سر کی قیمت ایک لاکھ 20 ہزار ڈالر، انڈیا میں ماؤ نواز باغی کمانڈر ہلاک
سر کی قیمت ایک لاکھ 20 ہزار ڈالر، انڈیا میں ماؤ نواز باغی کمانڈر ہلاک
جمعرات 25 دسمبر 2025 15:21
انڈیا نکسلی بغاوت کے باقی ماندہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہا ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پولیس حکام کے مطابق انڈین سکیورٹی فورسز نے جمعرات کو ایک کارروائی میں ایک سینیئر ماؤ نواز باغی کمانڈر سمیت تین دیگر جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا، جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی گوریلوں کے خلاف جاری ایک بڑے آپریشن کا حصہ ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انڈیا نے باغیوں کے خلاف بھرپور مہم شروع کر رکھی ہے اور عزم ظاہر کیا ہے کہ مارچ 2026 تک ماؤ نواز بغاوت کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔
مشرقی ریاست اڈیشہ کی پولیس نے بتایا کہ انہیں اطلاع ملنے کے بعد کندھمال ضلع میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران ماؤ نواز کمانڈر گنیش اوئیکے کو ہلاک کیا گیا۔ 69 سالہ اوئیکے انڈیا کی اس ساحلی ریاست میں ماؤ نواز باغیوں کے سربراہ تھے اور ان کے سر پر ایک لاکھ 20 ہزار ڈالر سے زائد کا انعام تھا۔
ریاست کے ایک اعلٰی پولیس افسر یوگیش بہادر کھرانیہ نے کہا کہ ’فائرنگ کے بعد ماؤ نوازوں کی چار لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں ایک اوئیکے کی تھی۔‘
انہوں نے بتایا کہ باقی تین افراد، جن میں دو خواتین اور ایک مرد تھا، بھی باغی جنگجو تھے، تاہم ان کی شناخت کی جا رہی ہے۔
سکیورٹی فورسز کو اس کارروائی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اسی ریاست میں بدھ کو بھی دو ماؤ نواز جنگجو مارے گئے تھے۔
انڈیا نکسلی بغاوت کے باقی ماندہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہا ہے، جس کا نام ہمالیہ کے دامن میں واقع اس گاؤں سے منسوب ہے جہاں تقریباً 60 برس قبل ماؤ نواز نظریات سے متاثرہ یہ بغاوت شروع ہوئی تھی۔
انڈیا حکومت نے مارچ 2026 تک ماؤ نواز بغاوت کے خاتمے کا عزم کیا ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایک وقت میں یہ تحریک ملک کے تقریباً ایک تہائی حصے پر قابض تھی اور سنہ 2000 کی دہائی کے وسط میں اس کے جنگجوؤں کی تعداد 15 ہزار سے 20 ہزار کے درمیان بتائی جاتی تھی، تاہم حالیہ برسوں میں یہ نمایاں طور پر کمزور ہو چکی ہے۔
انڈین حکومت کے مطابق سنہ 2024 سے اب تک 500 سے زائد ماؤ نواز باغی مارے جا چکے ہیں۔