پاکستان نے تین مقامات پر فضائی حملے کیے ہیں: افغان حکام کا الزام
پڑوسی ممالک کے درمیان پچھلے کئی ماہ سے تعلقات کشیدہ ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
افغان حکام نے کہا ہے کہ پاکستان نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات فضائی حملے کیے ہیں تاہم پاکستانی حکام کی جانب سے اس الزام پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پڑوسی ممالک کے درمیان صورت حال کئی ہفتے تک پرسکون تھی۔
طالبان حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ کنڑ، خوست اور پکتیکا میں تین مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
خوست کے ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرن کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا ضلع سپیرا میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا۔
اس علاقے کے قریبی صوبے پکیتکا کے دو رہائشیوں کا بھی کہنا ہے کہ ضلع برمال میں بھی ایک حملہ کیا گیا۔
افغان حکام کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں میں 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
پڑوسی ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کچھ مہینوں سے خراب چل ہیں۔
اسلام آباد کابل پر الزام لگاتا ہے کہ وہ ان دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے جو پاکستان میں دھماکے کرتے ہیں، دوسری جانب افغانستان ایسے الزامات کی تردید کرتا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں میں کئی جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں اور چند ماہ قبل یہ سلسلہ تواتر سے چلتا رہا تاہم چند ہفتے سے دونوں ممالک کے درمیان صورت حال پرسکون تھی۔
افغانستان پاکستان پر پہلے بھی فضائی حملوں کا الزام لگا چکا ہے۔
خیال رہے افغانستان میں تقریباً 20 سال رہنے کے بعد امریکی و نیٹو افواج روانہ ہو گئی تھیں، جس کے ساتھ ہی طالبان نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور ابھی وہی حکومت چل رہی ہے۔
