Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈالر چار سال کی کم ترین سطح پر، ٹرمپ کی جانب سے کرنسی کی قدر میں گراوٹ نظرانداز

2025  میں اب تک ڈالر تقریباً 10 فیصد گر چکا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے اس پر کسی تشویش کا اظہار نہیں کیا۔ (فوٹو: روئٹرز)
امریکی ڈالر منگل کے روز مزید کمزور ہو کر مختلف کرنسیوں کے مقابلے میں چار سال کی کم ترین سطح پر آ گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ڈالر کی قدر میں اس وقت مزید گراوٹ آئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قدر میں بہت زیادہ گراوٹ کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ڈالر کی قدر ’بہترین‘ ہے۔ 
2025  میں اب تک ڈالر تقریباً 10 فیصد گر چکا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے اس پر کسی تشویش کا اظہار نہیں کیا۔

تاجروں اور سرمایہ کاروں کے ردِعمل

ٹی ڈی سیکیورٹیز کے سینئر ریٹس سٹریٹجسٹ پرشانت نیواہا کا کہنا ہے کہ ’ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کرنسی کی گراوٹ سے پریشان نہیں ہیں، حالانکہ ڈالر 2025 میں 10 فیصد گر چکا ہے۔ ٹرمپ کی حکمتِ عملی سادہ ہے: وسط مدتی انتخابات تک معیشت کو گرم رکھنا اور فیڈرل ریزرو پر دباؤ ڈالنا، جو شرحِ سود کم کرنے سے ہچکچا رہا ہے، اس دوران ڈالر کو کمزور ہونے دینا۔ ٹرمپ دراصل ڈالر فروخت کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تصور کریں کہ کوئی غیر ملکی سرمایہ کار 4 فیصد پر امریکی ٹریژریز رکھے لیکن ڈالر میں 10 فیصد نقصان اٹھائے۔ اس لیے سرمایہ کاروں کے لیے افراطِ زر سے بچاؤ اہم ہے۔‘
پِنیکل انویسٹمنٹ مینجمنٹ سڈنی کے چیف انویسٹمنٹ سٹریٹجسٹ انتھونی ڈوئل کا کہنا ہے کہ ’ایشیا کے لیے کمزور ڈالر واقعی مددگار ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے درآمدی افراطِ زر کم ہوتا ہے اور مقامی کرنسیوں پر دباؤ گھٹتا ہے۔
لیکن اگر ڈالر اس لیے گر رہا ہے کہ سرمایہ کار امریکہ پر اعتماد کم کر رہے ہیں، تو اس سے اتار چڑھاؤ بڑھے گا اور مالی حالات سخت ہوں گے، اور ایشیا کو یہ صورتحال سوٹ نہیں کرتا۔ ٹرمپ کا بیان اس لیے اہم ہے کہ یہ پیش گوئی نہیں بلکہ برداشت کا اشارہ ہے، جس سے ڈالر کے حوالے سے تحفظ کمزور محسوس ہوتا ہے۔‘
کیپیٹل ڈاٹ کام، ملبورن، کے سینئر مارکیٹ اینالسٹ کائل روڈا کا کہنا ہے کہ ’یہ امریکی ڈالر پر اعتماد کے بحران کو ظاہر کرتا ہے۔ جب تک ٹرمپ انتظامیہ غیر متوازن تجارتی، خارجہ اور معاشی پالیسیوں پر قائم رہے گی، ڈالر کی کمزوری برقرار رہ سکتی ہے۔‘
’یہ کمزور ڈالر مضبوط بنیادی معاشی حقائق کے برعکس ہے۔ امریکی معیشت اب بھی غیر معمولی طور پر مضبوط ہے، مگر ٹرمپ کے رویے کی وجہ سے ڈالر اس کی عکاسی نہیں کر رہا۔‘
کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کے کرنسی سٹریٹجسٹ کیرول کانگ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے یہ بیانات نئے نہیں ہیں۔ وہ ماضی میں بھی کمزور ڈالر کی حمایت کرتے رہے ہیں اور ایشیائی کرنسیوں کی کمزوری پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
لیکن یہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب امریکہ اور جاپان کی جانب سے مربوط فارن ایکسچینج مداخلت کی قیاس آرائیاں جاری ہیں، جس سے ڈالر کو کمزور کرنے کی توقعات مزید بڑھ گئی ہیں۔‘

شیئر: