کینیڈا نے ایک بار پھر اپنا امیگریشن نظام ’ایکسپریس انٹری‘ فعال کر دیا ہے جس کے بعد دنیا بھر کے ہنرمند افراد کے ساتھ پاکستانی شہریوں کے لیے بھی مستقل رہائش حاصل کرنے کا راستہ کھل گیا ہے۔
کینیڈین محکمہ امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا کے تحت چلنے والا یہ آن لائن نظام ہنر، تعلیم، زبان پر عبور اور پیشہ ورانہ تجربے کی بنیاد پر امیدواروں کا انتخاب کرتا ہے اور اسے کینیڈا میں قانونی طور پر بسنے کا سب سے منظم اور میرٹ پر مبنی طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ مکمل طور پر آن لائن نظام کینیڈا کے محکمہ امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا (آئی آر سی سی) کے تحت چلایا جاتا ہے اور قومی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے امیدواروں کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں
-
سال 2025، وزارت اوورسیز بیرون ملک ملازمتوں کا ہدف حاصل نہ کر سکیNode ID: 898415
پاکستان میں کینیڈین ہائی کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ محکمہ امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ پاکستان سمیت دنیا بھر سے ہنر مند افراد سے درخواستیں طلب کر رہا ہے۔
ایکسپریس انٹری کیا ہے اور کون درخواست دے سکتا ہے؟
ایکسپریس انٹری بذاتِ خود کوئی ویزا نہیں بلکہ ایک ڈیجیٹل نظام ہے جس کے ذریعے تین وفاقی امیگریشن پروگرامز کی درخواستوں پر کارروائی کی جاتی ہے۔ ان پروگرامز میں ’کینیڈین ایکسپیرینس کلاس‘، ’فیڈرل سکلڈ ورکر پروگرام‘ اور ’فیڈرل سکلڈ ٹریڈز پروگرام‘ شامل ہیں۔ ایکسپریس انٹری پول میں شامل ہونے کے لیے امیدوار کا ان میں سے کم از کم ایک پروگرام کی شرائط پر پورا اترنا ضروری ہوتا ہے۔
کینیڈین ایکسپیرینس کلاس اُن ہنر مند افراد کے لیے مخصوص ہے جن کے پاس کینیڈا میں کام کرنے کا تجربہ ہو اور وہ مستقل رہائش کے خواہشمند ہوں۔ فیڈرل سکلڈ ورکر پروگرام اُن پیشہ ور افراد کو مدنظر رکھتا ہے جنہوں نے بیرونِ ملک تعلیم اور کام کا تجربہ حاصل کیا ہو، جبکہ فیڈرل سکلڈ ٹریڈز پروگرام تعمیرات، صنعت، یوٹیلیٹیز، زراعت اور خوراک سے متعلق مخصوص فنی شعبوں سے وابستہ افراد کے لیے مختص ہے۔
کینیڈین ایکسپیرینس کلاس کے تحت امیدوار کے پاس گزشتہ تین برسوں میں کم از کم ایک سال کا کینیڈا میں حاصل کردہ ہنرمند کام کا تجربہ ہونا ضروری ہے، چاہے وہ فل ٹائم ہو یا پارٹ ٹائم کے مساوی۔ اس پروگرام میں تعلیم لازمی شرط نہیں، تاہم اعلیٰ تعلیم سی آر ایس سکور میں بہتری کا باعث بن سکتی ہے جبکہ جاب آفر کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔
فیڈرل سکلڈ ورکر پروگرام میں گزشتہ دس برسوں کے دوران کم از کم ایک سال کا مسلسل ہنر مندکام کا تجربہ درکار ہوتا ہے، چاہے وہ کینیڈا میں حاصل کیا گیا ہو یا بیرونِ ملک۔ اس پروگرام کے لیے کم از کم ثانوی تعلیم لازمی ہے اور اعلیٰ تعلیم پر اضافی پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔ جاب آفر لازمی نہیں مگر اس کی موجودگی امیدوار کے پوائنٹس بڑھا سکتی ہے۔

فیڈرل سکلڈ ٹریڈز پروگرام کے تحت گزشتہ پانچ برسوں میں کم از کم دو سال کا فنی کام کا تجربہ ضروری ہوتا ہے۔ اس پروگرام میں تعلیم کی شرط نہیں، تاہم امیدوار کے پاس یا تو کینیڈا میں کم از کم ایک سال کی فل ٹائم ملازمت کی پیشکش ہونی چاہیے یا متعلقہ فنی شعبے میں کسی کینیڈین صوبائی یا وفاقی ادارے کی جانب سے جاری کردہ اہلیت کا سرٹیفکیٹ موجود ہونا لازم ہے۔
ایکسپریس انٹری کا طریقۂ کار
ایکسپریس انٹری کا عمل آن لائن پروفائل بنانے سے شروع ہوتا ہے جس میں امیدوار اپنی تعلیم، زبان پر مہارت، کام کے تجربے، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ذاتی معلومات درج کرتا ہے۔ پروفائل مکمل ہونے کے بعد امیدوار ایکسپریس انٹری پول میں شامل ہو جاتا ہے جہاں اس کی درجہ بندی ’کمپری ہینسو رینکنگ سسٹم‘ یعنی سی آر ایس کے تحت کی جاتی ہے۔
امیگریشن حکام وقتاً فوقتاً مختلف ادوار میں ’راؤنڈز آف انویٹیشن‘ کرتے ہیں، جن میں زیادہ پوائنٹس حاصل کرنے والے امیدواروں کو مستقل رہائش کے لیے درخواست دینے کی دعوت دی جاتی ہے۔ دعوت موصول ہونے پر امیدوار مکمل درخواست اور متعلقہ دستاویزات جمع کرواتا ہے، جس کے بعد آئی آر سی سی درخواست کا تفصیلی جائزہ لے کر حتمی فیصلہ کرتا ہے۔ درخواستوں کی کارروائی کا دورانیہ مختلف ہو سکتا ہے اور یہ کسی صورت حتمی ضمانت نہیں ہوتا۔
ایکسپریس انٹری کے تحت مستقل رہائش کی درخواست کے لیے فی بالغ امیدوار 1,525 کینیڈین ڈالر فیس مقرر ہے۔ یہی فیس شریکِ حیات پر بھی لاگو ہوتی ہے جبکہ ہر زیرِ کفالت بچے کے لیے 260 کینیڈین ڈالر ادا کرنا ہوتے ہیں۔ ان اخراجات میں درخواست کی کارروائی اور مستقل رہائش کا حق شامل ہوتا ہے۔
اہلیت کی بنیادی شرائط
تمام ایکسپریس انٹری امیدواروں کے لیے لازم ہے کہ وہ انگریزی یا فرانسیسی زبان کا منظور شدہ ٹیسٹ دیں اور پڑھنے، لکھنے، سننے اور بولنے کی تمام مہارتوں میں مطلوبہ معیار پر پورا اتریں۔ زبان کی اہلیت کا تعین ’کینیڈین لینگویج بینچ مارک‘ کے تحت کیا جاتا ہے۔

اسی طرح امیدوار کا کام کا تجربہ ’نیشنل آکوپیشن کلاسیفکیشن‘ میں درج ہونا ضروری ہے، جہاں پیشوں کو تربیت، تعلیم، تجربے اور ذمہ داریوں یعنی ’ٹیئر‘ یا زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ عمومی طور پر اہل پیشے ٹیئر صفر، ایک، دو اور تین میں شامل ہوتے ہیں، تاہم یہ تقسیم پروگرام کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ امیدوار کا کینیڈا میں داخلے کے قابل ہونا بھی لازمی شرط ہے۔ سکیورٹی، فوجداری یا طبی وجوہات کی بنیاد پر بعض افراد کو کینیڈا میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ایکسپریس انٹری کے تحت درخواست دینے والوں کو صوبہ کیوبیک کے علاوہ کسی اور صوبے یا علاقے میں رہائش کا ارادہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کیونکہ کیوبیک اپنے ہنرمند افراد کا انتخاب خود کرتا ہے۔ صوبائی نامزدگی حاصل کرنے والوں کے لیے اسی صوبے یا علاقے میں رہائش اختیار کرنا لازم ہوتا ہے جس نے انہیں نامزد کیا ہو۔
سی آر ایس سکور کیا ہے؟
کمپری ہینسو رینکنگ سسٹم’ ایکسپریس انٹری کا بنیادی ستون ہے، جس کے تحت امیدواروں کو عمر، تعلیم، زبان پر مہارت، کینیڈین اور غیر ملکی کام کے تجربے اور دیگر عوامل کی بنیاد پر پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔ مستقل رہائش کی دعوت حاصل کرنے کے لیے امیدوار کا سی آر ایس اسکور متعلقہ راؤنڈ کے کٹ آف سکور سے زیادہ ہونا ضروری ہوتا ہے جو ہر راؤنڈ میں مختلف ہو سکتا ہے۔
آئی آر سی سی کی جانب سے ایک آن لائن سی آر ایس کیلکولیٹر بھی فراہم کیا گیا ہے جس کی مدد سے امیدوار پروفائل بنانے سے قبل یا دعوت موصول ہونے کے بعد اپنے ممکنہ سکور کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور یہ جانچ سکتے ہیں کہ پروفائل میں کسی تبدیلی سے ان کی درجہ بندی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

ہنر مند افراد کے لیے ایک بااعتماد موقع
مجموعی طور پر ایکسپریس انٹری کینیڈا میں مستقل رہائش حاصل کرنے کا ایک منصفانہ، میرٹ پر مبنی اور باقاعدہ نظام ہے، خاص طور پر اُن ہنر مند افراد کیلئے جو مضبوط تعلیمی پس منظر، زبان پر اچھی گرفت اور پیشہ ورانہ تجربہ رکھتے ہوں۔ اگرچہ اس نظام میں مقابلہ سخت ہو سکتا ہے، تاہم طریقۂ کار، اہلیت کی شرائط اور سی آر ایس اسکور کی بہتر سمجھ بوجھ امیدوار کی کامیابی کے امکانات کو نمایاں حد تک بڑھا سکتی ہے۔
پاکستانی امیدواروں کے لیے مجموعی فائدہ
ماہرین کے مطابق ایکسپریس انٹری کے دوبارہ آغاز سے پاکستانی ہنرمند افراد کو قانونی، باعزت اور مستقل بنیادوں پر کینیڈا میں بسنے کا موقع مل سکتا ہے۔ بہتر آمدن، معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات اور عالمی کام کے تجربے کے خواہشمند پاکستانی نوجوانوں کے لیے یہ نظام ایک قابلِ اعتماد راستہ ہے بشرطیکہ وہ درست معلومات، مکمل تیاری اور سرکاری طریقۂ کار کے مطابق درخواست جمع کروائیں۔












