’غیرمسلح نہ ہونے پر حماس کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی‘، ٹرمپ کی ایران کو بھی دھمکی
’غیرمسلح نہ ہونے پر حماس کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی‘، ٹرمپ کی ایران کو بھی دھمکی
منگل 30 دسمبر 2025 9:24
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس پر زور دیا ہے کہ وہ غیر مسلح ہو جائے ورنہ اسے بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
انہوں نے ایران کو بھی خبردار کیا کہ اگر اس نے جوہری پروگرام یا بیلسٹک میزائل بنانے کا کام بحال کیا تو امریکہ اس پر ایک اور بڑے حملے کی حمایت کرے گا۔
خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ہمراہ فلوریڈا میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’اگر وہ غیر مسلح نہیں ہوتے، جس پر انہوں نے پہلے رضامندی ظاہر کی تھی، تو ان کو اس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘
اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگاتے ہیں اور اگلے مرحلے کے مشکل نکات کو تسلیم کرتے نظر نہیں آ رہے۔
حماس کے غیر مسلح نہ ہونے اور کنٹرول بڑھانے کی کوششوں کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ اب بھی تقریباً نصف سے زیادہ علاقے میں اسرائیلی فوج موجود ہے۔
صدر ٹرمپ نے حماس پر فوری طور پر غیر مسلح نہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دلیل دی کہ اسرائیل اپنی طرف سے معاہدے پر قائم ہے۔
ان کے مطابق ’حماس سنگین نتائج کو دعوت دے رہی ہے، اسے کم وقت میں غیر مسلح ہونا ہو گا۔‘
صدر ٹرمپ کھل کر اپنا وزن نیتن یاہو کی حمایت کے پلڑے میں ڈال چکے ہیں جو کہ غزہ فائر بندی کے معاہدے کے اگلے مرحلے کے حوالے سے بہت سخت موقف رکھتے ہیں۔
فلوریڈا میں ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے مشترکہ پریس کانفرنس کی (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر کے مطابق ’مجھے اس بارے میں کوئی فکر نہیں کہ اسرائیل کیا کر رہا ہے، میں فکرمند ہوں کہ دوسرے لوگ کیا کر رہے ہیں یا شاید نہیں کر رہے۔‘
علاوہ ازیں صدر ٹرمپ نے ایران کے ہتھیاروں کے پروگرام کے حوالے سے کہا کہ وہ امریکہ کے بڑے حملے کے بعد اس کو بحال کرنے پر کام کر رہا ہے۔
’میں پڑھ رہا ہوں کہ وہ ہتھیاروں اور دوسری چیزوں کو پھر سے کھڑا کر رہے ہیں جس کے لیے وہ ان سائٹس کو استعمال نہیں کر رہے جن کو ہم نے ختم کر دیا تھا بلکہ ممکنہ طور پر مختلف سائٹس استعمال ہو رہی ہیں۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ وہ یہ سب کہاں پر کر رہے ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ہم بی ٹو پر ایندھن ضائع نہیں کرنا چاہتے۔‘
انہوں نے پچھلے حملے میں استعمال ہونے والے بمبار جہاز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’دونوں طرف سے 37 گھنٹے کا سفر ہے اور میں زیادہ ایندھن ضائع نہیں کرنا چاہتا۔‘
حالیہ مہینوں کے دوران تہران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے سے متعلق بات کرنے والے صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی نیتن یاہو کے ساتھ گفتگو غزہ کے نازک معاہدے کو آگے بڑھانے اور ایران اور لبنان میں حزب اللہ سے متعلق اسرائیلی خدشات دور کرنے پر مرکوز تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلز کی تیاری پھر سے بحال کر رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایران جس نے جون کے دوران اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ لڑی، کی جانب سے پچھلے ہفتے کہا گیا تھا کہ اس نے ایک مہینے میں دوسری بار میزائلوں کی مشقیں کی ہیں۔
جس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے تاہم اس بارے میں صدر ٹرمپ سے بات کریں گے۔
غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے بارے میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس کی طرف بڑھا جائے۔
امریکی صدر نے رواں ماہ اسرائیلی صدر کو بات چیت کے لیے دعوت دی تھی کیونکہ واشنگٹن فلسطینی علاقے میں عبوری حکومت کے قیام پر زور دے رہا ہے جبکہ اسرائیل ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔