رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی راول جھیل کے اطراف خُوب صورت گلابی اور سفید پروں والے فلیمنگوز (لم ڈھینگ یا گلابی بگلوں) کا ایک غول نمودار ہوا، جو جھیل کے پانیوں میں اُترنے کے لیے پر تول رہا تھا۔
لیکن بدقسمتی سے اس معصوم غول پر نہ صرف فطرت کے شیدائیوں کی نظریں لگی تھیں، بلکہ شکاری بھی گھات لگائے اِن کی نقل و حرکت کا جائزہ لے رہے تھے۔
جُوں ہی پرندوں کا یہ غول راول جھیل کے کنارے اُترا، پہلے سے گھات لگائے شکاریوں نے اُن پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 10 سے 12 فلیمنگوز شکاریوں کا نشانہ بن گئے۔
مزید پڑھیں
-
پنجاب میں ایئر گن سے پرندوں اور جانوروں کا شکار غیر قانونی کیوں؟Node ID: 611316
-
’ہجرت کر کے آنے والے پرندے ماحولیاتی توازن کے لیے اہم ہیں‘Node ID: 867931
اگرچہ غول میں شامل باقی چند خوش قسمت گلابی بگلے وہاں سے جان بچا کر اُڑنے میں کامیاب ہو گئے، لیکن اس خُوب صورت جُھنڈ کے زیادہ تر پرندوں کا وہاں غیر قانونی شکار کر لیا گیا۔
شکار کا یہ واقعہ گذشتہ ہفتے کے دوران راول جھیل کے اطراف پیش آیا، جہاں شکاریوں نے چند مقامی افراد کے ساتھ مل کر اِن مہاجر پرندوں کو نشانہ بنایا۔
واقعے کے بعد اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ (آئی ڈبلیو ایم بی) نے صورت حال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے جائے وقوعہ کا تفصیلی دورہ کیا۔
تحقیقات کے دوران وائلڈ لائف کی ٹیم کو کچھ ایسے اہم شواہد ملے ہیں جن کے مطابق ان فلیمنگوز کو نہ صرف مارا گیا، بلکہ ایسے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ جھیل کے کنارے ہی انہیں پکا کر کھایا بھی گیا۔
اس حوالے سے اسلام آباد وائلڈ لائف کے ایک سینیئر افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کی فیلڈ ٹیم کو ملنے والے شواہد سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ پرندے فلیمنگوز یا لم ڈھینگ ہی تھے۔
ان کے مطابق ’جائے وقوعہ سے فلیمنگوز کے جسم کے کچھ حصے اور بقایا جات ملے، جس سے ابتدائی طور پر اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ وہاں اِن پرندوں کا شکار کیا گیا تھا۔‘
’یہ ابتدائی تحقیقات ہیں، مزید باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ یہ واقعہ اصل میں کس دن اور کس وقت پیش آیا اور اس غیر قانونی شکار کے پیچھے کون سے بااثر یا مقامی افراد ملوث ہیں۔‘

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ابتدائی شواہد کے مطابق جہاں فلیمنگوز کا شکار ہوا، وہیں ان کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر درمیانے سائز کے آبی پرندے، جیسے کہ مرغابیاں اور جل مرغیاں بھی اس غیر قانونی شکار کی زَد میں آئیں۔
حکام کے مطابق جیسے ہی تحقیقات مکمل ہوں گی، ملوث افراد کے خلاف وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔
لیکن یہاں یہ سوال اہم ہے کہ فلیمنگوز یا گلابی بگلوں کا یہ غول آخر راول جھیل تک کیسے پہنچا اور ان کا اصل مسکن کہاں ہے؟
فلیمنگو کا شمار دنیا کے خُوب صورت اور منفرد ترین مہاجر پرندوں میں ہوتا ہے۔ یہ طویل فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ایک ایسا آبی پرندہ ہے جو جھیلوں اور دریاؤں کے کناروں پر دلدلی ماحول میں رہنا پسند کرتا ہے۔
پاکستان کا رُخ کرنے والے یہ پرندے ’گریٹر فلیمنگو‘ کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، جن کا قد قریباً چار سے پانچ فٹ تک ہوتا ہے۔ ان کی ٹانگیں اور گردن غیر معمولی طور پر لمبی اور چونچ آگے سے نیچے کی طرف مُڑی ہوتی ہے، جبکہ ان کا رنگ سفید مائل گلابی ہوتا ہے۔

راول جھیل پر پیش آنے والے اس واقعے کے پسِ منظر میں ہم نے اسلام آباد میں ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے سینیئر ڈائریکٹر کنزرویشن، رب نواز سے گفتگو کی ہے۔
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ عمومی طور پر یہ پرندہ پاکستان کے ساحلی علاقوں یا پھر پنجاب کی ’سالٹ رینج‘ میں واقع کھارے پانی کی جھیلوں پر ڈیرہ ڈالتا ہے۔
رب نواز کہتے ہیں کہ ’جون کے گرم مہینے میں فلیمنگوز کا اسلام آباد کی راول جھیل میں اچانک نمودار ہونا یقیناً ایک حیران کن امر ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’چونکہ کلر کہار جھیل کے اطراف یہ پرندے روایتی طور پر پائے جاتے ہیں، اس لیے یہ ممکن ہے کہ یہ غول وہاں سے اُڑ کر کسی طرح راول جھیل پہنچا ہو۔‘
ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سینیئر ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ’یہ بھی ممکن ہے کہ کلر کہار میں ان کا قدرتی مسکن کسی وجہ سے متاثر ہوا ہو جس کے باعث پناہ کی تلاش میں انہوں نے اسلام آباد کا رُخ کیا۔‘
’ان پرندوں کے پاکستان آنے کا یہ روایتی وقت نہیں ہے۔ فلیمنگوز عام طور پر نومبر اور دسمبر میں کے مہینوں میں پاکستان داخل ہوتے ہیں اور پورا موسمِ سرما کراچی، گوادر اور سالٹ رینج کے علاقوں میں گزار کر مارچ میں واپس اُڑ جاتے ہیں۔‘

فلیمنگوز کن ممالک سے نقل مکانی کر کے پاکستان پہنچتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں رب نواز نے بتایا کہ ’یہ پرندے بنیادی طور پر وسطی ایشیا، سائبیریا (روس) اور جھیل کیسپین کے شدید سرد خطوں سے اُڑان بھرتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ان فیلمنگوز ان کا ایک بڑا غول پڑوسی ملک انڈیا کے علاقے ’رن آف کچھ‘ کا رُخ بھی کرتا ہے اور وہیں سے کچھ غول پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔‘
’پاکستان دراصل ان پرندوں کی نقل مکانی کے اس بین الاقوامی فضائی راستے پر واقع ہے جسے دنیا بھر میں 'انڈس فلائی وے‘کہا جاتا ہے اور یہ اسی فضائی راستے کو استعمال کرتے ہوئے یہاں پہنچتے ہیں۔
کیا فلیمنگو معدومیت کا شکار ہیں؟
فلیمنگوز عالمی سطح پر تو فی الحال معدومیت کے فوری خطرے سے باہر ہے اور اسے آئی یو سی این کی ریڈ لسٹ میں محفوظ کیٹیگری میں رکھا گیا ہے، تاہم اس کی چھوٹی نسل ’لیسر فلیمنگو‘ معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔
رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں ان پرندوں کی آبادی 5 لاکھ سے 7 لاکھ کے درمیان ہے، جس کا ایک بہت بڑا حصہ افریقہ، بحیرۂ روم کے خطوں اور انڈیا کے علاقے ’رن آف کچھ‘ میں پایا جاتا ہے، جہاں ایک ہی سیزن میں لاکھوں فلیمنگوز افزائشِ نسل کے لیے جمع ہوتے ہیں۔













