امارات کا یمن سے انسداد دہشتگردی یونٹس واپس بلانے کا اعلان، سعودی خودمختاری کے احترام کا اعادہ
عرب اتحاد نے یمن میں اسلحہ سمگل کرنے والے دو بحری جہازوں پر فضائی حملہ کیا۔ فائل فوٹو
متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنے باقی ماندہ انسداد دہشتگردی یونٹس کے انخلا کا اعلان کیا ہے۔
منگل کو اماراتی نیوز ایجنسی پر جاری کیے بیان میں یو اے ای کی وزارت دفاع نے کہا کہ یہ فیصلہ رضاکارانہ طور پر اور متعلقہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی میں لیا گیا جس کے ذریعے امارات کے اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدام موجودہ حالات کے جامع جائزے کے بعد لیا گیا جو علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے متحدہ عرب امارات کے وسیع تر وعدوں سے ہم آہنگ ہے۔
قبل ازیں متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کسی بھی ایسے اقدام کو مسترد کیا جس سے مملکت کو خطرہ ہو یا علاقائی استحکام کو نقصان پہنچے۔
عرب نیوز کے مطابق منگل کے روز یمن میں پیشرفت کے حوالے سے سعودی عرب کے حالیہ ریمارکس کے جواب میں جاری کردہ ایک بیان میں متحدہ عرب امارات نے زور دیا کہ وہ سعودی عرب کی قومی سلامتی کا مکمل احترام کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ اور تاریخی تعلقات کو علاقائی استحکام کی بنیاد سمجھتا ہے۔
ابوظہبی نے باہمی تشویش کے تمام معاملات پر ریاض کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے اپنے عزم کو دہرایا۔
متحدہ عرب امارات نے کہا کہ یمن کے مشرقی گورنریٹس حضرموت اور المہرہ میں واقعات کے آغاز کے بعد سے اس کی پوزیشن سعودی عرب کے ساتھ ہم آہنگی میں کشیدگی پر قابو پانے، کشیدگی میں کمی کی حمایت، اور افہام و تفہیم کے لیے کام کرنے پر مرکوز رہی ہے جو سلامتی، استحکام اور شہریوں کے تحفظ کو برقرار رکھتی ہے۔
ابوظہبی نے یمنی دھڑوں کے درمیان کشیدگی میں ملوث ہونے کی کسی بھی کوشش کو واضح طور پر مسترد کر دیا، اور ان الزامات کی مذمت کی کہ اس نے کسی بھی فریق کو سعودی عرب کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے یا اس کی سرحدوں کو نشانہ بنانے والے فوجی آپریشن کرنے کے لیے دباؤ ڈالا یا ہدایت کی۔
متحدہ عرب امارات نے مشرقی یمن میں ہونے والی حالیہ پیشرفت کو بڑھنے سے روکنے کے لیے اس سے ذمہ دارانہ طریقے سے نمٹنے کا مطالبہ کیا۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق امارات نے تصدیق شدہ حقائق پر انحصار کرنے اور مشترکہ مفادات کے تحفظ اور علاقائی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان ہم آہنگی پر زور دیا۔