Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حضرموت اور المہرہ میں ایس ٹی سی کی فوجی کارروائیاں یکطرفہ تھیں: سعودی عرب

سعودی عرب نے کہا ہے کہ یمن کے صوبوں حضرموت اور المہرہ میں جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کی جانب سے حالیہ فوجی نقل و حرکت یک طرفہ طور پر کی گئی اور یہ صدارتی قیادت کونسل یا اتحاد کی قیادت کے ساتھ کسی قسم کے رابطے یا ہم آہنگی کے بغیر انجام دی گئی۔
سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے  جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ان اقدامات کے نتیجے میں بلاجواز کشیدگی میں اضافہ ہوا جس سے یمنی عوام کے تمام طبقات کے مفادات، جنوبی مسئلے اور اتحاد کی کوششوں کو نقصان پہنچا۔‘
بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب نے حالیہ پیش رفت کے دوران ہمیشہ یمن کی اتحاد کو برقرار رکھنے کو ترجیح دی ہے اور دونوں صوبوں میں صورتحال کے حل کے لیے پرامن راستے اختیار کرنے میں مملکت نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
 بیان میں کہا گیا کہ ’مملکت نے برادر متحدہ عرب امارات، صدارتی قیادت کونسل کے صدر اور برادر یمنی حکومت کے ساتھ مل کر صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے کام کیا۔‘
بیان کے مطابق ’سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایک مشترکہ فوجی ٹیم عدن روانہ کی گئی تاکہ جنوبی عبوری کونسل کے ساتھ ضروری انتظامات طے کیے جا سکیں۔ ان انتظامات کا مقصد یہ تھا کہ جنوبی عبوری کونسل کی فورسز کو دونوں صوبوں سے باہر اپنی سابقہ پوزیشنوں پر واپس بھیجا جائے اور ان علاقوں میں موجود کیمپ نیشن شیلڈ فورسز اور مقامی حکام کے حوالے کیے جائیں جو اتحاد کی افواج کی نگرانی میں منظم طریقہ کار کے تحت انجام دیا جائے گا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ کوششیں صورتحال کو اس کی سابقہ حالت میں بحال کرنے کے لیے تاحال جاری ہیں۔‘
سعودی عرب نے یہ بھی کہا کہ وہ ’امید کرتا ہے کہ عوامی مفاد کو مقدم رکھا جائے گا اور جنوبی عبوری کونسل کی جانب سے کشیدگی کے خاتمے اور اس کی فورسز کے دونوں صوبوں سے فوری اور منظم انخلا کے ذریعے صورتحال بہتر بنائی جائے گی۔‘
بیان کے آخر میں کہا گیا کہ ’مملکت تمام یمنی دھڑوں اور قوتوں کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیتی ہے تاکہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جائے جو امن و استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہو اور جس کے نتیجے میں ناپسندیدہ نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔‘

شیئر: