کراچی میں 16 سالہ ہادیہ کی مبینہ خودکشی، موبائل فون پیکج کا معاملہ یا کچھ اور؟
بدھ 24 دسمبر 2025 16:22
زین علی -اردو نیوز، کراچی
پولیس نے ابتدائی تفتیش کے دوران گھر اور قریبی علاقوں سے معلومات جمع کرنا شروع کر دی ہیں تاکہ واقعے کے تمام پہلو سامنے لائے جا سکیں۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے آگرہ تاج میں کم عمر لڑکی کی ہلاکت کے معاملے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پولیس کے مطابق موبائل فون پیکج کے معاملے پر والد سے تکرار کے بعد لڑکی نے مبینہ طور پر خودکشی کی، جس کے بعد پوسٹ مارٹم اور قبر کشائی کے لیے عدالت سے اجازت طلب کر لی گئی ہے۔
آگرہ تاج کی گلی نمبر 23 کے رہائشی محمد رفیق کی 16 سالہ بیٹی ہادیہ نے مبینہ طور پر موبائل فون پیکج نہ کروانے پر خودکشی کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
کلری تھانے کے ایڈیشنل ایس ایچ او ذوالفقار علی کے مطابق لڑکی کی لاش گھر سے برآمد ہونے کے بعد سول ہسپتال منتقل کی گئی، جہاں اس کی شناخت کی گئی۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق ’ہادیہ نے والد سے موبائل فون پر پیکج کروانے کا کہا تھا، جس پر والد نے کہا کہ وہ کچھ دیر بعد پیکج کروا دیں گے اور گھر سے باہر چلے گئے۔ اسی دوران ہادیہ نے گلے میں پھندا ڈال کر اپنی زندگی ختم کر لی۔‘
ایڈیشنل ایس ایچ او ذوالفقار علی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’واقعے کے بعد عدالت سے پوسٹ مارٹم اور قبر کشائی کے لیے اجازت طلب کی گئی ہے تاکہ معاملے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا سکے۔‘
پولیس نے ابتدائی تفتیش کے دوران گھر اور قریبی علاقوں سے معلومات جمع کرنا شروع کر دی ہیں تاکہ واقعے کے تمام پہلو سامنے لائے جا سکیں۔
دوسری جانب سول ہسپتال کے مطابق متوفیہ کی عمر 15 برس تھی اور لاش کی شناخت کے بعد پوسٹ مارٹم کے عمل کے لیے متعلقہ حکام کو مطلع کیا گیا تاہم اہلِ خانہ کی جانب سے اجازت نہ ملنے پر لڑکی کا جسد خاکی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ خودکشی کے پسِ پردہ کوئی اور محرکات تو نہیں تھے۔

کلری تھانے نے لاش کی برآمدگی کے فوری بعد سکول یا سماجی حلقوں سے متعلق معلومات بھی طلب کی ہیں تاکہ ہادیہ کی زندگی کے آخری لمحوں سے متعلق مکمل تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔
ایڈیشنل ایس ایچ او نے کہا کہ ’پولیس علاقے میں نوجوانوں اور نوعمر افراد کے تحفظ کے لیے حساسیت کے ساتھ تفتیش کر رہی ہے اور ہر پہلو کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی مکمل ہو سکے۔‘
پولیس نے لڑکی کے پوسٹ مارٹم کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے بعد قانونی کارروائی کو حتمی شکل دی جائے گی۔
پولیس حکام نے شہریوں سے بھی درخواست کی ہے کہ ’ان کے پاس اگر واقعے سے متعلق کوئی معلومات ہوں تو وہ فوری طور پر تھانے سے رابطہ کریں۔‘
پولیس کے مطابق تفتیش کا عمل جاری ہے اور تمام قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا سکے۔
