صارفین کی بدلتی ترجیحات یا جدید ٹیکنالوجی کی خواہش؟ موبائل درآمدات میں اضافہ
صارفین کی بدلتی ترجیحات یا جدید ٹیکنالوجی کی خواہش؟ موبائل درآمدات میں اضافہ
منگل 23 دسمبر 2025 5:54
بشیر چوہدری، اردو نیوز۔ اسلام آباد
مالیت کے اعتبار سے درآمدی فونز کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں موبائل فونز کی درآمدات ایک بار پھر نمایاں انداز میں بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں، حالانکہ گذشتہ چند برسوں کے دوران حکومت مقامی سطح پر موبائل فون سازی اور اسیمبلنگ کے فروغ کے لیے پالیسی سطح پر مختلف اقدامات کر چکی ہے۔
رواں مالی سال 2025–26 کے ابتدائی پانچ ماہ کے سرکاری اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ تعداد کے لحاظ سے ملکی مارکیٹ کا بڑا حصہ مقامی طور پر تیار کیے گئے موبائل فونز پر مشتمل ہے تاہم مالیت کے اعتبار سے درآمدی فونز کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
سرکاری تجارتی اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے نومبر 2025 کے دوران پاکستان نے 801.139 ملین ڈالر ) 226.133 ارب روپے ( مالیت کے موبائل فونز درآمد کیے جو گذشتہ سال اسی مدت میں ہونے والی 570.184 ملین ڈالر ) 158.518 ارب روپے( کی درآمدات کے مقابلے میں 40.51 فیصد زیادہ ہیں۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجوہات میں ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، عالمی سطح پر سمارٹ فونز کی قیمتوں میں اضافہ اور پاکستان میں درمیانے اور اعلیٰ درجے کے فونز کی بڑھتی مانگ شامل ہے۔
ڈیجیٹل معیشت پر نظر رکھنے والی سعدیہ امتیاز کا کہنا ہے کہ ’اب موبائل فون محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ بینکاری، روزگار، تعلیم اور کاروبار کا بنیادی آلہ بن چکا ہے، اسی لیے صارف بہتر اور مہنگے فون کو ایک ضرورت سمجھنے لگا ہے۔‘
ماہانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو بھی درآمدات میں بتدریج اضافہ دکھائی دیتا ہے۔ نومبر 2025 میں موبائل فونز کی درآمدات 156.565 ملین ڈالر رہیں جو اکتوبر کے 144.563 ملین ڈالر کے مقابلے میں 8.30 فیصد زیادہ ہیں۔
ماہرین اس رجحان کو صارفین کی بدلتی ترجیحات، جدید ٹیکنالوجی کی خواہش اور نسبتاً مہنگے سمارٹ فونز کی بڑھتی طلب سے جوڑ رہے ہیں۔ ٹیلی کام امور کے تجزیہ کار ڈاکٹر عارف محمود کے مطابق ’مقامی اسیمبلنگ نے عام صارف کے لیے موبائل فون کو سستا ضرور بنایا ہے مگر جدید فیچرز اور اعلیٰ معیار کے سمارٹ فونز اب بھی مقامی سطح پر تیار نہیں ہو رہے، اسی خلا کو درآمدی فونز پورا کر رہے ہیں، جس سے درآمدی مالیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘
پاکستان کی موبائل فون مارکیٹ اب بھی واضح طور پر مقامی اسیمبلنگ پر انحصار کر رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
یہ حالیہ اضافہ ایک ایسے دور کے بعد سامنے آیا ہے جب موبائل فونز کی درآمدات میں نمایاں کمی دیکھی گئی تھی۔ مالی سال 2024–25 کے دوران پاکستان نے 1.494 ارب ڈالر مالیت کے موبائل فونز درآمد کیے، جو مالی سال 2023–24 میں درآمد ہونے والے 1.898 ارب ڈالر کے مقابلے میں 21.31 فیصد کم تھے۔ روپے کی قدر میں دیکھا جائے تو اسی عرصے میں موبائل فونز کی درآمدات میں 22.09 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ مجموعی طور پر ٹیلی کمیونی کیشن شعبہ بھی دباؤ کا شکار رہا اور مالی سال 2024–25 میں مجموعی ٹیلی کام درآمدات 2.099 ارب ڈالر تک محدود رہیں، جو سالانہ بنیاد پر 11.30 فیصد منفی شرحِ نمو کو ظاہر کرتی ہیں۔
تاجروں کے مطابق ’گذشتہ برسوں میں درآمدی رکاوٹوں اور مالی دباؤ کے باعث جو طلب رہی اب حالات میں نسبتاً بہتری کے بعد وہ طلب یک دم مارکیٹ میں سامنے آ رہی ہے، جس کا اثر درآمدی اعداد و شمار میں اضافے کی صورت میں دکھائی دے رہا ہے۔‘
درآمد ہونے والے موبائل فونز کے برانڈز پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی درآمدی مارکیٹ میں چند مخصوص بین الاقوامی کمپنیوں کا غلبہ ہے۔ درآمدی مالیت کے لحاظ سے ویوو، انفینکس، ٹیکنو، اوپو اور ریئل می جیسے برانڈز نمایاں رہے۔ اس کے علاوہ ایپل کے آئی فونز بھی سرکاری ذرائع سے پاکستان میں درآمد ہو رہے ہیں، تاہم ان کی تعداد نسبتاً کم ہے۔
ماہرین کے مطابق ان برانڈز کی زیادہ قیمت اور مقامی سطح پر عدم دستیابی ہی درآمدی مالیت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔
دوسری جانب اگر تعداد کے اعتبار سے جائزہ لیا جائے تو پاکستان کی موبائل فون مارکیٹ اب بھی واضح طور پر مقامی اسیمبلنگ پر انحصار کر رہی ہے۔
پاکستان تعداد کے لحاظ سے موبائل فونز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مقامی صنعت پر بھرپور انحصار کر رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے مطابق جنوری سے اکتوبر 2025 کے دوران ملک میں 25.11 ملین موبائل فونز مقامی طور پر تیار کیے گئے جبکہ اسی عرصے میں تجارتی بنیادوں پر درآمد ہونے والے فونز کی تعداد صرف 1.7 ملین رہی۔ اکتوبر 2025 میں مقامی کارخانوں نے 2.33 ملین موبائل فونز تیار کیے جبکہ اسی مہینے میں درآمدی فونز کی تعداد محض 0.2 ملین یونٹس رہی۔
مجموعی طور پر یہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ ایک طرف پاکستان تعداد کے لحاظ سے موبائل فونز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مقامی صنعت پر بھرپور انحصار کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب درآمدی موبائل فونز کی بڑھتی ہوئی مالیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مہنگے، جدید اور اعلیٰ معیار کے سمارٹ فونز کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل چیلنج یہی ہے کہ مقامی صنعت کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ مستقبل میں نہ صرف تعداد بلکہ معیار اور جدید ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھی درآمدی فونز کا متبادل بن سکے تاکہ درآمدی دباؤ میں بتدریج کمی لائی جا سکے۔