین دین کا اختلاف سامنے آیا تھا۔ عدالت میں پیش کیے گئے مؤقف کے مطابق اس تنازع کو فوجداری رنگ دینے کے لیے پولیس کو استعمال کیا گیا، حالانکہ اصل نوعیت ایک سول اور مالی معاملے کی تھی۔
اس پس منظر میں اسلام آباد پولیس نے سابق سی ای او کی ایما پر وقاص احمد کی اہلیہ اور ان کی تین کم سن بچیوں کو لاہور اور بعد ازاں بہاولپور سے بغیر کسی عدالتی اجازت یا وارنٹ کے تحویل میں لے کر اسلام آباد منتقل کیا، جس پر شدید قانونی سوالات اٹھے اور معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ پولیس نے پہلے کارروائی کی اور اس کے بعد اسے قانونی جواز دینے کے لیے تھانہ ترنول میں مقدمہ نمبر 658/25 درج کیا گیا، جس میں وقاص احمد اور ان کی اہلیہ کو نامزد کیا گیا۔ تاہم سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ گرفتاری سے قبل نہ تو کسی عدالت سے اجازت لی گئی، نہ ہی کوئی فوری اور سنگین جرم ثابت کیا جا سکا جو بغیر وارنٹ گرفتاری کا جواز بنتا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ’پولیس اگر وارنٹ کے بغیر کسی شہری کو اٹھاتی ہے تو وہ ریاستی طاقت کا ناجائز استعمال ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔‘

عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو بھی ہدایات جاری کیں کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی کی جائے (فوٹو: اے پی پی)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں تفتیشی افسر پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے کہا کہ }ایسے افسران نہ صرف قوانین سے ناواقف نظر آتے ہیں بلکہ دانستہ طور پر شہریوں کے حقوق پامال کرتے ہیں۔‘
 اس کے ساتھ ہی لاہور میں بغیر وارنٹ چھاپہ مارنے والی پولیس ٹیم میں شامل تمام اہلکاروں پر بھی ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی فرد یا بااثر شخصیت کے دباؤ میں آ کر کارروائی نہیں کر سکتے اور اگر ایسا ہوا تو اس کی ذمہ داری براہِ راست متعلقہ افسران پر عائد ہو گی۔
عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو بھی سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ اس غیرقانونی کارروائی میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے اور اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ عدالت ایسے واقعات کو معمول بننے نہیں دے سکتی کیونکہ اس سے عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد ختم ہوتا ہے۔ عدالت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ خواتین اور کم سن بچوں کے معاملات میں پولیس کو غیرمعمولی احتیاط اور قانون کے دائرے میں رہ کر کارروائی کرنی چاہیے۔

 

شیئر: