Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کو ایس ٹی سی پر امارات کے دباؤ پر تشویش، سلامتی سے متعلق خطرات پر انتباہ

سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) پر یمن کے صوبوں حضرموت اور المھرہ میں فوجی کارروائی کے لیے دباؤ ڈالے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کا اقدام مملکت کی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
 عرب نیوز کے مطابق سعودی وزارت خارجہ نے منگل کو جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ رپورٹ ہونے والے اقدامات عرب اتحاد کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے جو کہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتے ہیں اور اس اقدام سے ملک میں سلامتی اور استحکام کے لیے ہونے والی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
وزارت کی جانب سے یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے بیان اور اتحاد میں شامل قیادت کی اس تشویش کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ فجیرہ بندرگاہ سے ہتھیار اور بھاری گاڑیاں لے جانے والے جہاز سرکاری اجازت کے بغیر روانہ کیے گئے۔
سعودی عرب کی جانب سے زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ قومی سلامتی کو لاحق کوئی بھی خطرہ ایک ’سرخ لکیر‘ ہے اور ایسے خطرات کا مقابلہ اور ان کو بے اثر کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
 مملکت نے ایک بار پھر یمن کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری کے علاوہ وہاں کی صدارتی قیادت کونسل اور حکومت کی مکمل حمایت کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
بیان میں اس امر کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ جنوبی حصے کا معاملہ ایک ایسا ایشو ہے جس کا سیاسی حل صرف بات چیت کے ذریعے ڈھونڈا جا سکتا ہے جس میں یمن کے تمام فریق بشمول ایس ٹی سی کے شامل ہوں۔

 

ریاض نے یمن کی جانب سے  متحدہ عرب امارات کو 24 گھنٹوں کے اندر اپنے فوجی دستوں کو واپس بلانے اور کسی بھی یمنی دھڑے کی فوجی یا مالی مدد روکنے کی درخواست پر زور دیتے ہوئے اس کے ردعمل کو بہت اہم قرار دیا ہے۔
بیان میں خلیجی اتحاد، دو طرفہ تعلقات اور علاقائی استحکام اور مشترکہ ترقی کے اہداف کو برقرار رکھنے کے لیے حکمت کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

 

شیئر: