انڈیا کی پہلی ’بینڈت کوئین‘ گوہر بانو جو سج دھج کر ہتھیار اُٹھاتیں اور سفاکی سے قتل کرتیں
انڈیا کی پہلی ’بینڈت کوئین‘ گوہر بانو جو سج دھج کر ہتھیار اُٹھاتیں اور سفاکی سے قتل کرتیں
جمعرات 25 دسمبر 2025 5:20
یوسف تہامی، دہلی
ہندی فلم ’میرا گاؤں میرا دیش‘ بھی پتلی بائی کے کارناموں سے متاثر ہے۔ فوٹو: سکرین گریب
آپ نے انڈیا کی مشہور ڈاکو پھولن دیوی کا نام سنا ہوگا۔ انہیں ’بینڈت کوئین‘ کے نام سے جانا گیا اور ان پر انڈیا کے معروف فلم ساز شیکھر کپور نے اسی نام سے ایک فلم بنائی جس میں اداکارہ سیما بسواس نے ان کا کردار ادا کیا اور اس فلم کی بہت پزیرائي ہوئی لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ پہلی خاتون ڈاکو نہیں تھیں جنہیں ’بینڈت کوئین‘ یعنی ڈاکو رانی یا ڈاکو ملکہ کہا گیا۔
پھولن دیوی کے برعکس اس پہلی بینڈت کوئین میں عوام کی اس قدر دلچسپی تھی کہ بالی وڈ میں اس کے نام پر دو، دو فلمیں بنائی گئیں اور جو کوئی بھی ان کی ایک جھلک دیکھ لیتا وہ ان کے حسن اور سراپا کو اپنے انداز میں بیان کرتا۔ پہلی فلم 1972 میں سجیت کمار اور جیا مالا کی اداکاری میں بنی جبکہ دوسری فلم 1999 میں آئی جس میں شیوانگی نے ان کا کردار ادا کیا۔ کہا جاتا ہے کہ معروف ہندی فلم ’میرا گاؤں میرا دیش‘ بھی پتلی بائی کے کارناموں سے متاثر ہے جبکہ فلم ’رنگ دے بسنتی‘ اور ’بھاگ ملکھا بھاگ‘ جیسی فلمیں بنانے والے فلم ساز راکیش اوم پرکاش مہرہ بھی ان کی زندگی پر فلم بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
اس پہلی بینڈت کوئین کا نام پتلی بائی تھا لیکن یہ نام بھی ان کا اصل نام نہیں تھا۔ دراصل ان کا اصل نام گوہر بانو تھا اور وہ ایک رقاصہ تھیں اور ایک طوائف ان کی مالکن بن بیٹھیں۔
آج اگرچہ چمبل کے بیہڑوں میں ڈاکوؤں کا نام و نشان مٹ چکا ہے، مگر ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب ان سنسان وادیوں پر ڈاکوؤں کی حکمرانی تھی۔ ان کے نام سے پورا علاقہ لرز اٹھتا تھا۔ اسی دور میں ایک ایسی عورت نے بندوق اٹھائی جو نہ صرف پہلی خاتون ڈاکو بنی بلکہ اپنی دلکشی، سفاکی اور قیادت کی بدولت تاریخ کے صفحات پر امر ہو گئی۔
رقاصہ گوہر بانو سے ڈاکو پُتلی بائی تک
کہا جاتا ہے کہ 1926 میں مدھیہ پردیش کے ضلع مورینہ کی امبا تحصیل کے گاؤں بربئی میں ایک غریب خاندان میں گوہر بانو پیدا ہوئیں۔ غربت نے انہیں کم عمری میں ہی ناچ گانے پر مجبور کر دیا۔ بھائی علاءالدین کے ساتھ وہ پاؤں میں گھنگھرو باندھ کر لوگوں کی محفلوں میں رقص کرتیں اور اسی فن کے بل پر گھر کا چولہا جلتا تھا۔
رفتہ رفتہ گوہر بانو اپنے رقص و سنگھار کے باعث پُتلی بائی کے نام سے مشہور ہونے لگیں۔ وجہ تسمیہ ہندوستانی اساطیر میں پیوست ہے یعنی وہ کسی کی کٹھ پتلی تھیں اور انہیں کوئی اور ہینڈل کرتا تھا جبکہ دوسری توجیہہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ وہ آنکھوں کی پتلی کی طرح ادھر سے ادھر رقص کرتے ہوئے نکل جاتیں۔
تقریبات میں رقص کی وجہ سے زیورات پہننے، بال سنوارنے اور سج دھج کے ساتھ رہنا ان کی فطرت بن گیا تھا۔ لیکن زندگی ان کے لیے اتنی بھی آسان نہیں تھی۔ ان کے رقص اور حسن کی شہرت چاروں جانب پھیلنے لگی۔
ڈاکو سلطانہ کا سامنا اور زندگی میں نیا موڑ
ایک محفلِ رقص کے دوران اپنے زمانے کے خطرناک ترین لٹیرے سلطانہ ڈاکو کی نظر پُتلی بائی پر پڑی اور وہ دل ہار بیٹھا۔ اس نے پُتلی بائی کو اپنے ساتھ چلنے کی پیشکش کی، انکار پر اس نے گوہر جان کے بھائی علاءالدین کے سینے پر بندوق تان دی۔ بھائی کی جان بچانے کے لیے پُتلی بائی کو اس کے ساتھ جانا پڑا۔
انڈین فلم انڈسٹری میں متعدد اداکاراؤں کو ’ڈاکو رانی‘ یا ولن کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ فائل فوٹو
اگرچہ سلطانہ ڈاکو عورت کے معاملے میں ذرا محتاط رہتا تھا اور اس کا ماننا تھا کہ عورت کا گروہ میں ہونا خطرناک ہے لیکن وہ گوہر جان کے معاملے میں اپنے اس اصول پر قائم نہ رہ سکا۔
گوہر جان نے وہاں سے بھاگنے کی کئی کوششیں کی اور ایک بار موقع پا کر واپس گھر بھی لوٹ آئیں، مگر پولیس نے انہیں سلطانہ کا پتا بتانے کے لیے بے رحمی سے ستایا۔ جیل سے رہائی کے بعد حالات نے انہیں دوبارہ سلطانہ ہی کی پناہ میں دھکیل دیا۔
اور پتلی بائی نے بیہڑوں کی زندگی میں سلطانہ کو اپنا سب کچھ مان لیا۔ سلطانہ ڈکیتیاں ڈال کر ان کے لیے قیمتی زیورات لاتا اور پُتلی بائی انہی زیورات سے سج کر انہیں خوشی کا سامان فراہم کرتیں۔ اسی دوران انہوں نے بندوق چلانا بھی سیکھ لیا۔
وقت کے ساتھ پُتلی بائی ماں بنیں اور ایک بیٹی کو جنم دیا، مگر خوشی کا یہ دور زیادہ دن قائم نہ رہ سکا۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو خود سے اور جنگل کی زندگی سے دور بھیج دیا۔
سلطانہ کی موت اور انتقام
مئی 1955 میں ایک ڈکیتی کے دوران پولیس مڈبھیڑ میں ڈاکو سلطانہ مارا گیا۔ اس خبر نے پُتلی بائی کو توڑ کر رکھ دیا۔ انہیں شک تھا کہ اس موت کے پیچھے ڈاکو کلا یا کالا کا ہاتھ ہے اور پولیس جھوٹا دعوی کر رہی۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو اس کے متعلق ایک خط بھی لکھا کہ پولیس سلطانہ کو مارنے کے معاملے میں غلط دعوی کر رہی ہے۔
بیٹی سے ملنے دھولپور کے ایک گاؤں پہنچیں تو پولیس نے انہیں گھیر لیا اور انہیں ہتھیار ڈالنا پڑا۔ جیل سے چھوٹنے کے بعد پُتلی بائی نے ایک بار پھر سے بیہڑوں کا رخ کیا، کلا کو قتل کر کے سلطانہ کی جگہ گینگ کی سردار بن بیٹھیں۔
سونے کے زیورات، چاندی کا پیالہ اور خون آلود شہرت
سردار بنتے ہی پُتلی بائی کا نام دور دور تک پھیل گیا۔ وہ سونے کے زیورات پہن کر، بالوں کی لمبی چوٹی بنا کر ڈکیتی ڈالنے نکلتی تھیں۔ سلطانہ کے بعد انہیں گروہ کے کئی داکوؤں نے شادی کا پیغام دیا لیکن انہوں سب کے پیغام کو ٹھکرا دیا۔ وہ سلطانہ سے حقیقی محبت کرنے لگی تھیں۔ سلطانہ کے غم میں وہ شراب کی عادی ہو چکی تھیں اور خاص قسم کی شراب چاندی کے پیالے میں پیتی تھیں۔
ملکھان سنگھ کا کہنا ہے کہ آج کی ڈاکو حسینہ اور پتلی بائی میں بہت فرق ہے۔ فائل فوٹو: سکرین گریب
جہاں ان کی خوبصورتی کے چرچے تھے، وہیں ان کی بے رحمی بھی ضرب المثل بن چکی تھی۔ راستے میں جو آڑے آتا، گولی مار دیتیں، اور عورتوں سے زیورات اتروانے میں ذرا رحم نہ کرتیں، لیکن ان کی جان بخش دیتی تھیں۔
جنوری 1958 میں پولیس نے مورینہ میں ڈاکو لکھن کے گینگ کو پکڑنے کے لیے جال بچھایا، مگر اتفاقاً پُتلی بائی وہاں پہنچ گئیں۔ پولیس سے مڈبھیڑ ہوئی اور صرف 30-31 سال کی عمر میں گولی لگنے سے پُتلی بائی کی موت ہو گئی۔
لیکن اس سے قبل ایک ڈاکے کے دوران ان کو گولی لگ گئی تھی اور ان کے ایک ہاتھ کو کاٹنا پڑا تھا اور ایک ہاتھ سے ہی بندوق چلانے میں انہیں مہارت حاصل تھی۔
یادگاریں جو آج بھی موجود ہیں
وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے ساگر میں واقع جواہر لعل نہرو پولیس اکیڈمی کے عجائب گھر میں آج بھی پُتلی بائی کے سونے کے زیورات، بالوں کی چوٹی، گھڑی، رائفل کا کور، شراب کی بوتل اور چاندی کا پیالہ محفوظ ہے۔ یہ اشیاء اس بات کی گواہ ہیں کہ پُتلی بائی ایک ساتھ سنگھار کی شوقین، محبت میں دلبرادشتہ اور سفاک ڈاکو سردار تھیں۔
نوبھارت ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اپنے زمانے کے خونخوار ڈاکو سردار ملکھان سنگھ نے، جو کبھی چمبل کی گھاٹیوں میں دہشت کا مترادف تھے، بھی پتلی بائی کی ہمت کی مثال پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ’مرد‘ تھی اور انکاؤنٹر میں پولیس کا زبردست مقابلہ کرتی تھی۔
اپنی بے خوفی اور بہادری کے لیے مشہور پتلی بائی 23 جنوری 1958 کو شیو پوری کے جنگلات میں پولیس کے ساتھ مقابلے میں ماری گئیں۔
ملکھان سنگھ کا کہنا ہے کہ آج کی ڈاکو حسینہ اور پتلی بائی میں بہت فرق ہے۔ بعد کی ڈاکو حسینہ مردوں پر منحصر رہیں، جبکہ پتلی بائی نے خود اپنے گروہ کی قیادت کی۔ زیادہ تر مقابلوں میں پتلی بائی نے بھاری پولیس فورس کو پسپا کیا۔
یوں ناچنے والی گوہر بانو سے لے کر چمبل کی بیہڑوں کی خوفناک ملکہ پُتلی بائی تک کا یہ سفر جرم، محبت، انتقام اور انجام کی ایک عبرتناک داستان بن کر تاریخ میں ثبت ہو گیا۔