بھیڑ کی اون سے تیارکردہ ’الفروہ‘ قصیم کی ’قدیم ثقافت کی علامت‘
سردی میں اضافے کے ساتھ گرم ملبوسات کی دکانیں سج جاتی ہیں(فوڈو: ایس پی اے)
موسم سرما میں ہرعلاقے کی طرح قصیم ریجن کی بھی مخصوص روایات ہیں جن پر اہل علاقہ آج بھی عمل کرتے ہیں۔
سرما کی بارش سے سردی کی لہر میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہو جاتا ہے، اس دوران سرمائی محافل بھی عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔
سردی میں اضافے کے ساتھ ہی گرم ملبوسات کی دکانیں سج جاتی ہیں جہاں انواع و اقسام کے گرم کپڑے دکھائی دیتے ہیں جن میں علاقے کا خاص جبہ یا اوورکوٹ ’الفروہ‘ جو علاقے کا سرمائی ورثہ بھی ہے عام ہو جاتا ہے۔

الفروہ عہد قدیم سے علاقے کے لوگ موسم سرما میں خصوصی طور پر اس وقت استعمال کرتے ہیں جب وہ کسی کھلے تفریحی مقام پر جائیں یا روز مرہ کے کاموں کی انجام دہی کے لیے گھر سے باہر نکلیں اس وقت وہ خود کو یخ بستہ ہوا کے تھپیڑوں سے محفوظ رکھنے اور جسم کو گرم رکھنے کے لیے اوڑھ لیتے ہیں۔
گرم جبہ اپنی بناوٹ اور استعمال میں انتہائی سادہ ہوتا ہے تاہم اس کی ساخت ایسی ہوتی ہے کہ سردی خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہو اس کی موٹی کھال سے نہیں گزر سکتی اسی لیے ’فروہ‘ کو خاص طور پر کھلے مقامات پر استعمال کیا جاتا ہے جہاں تیز و یخ بستہ ہوا سے جسم محفوظ رہتا ہے۔

عام طور پر الفروہ کی تیاری میں بھیڑوں کے اون سے تیار کیا جاتا ہے جو جسم کو بیرونی سرد ہواؤں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
فروہ کی تیاری کے لیے مصنوعی اون بھی استعمال ہوتا ہے اور ان پر مختلف نقش و نگار کی کڑھائی بھی کی جاتی ہے۔

علاقائی روایت میں دلچسپی رکھنے والوں کا کہنا ہے ’الفروہ‘ علاقے کی ایک قدیم ثقافت ہے جسے آج بھی اتنی ہی اہمیت حاصل ہے جتنا عہدِ رفتہ میں تھی۔
اگرچہ دور حاضر کے بازار انواع و اقسام کے گرم ملبوسات سے بھرے پڑے ہیں مگر جو بات الفروہ کی ہے وہ کسی اور میں نہیں۔
