عرب اتحاد کا یمن میں اسلحہ سمگل کرنے والے دو بحری جہازوں پر ’محدود‘ فضائی حملہ
عرب اتحاد کا یمن میں اسلحہ سمگل کرنے والے دو بحری جہازوں پر ’محدود‘ فضائی حملہ
منگل 30 دسمبر 2025 6:08
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے ایک ’محدود‘ فضائی حملہ کیا ہے جس کا ہدف دو ایسے جہاز تھے جو سرکاری اجازت نامے حاصل کیے بغیر جنوبی یمن کی المکلا بندرگاہ میں ہتھیار لانے کی کوشش کر رہے تھے۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے ذریعے جاری کیے گئے بیان میں اتحاد ی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ سے آنے والے دو جہاز اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمان سے باضابطہ اجازت حاصل کیے بغیر جنوبی یمن کی مکلا بندرگاہ میں داخل ہوئے تھے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ’دونوں جہازوں کے عملے نے دونوں جہازوں کے ٹریکنگ سسٹمز کو ناکارہ بنا دیا اور بڑی مقدار میں اسلحہ اور جنگی گاڑیاں اتاریں تاکہ مشرقی یمن کے صوبوں حضرموت اور المھرہ میں جنوبی عبوری کونسل کی افواج کی حمایت کی جا سکے جس کا مقصد تنازع کو مزید ہوا دینا ہے۔ یہ جنگ بندی نافذ کرنے اور پُرامن حل تک پہنچنے کی کوششوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر (2216) 2015 کی بھی خلاف ورزی ہے۔‘
المالکی نے کہا کہ اتحادی افواج نے یمنی صدارتی قیادت کونسل کے صدر کی درخواست پر کارروائی کی جس میں ’حضرموت اور المھرہ کے شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری عسکری اقدامات کرنے کا کہا گیا تھا۔‘
ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ان ہتھیاروں سے پیدا ہونے والے خطرے اور کشیدگی کے پیش نظر جو امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں، اتحادی فضائی افواج نے آج صبح ایک محدود فوجی کارروائی کی، جس میں المکلا بندرگاہ پر دونوں جہازوں سے اتارے گئے ہتھیاروں اور جنگی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی ہتھیار اتارنے کی دستاویزی تصدیق کے بعد کی گئی اور یہ فوجی کارروائی بین الاقوامی انسانی قانون اور اس کے اصولوں کے مطابق کی گئی، جس میں اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ عام شہریوں اور املاک کو کسی قسم کا نقصان نہ ہو۔‘
گوگل میپ جس میں جنوبی یمن میں المکلا کا علاقہ دکھایا گیا ہے
المالکی نے اتحاد کے اس عزم کی توثیق کی کہ وہ ’حضرموت اور المھرہ میں کشیدگی کم کرنے اور امن برقرار رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور کسی بھی ملک کی جانب سے کسی یمنی فریق کو ، یمن کی قانونی حکومت اور اتحاد کی اجازت کے بغیر کسی بھی قسم کی عسکری مدد فراہم کرنے سے روکے گا۔ اس کا مقصد مملکت اور اتحاد کی جانب سے امن و استحکام کے حصول کی کوششوں کو کامیاب بنانا اور تنازع کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔‘
اتحاد کے ساتھ کیے گئے سابقہ معاہدوں کو نظرانداز کرتے ہوئے خود کو جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کہلانے والے گروپ نے دسمبر کے اوائل میں وسیع پیمانے پر فوجی مہم شروع کی جس کے دوران اس نے سعودی عرب کی سرحد کے ساتھ واقع حضرموت کے علاقوں اور عمان کی سرحد سے متصل مشرقی صوبے المھرہ پر قبضہ کر لیا۔
متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ ایس ٹی سی فورسز نے شہر سیئون پر قبضہ کر لیا جس میں اس کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور صدارتی محل بھی شامل ہے۔ انہوں نے سٹریٹیجک پیٹرو مسیلا آئل فیلڈ کا بھی کنٹرول سنبھال لیا جو یمن کے باقی ماندہ تیل کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ ہیں۔
اس کے نتیجے میں سعودی عرب نے ایس ٹی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ قبضے والے علاقوں سے واپس جائیں اور انہیں نیشنل شیلڈ فورسز کے حوالے کریں، جو سعودی عرب کا حمایت یافتہ یونٹ ہے۔
ایس ٹی سی فورسز کو متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہے (فوٹو: اے ایف پی)
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اتحاد نے خبردار کیا کہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی عسکری حرکت کا فوری طور پر جواب دیا جائے گا تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
26 دسمبر کو متحدہ عرب امارات نے ایک بیان جاری کیا جس میں یمن میں امن و استحکام کی حمایت کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کا خیرمقدم کیا گیا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کے ذریعے جاری بیان میں یمن کے عوام کے مفادات اور ان کے امن و خوشحالی کی خواہش کی حمایت میں سعودی عرب کے مثبت کردار کی تعریف کی گئی۔