Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایٹمی مذاکرات پر صدر ٹرمپ کی ایران کو دھمکیاں، ’وقت ختم ہو رہا ہے‘

ایران کی جانب سے مذاکرات کی دعوت مسترد ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر حملے کی دھمکیاں دہراتے ہوئے کہا کہ ’ایران کے پاس جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر معاہدہ کرنے کے لیے ’وقت ختم ہوتا جا رہا ہے۔‘
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی صدر نے بدھ کو سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ ’امید ہے کہ ایران جلدی ’مذاکرات کی میز پر آئے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ایران ایک منصفانہ اور متوازن معاہدہ کرے، کوئی جوہری ہتھیار نہیں، ایسا معاہدہ جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔ وقت ختم ہو رہا ہے اور ایک بڑا بحری بیڑا اُس کی جانب بڑھ رہا ہے۔‘
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے ایران سے پہلے بھی کہا تھا کہ ڈیل کر لو! لیکن اُس نے نہیں کی، اور پھر ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کیا گیا، جس میں ایران کو شدید نقصان پہنچا۔ اگلا حملہ اِس سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوگا۔‘
امریکی صدر کے ان دھمکی آمیز بیانات کے بعد ایران کے اعلٰی سفارت کار کا کہنا ہے کہ ’اُن کا ملک کسی فوجی کارروائی کے دباؤ کے سائے میں مذاکرات نہیں کرے گا۔‘
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو ٹیلی وژن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’فوجی دھمکیوں کے ذریعے سفارت کاری مؤثر یا فائدہ مند نہیں ہو سکتی۔‘ 
’اگر امریکی صدر چاہتے ہیں کہ مذاکرات شروع ہوں تو وہ دھمکیاں، بہت زیادہ مطالبات اور غیر منطقی مسائل اُٹھانا ترک کردیں۔‘
اس سے قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس وقت ایک اور جنگی بحری بیڑا ایران کی جانب جا رہا ہے۔ 
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی صدر نے جنگی بحری بیڑے کی بارے میں بات کرتے ہوئے اس امید ہے کا اظہار بھی کیا کہ ’ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کر لے گا۔‘ 
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ایک تقریر میں کہا کہ ’اس وقت ایک اور خوب صورت جنگی بحری بیڑا بڑی خوب صورتی سے ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔‘‘
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ ایٹمی پروگرام پر معاہدے کے حوالے سے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ وہ ڈیل کر لے گا۔‘
 

شیئر: