Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات، غزہ منصوبے کے اگلے مرحلے پر مشاورت

صحافیوں سے گفتگو کے دوران امریکی صدر کا لہجہ نیتن یاہو کے لیے انتہائی معاون تھا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے درمیان ریاست فلوریڈا میں ایک اہم ملاقات ہوئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کو ہونے والی اس کا محور غزہ میں جنگ بندی کے تعطل کو ختم کرنا اور ایران و حزب اللہ کے حوالے سے اسرائیلی خدشات پر تبادلہ خیال تھا۔
فلوریڈا میں ٹرمپ کے ’مار اے لاگو‘ کلب میں داخل ہوتے وقت صحافیوں سے گفتگو کے دوران امریکی صدر کا لہجہ نیتن یاہو کے لیے انتہائی معاون تھا حالانکہ بعض مشیروں اور اتحادیوں کی جانب سے یہ اشارے مل رہے تھے کہ اسرائیلی رہنما اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد میں دانستہ تاخیر کر رہے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقعے پر واضح کیا کہ وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی جانب جلد از جلد پیش رفت چاہتے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’حماس کو غیر مسلح کرنا لازمی ہو گا۔‘
امریکی صدر نے ایران کے حوالے سے بھی سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے اپنے بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگرام پر کام جاری رکھا تو وہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر ایک اور جوابی حملے کی حمایت کر سکتے ہیں۔
اس موقعے پر نیتن یاہو کی تعریف کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اگر آپ کے پاس غلط وزیراعظم ہوتا تو شاید اسرائیل کا وجود ہی نہ ہوتا۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے انہیں بتایا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو بدعنوانی کے الزامات میں معافی دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اسرائیل اور شام کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں، اگرچہ گزشتہ برس بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسرائیلی حکومت مسلسل شام کی خود مختاری کی خلاف ورزی کرتی آئی ہے۔
اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ تو طے پا گیا تھا لیکن طویل مدتی اہداف پر کوئی خاص پیش رفت نظر نہیں آ رہی اور خلاف ورزیاں بھی تواتر سے جاری ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ سرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی جانب جلد از جلد پیش رفت چاہتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

نیتن یاہو نے رواں ماہ بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں ان مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے جبکہ واشنگٹن غزہ میں عبوری انتظامیہ اور بین الاقوامی سیکورٹی فورس کے قیام کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جس پر اسرائیل تذبذب کا شکار ہے۔
اگرچہ واشنگٹن نے حالیہ عرصے میں اسرائیل کے اپنے حریفوں یعنی حماس، ایران اور لبنان کے ساتھ تین جنگ بندیاں کرائی ہیں تاہم نیتن یاہو کو خدشہ ہے کہ جنگ میں کمزور ہونے والے ان کے دشمن اپنی طاقت دوبارہ مجتمع کر سکتے ہیں۔
غزہ معاہدے کے مطابق اسرائیل کو علاقے سے انخلا کرنا ہے جبکہ حماس کو ہتھیار ڈال کر اقتدار سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ تاہم ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق نیتن یاہو دوسرے مرحلے پر جانے سے پہلے حماس کے قبضے میں موجود آخری اسرائیلی مغوی ’ران گویلی‘ کی باقیات کی واپسی کا مطالبہ کریں گے۔
اسرائیل نے اب تک مصر کے ساتھ رفح کراسنگ بھی اسی شرط پر نہیں کھولی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اسرائیل اور شام کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

تل ابیب یونیورسٹی کے ماہر سیاسیات چک فریلیچ کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل میں اکتوبر میں ہونے والے انتخابات کے باعث نیتن یاہو دباؤ میں ہیں اور وہ انتخابی سال میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کسی تصادم کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس لیے انہیں کچھ سمجھوتے کرنا پڑیں گے۔‘
واضح رہے کہ غزہ میں کشیدگی برقرار ہے اور جنگ بندی کے باوجود اکتوبر سے اب تک 400 سے زائد فلسطینی اور تین اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
ادھر لبنان میں بھی حزب اللہ کے غیرمسلح ہونے کے عمل پر تنازع برقرار ہے اور اسرائیل کی جانب سے وہاں فضائی حملے جاری ہیں جس سے خطے میں قیام امن کی کوششیں بدستور خطرات کا شکار ہیں۔

 

شیئر: