پولیس نے مزید کہا کہ واقعے کے بعد لاشیں ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔ ضلعی پولیس افسر بھاری پولیس کے ساتھ جائے وقوعہ پر موجود ہے اور اس وقت سرچ آپریشن جاری ہے۔
وزیراعلٰی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی پولیس اہلکاروں کی نمازہ جنازہ میں شرکت کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔
انہوں نے ضلع کرک میں پولیس موبائل پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزیراعلٰی نے کہا کہ ’ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ پولیس اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، صوبائی حکومت پولیس کے ساتھ کھڑی ہے۔‘
وزیراعلٰی نے کہا کہ امن و امان قائم رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس قسم کے حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔‘
معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان کا کہنا ہے کہ پولیس موبائل پر دوران گشت حملے کے نتیجے میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کی شہادت ہوئی ہے۔
معاون خصوصی اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ سی ٹی ڈی کی استعداد کار میں اضافے کے لیے کابینہ نے 17 ارب کے پیکج کی منظوری دی ہے جبکہ سات ارب روپے فوری ریلیز کر دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپیشل برانچ کے لیے 14 ارب روپے کی منظور ی دی گئی ہے۔ان فنڈز سے اسلحہ، آرمرڈ گاڑیاں، بھرتیاں اور دفاتر قائم کیے جائیں گے۔
حالیہ مہینوں سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ہنگو پولیس چوکی پر سنائپر سے حملہ
21 دسمبر کو اتوار کی شب ہنگو میں قاضی تالاب چیک پوسٹ پر شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ایک پولیس کانسٹیبل جان سے گیا جبکہ تین زخمی ہوئے تھے۔
پولیس کے مطابق دہشت گردوں نے سنائپر کے ساتھ ساتھ بڑے ہتھیاروں کا استعمال بھی کیا تاہم پولیس کی بروقت جوابی فائرنگ سے دہشت گرد پیچھے دھکیل دیے گئے۔
بنوں پولیس پر حملہ پسپا
ضلع بنوں میں گزشتہ ہفتے شیخ لنڈک پولیس چوکی پر شدت پسندوں کے حملے کو پولیس نے ناکام بنا دیا تھا۔ پولیس کے مطابق ’جوابی فائرنگ سے دہشتگردوں کے متعدد ساتھی زخمی ہوئے جن کو باقی ساتھی اپنے ساتھ لے کر بھاگ گئے۔‘
پولیس نے کہا تھا کہ شدت پسندوں سے تین گھنٹے مسلسل جھڑپ جاری رہی جس میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔