Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسیر کرد رہنما کی ترک حکومت سے شام اور کردوں کے درمیان امن معاہدہ کرانے کی اپیل

امریکہ کی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف کی ریڑھ کی ہڈی وائی پی جی ہے، جو ایک کرد عسکری گروہ ہے، جسے ترکیہ پی کے کے کی توسیع سمجھتا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اسیر ترک کرد رہنما عبداللہ اوجلان نے منگل کے روز کہا کہ ترکی کی حکومت کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ وہ کرد شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) اور دمشق حکومت کے درمیان امن معاہدہ کرانے میں کردار ادا کرے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شامی فورسز اور ایس ڈی ایف کے درمیان جھڑپوں نے اس معاہدے پر شکوک پیدا کر دیے ہیں، جس کے تحت ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں کو فوج میں ضم کیا جانا تھا، اور جس پر سال کے اختتام تک عملدرآمد ہونا تھا۔
کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے بانی عبدللہ اوجلان نے ترکیہ پر زور دیا کہ وہ مارچ میں ایس ڈی ایف اور شامی حکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے میں مدد کرے۔ شامی حکومت کی قیادت سابق جہادی احمد الشرع کر رہے ہیں، جن کی افواج نے گزشتہ سال طویل عرصے سے برسرِ اقتدار بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔
انہوں نے ترکیہ کی کرد نواز ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں کہا، ’ترکیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعمیری انداز میں اور مکالمے کو فروغ دینے کے مقصد کے ساتھ ایک سہولت کار کا کردار ادا کرے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’یہ نہ صرف علاقائی امن کے لیے بلکہ ترکیہ کے اپنے داخلی امن کو مضبوط بنانے کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔‘ عبداللہ اوجلان گزشتہ 26 برس سے قید میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’10 مارچ کو ایس ڈی ایف اور دمشق حکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا بنیادی مطالبہ ایک ایسا جمہوری سیاسی ماڈل ہے جو شام کے عوام کو حکمرانی کا اختیار دے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’یہ نقطۂ نظر جمہوری انضمام کے اصول کو بھی شامل کرتا ہے، جس پر مرکزی حکام کے ساتھ بات چیت کی جا سکتی ہے۔ 10 مارچ کے معاہدے پر عملدرآمد اس عمل کو آسان اور تیز کرے گا۔‘
امریکہ کی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف کی ریڑھ کی ہڈی وائی پی جی ہے، جو ایک کرد عسکری گروہ ہے اور جسے ترکیہ، پی کے کا حصہ سمجھتا ہے۔
ترکیہ اور شام دونوں کو اپنے کرد اکثریتی علاقوں میں طویل عرصے سے بدامنی کا سامنا ہے، جو ان کی مشترکہ سرحد کے دونوں جانب پھیلے ہوئے ہیں۔
ترکیہ میں پی کے کے نے رواں سال عبداللہ اوجلان کی اپیل پر اپنی چار دہائیوں پر محیط مسلح جدوجہد ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
شام میں احمد الشرع نے کردوں کی نیم خودمختار انتظامیہ کو مرکزی حکومت میں ضم کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم مہلک جھڑپوں اور متعدد اختلافات کے باعث اس معاہدے پر عملدرآمد میں تاخیر ہو رہی ہے۔
ترکی کے وزیرِ خارجہ حکان فدان، جن کا ملک سرحد پار کرد جنگجوؤں کو ایک خطرہ سمجھتا ہے، نے گزشتہ ہفتے ایس ڈی ایف پر زور دیا کہ وہ استحکام کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔
شامی کرد رہنما مظلوم عبدی نے جمعرات کے روز کہا کہ مذاکرات کو ناکام ہونے سے بچانے کے لیے ’تمام تر کوششیںکی جا رہی ہیں۔

شیئر: