Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاک افغان سرحدی علاقوں میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے، 26 ہلاک: پاکستان

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان کی جانب سے بدھ کو ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران ہونے والی دہشت گری کی کارروائیوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’یہ کارروائیاں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے ان عناصر کے خلاف کی گئی ہیں جو پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کے منصوبہ ساز تھے اور ان میں انڈیا کے حمایت یافتہ 26 فتنہ الخوارج مارے گئے ہیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مصدقہ انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر چنیدہ ٹھکانوں کو درستی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا جن میں فتنہ الخوارج کے کمانڈروں علیم خان خوشحالی اور اختر محمد جان جانی خیل کے تربیتی مراکز، خفیہ ٹھکانے اور گولہ بارود کے ذخیرے شامل ہیں اور حملوں میں چار اہداف کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا۔
بیان کے مطابق ’پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی حفاظت اور سلامتی بھی ہماری اولین ترجیح ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ویژن ’عزم استحکام‘ کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری رفتار سے جاری رہیں گی۔
دوسری جانب فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ افغان حکام نے بھی فضائی حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔
یہ کارروائیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب کئی ہفتے تک دونوں ممالک کے درمیان صورت حال پرسکون رہی تھی۔
 

افغان حکام کا کہنا ہے کہ تین مقامات پر فضائی حملوں کی اطلاع ہے (فوٹو: اے ایف پی)

افغان حکومت کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پچھلی رات ملک میں مختلف مقامات پر حملے ہوئے۔
پڑوسی ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کچھ مہینوں سے خراب چل ہیں۔
اسلام آباد کابل پر الزام لگاتا ہے کہ وہ ان دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے جو پاکستان میں دھماکے کرتے ہیں، دوسری جانب افغانستان ایسے الزامات کی تردید کرتا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں میں کئی جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں اور چند ماہ قبل یہ سلسلہ تواتر سے چلتا رہا تاہم چند ہفتے سے دونوں ممالک کے درمیان صورت حال پرسکون تھی۔
افغانستان پاکستان پر پہلے بھی فضائی حملوں کا الزام لگا چکا ہے۔
خیال رہے افغانستان میں تقریباً 20 سال رہنے کے بعد امریکی و نیٹو افواج روانہ ہو گئی تھیں، جس کے ساتھ ہی طالبان نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور ابھی وہی حکومت چل رہی ہے۔

 

شیئر: