Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سال 2025، وزارت اوورسیز بیرون ملک ملازمتوں کا ہدف حاصل نہ کر سکی

سال 2023 میں بیرونِ ملک جانے والوں کی اکثریت غیرہنرمند اور نیم ہنر مند کارکنوں پر مشتمل رہی۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
ایک ایسے وقت جب پاکستانی حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بھیجی گئی ترسیلات زر میں اضافے کا مسلسل دعویٰ کر رہی ہے اور اسی اضافے کی بنیاد پر ملکی معیشت کے بہتر ہونے کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں، اور اس کو 50 ارب ڈالر تک لے جانے کی باتیں ہو رہی ہیں، وزارت اوورسیز پاکستانیز عالمی لیبر مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ 
سال 2025 میں ’برین ڈرین‘ کی باتیں کی جاتی رہیں لیکن اس کے برعکس مسلسل دوسرے برس وزارت اوورسیز پاکستانیز بیرون ملک ملازمتوں کا ہدف حاصل نہیں کر سکی۔ رواں برس دس لاکھ ملازمتوں کے ہدف کا صرف 70 فیصد ہی حاصل کیا جا سکا ہے جبکہ اس کے حصول میں بھی سعودی عرب کی معاونت شامل نہ ہوتی تو اس ہدف کا 30 فیصد بھی حاصل نہ کیا جا سکتا۔ 
سال 2025 کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران بیرونِ ملک ملازمتوں پر روانہ ہونے والے پاکستانی کارکنوں کی مجموعی تعداد 6 لاکھ 86 ہزار 292 رہی، جن میں واضح اکثریت سعودی عرب جانے والوں کی تھی۔ 
سرکاری دستاویزات کے مطابق صرف سعودی عرب میں اس عرصے کے دوران 4 لاکھ 82 ہزار 581 پاکستانی کارکنوں نے ملازمت اختیار کی، جو مجموعی بیرونِ ملک روزگار کا سب سے بڑا حصہ بنتا ہے۔ اس کے بعد قطر میں 59 ہزار 511، متحدہ عرب امارات میں 42 ہزار 718، عمان میں 9 ہزار 146 اور بحرین میں 34 ہزار 284 پاکستانی کارکنوں کو ملازمت کے مواقع میسر آئے۔
ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب نہ صرف پاکستان کے لیے سب سے بڑی بلکہ سب سے مستحکم لیبر منڈی بھی رہا، جس نے 2025 میں بیرونِ ملک روزگار کے مجموعی بہاؤ کو سہارا دیے رکھا۔
شعبہ وار اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کا بڑا حصہ روایتی مگر اہم شعبوں پر مشتمل رہا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق مزدوروں کی تعداد 4 لاکھ 19 ہزار 75 رہی، جو تمام پیشوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے بعد ڈرائیورز ایک لاکھ 48 ہزار 753، الیکٹریشنز 6 ہزار 21، مکینکس 4 ہزار 606، مستری 4 ہزار 993 اور پلمبرز دو ہزار 14 کی تعداد میں بیرونِ ملک گئے۔ اس کے علاوہ انجینئرز 5 ہزار 191، ڈاکٹرز 3 ہزار 455 اور نرسز 1 ہزار 492 کی تعداد میں رجسٹرڈ ہوئیں۔

سنہ 2023 کو وزارتِ سمندر پار پاکستانیز نے ایک کامیاب سال قرار دیا تھا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ سعودی عرب میں جاری ترقیاتی اور خدماتی منصوبوں کے لیے پاکستانی افرادی قوت بدستور ایک اہم اور قابلِ اعتماد ذریعہ بنی ہوئی ہے۔
صوبہ وار جائزے میں 2025 کے پہلے گیارہ ماہ میں بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں میں پنجاب سرفہرست رہا، جہاں سے تین لاکھ 55 ہزار 412 افراد بیرونِ ملک گئے، خیبر پختونخوا سے 2 لاکھ 4 ہزار 442، سندھ سے 52 ہزار 459، بلوچستان سے 4 ہزار 778، کشمیر سے 24 ہزار 829 اور سابقہ قبائلی علاقوں و شمالی علاقہ جات سے مجموعی طور پر 37 ہزار سے زائد افراد بیرونِ ملک روزگار کے لیے گئے۔ 
اگر ایک قدم پیچھے جا کر سال 2024 کو دیکھا جائے تو یہ وہ موڑ تھا جہاں بیرونِ ملک روزگار کے رجحان میں واضح گراوٹ نظر آئی۔ سنہ 2024 کے دوران بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی کارکنوں کی مجموعی تعداد 7 لاکھ 27 ہزار 381 رہی، جو سنہ 2023 کے مقابلے میں ایک لاکھ 35 ہزار کم تھی۔ یہ کمی عالمی معاشی سست روی، اور بعض ممالک کی جانب سے غیرملکی افرادی قوت کے لیے سخت ہوتی ویزا پالیسیوں سے جوڑی جاتی ہے۔
سال 2024 میں نہ صرف خلیجی منڈیوں میں مواقع محدود ہوئے بلکہ یورپ اور مشرقی ایشیا میں نئی منڈیوں کی تلاش کے سرکاری دعوے بھی عملی صورت اختیار نہ کر سکے، جس کے نتیجے میں مجموعی تعداد سات لاکھ کی سطح پر آ کر رک گئی۔
صوبہ وار اعتبار سے 2024 میں پنجاب اور خیبر پختونخوا دونوں سے بیرونِ ملک جانے والوں کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم سندھ اور بلوچستان میں یہ کمی تناسب کے لحاظ سے زیادہ نمایاں رہی۔ 

رواں برس دس لاکھ ملازمتوں کے ہدف کا صرف 70 فیصد ہی حاصل کیا جا سکا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

اس کے برعکس اگر 2023 کو دیکھا جائے تو یہ وہ برس تھا جسے وزارتِ سمندر پار پاکستانیز نے ایک کامیاب سال قرار دیا تھا۔ اس برس بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کی تعداد 8 لاکھ 62 ہزار 625 رہی، جو بظاہر ایک مثبت پیش رفت تھی۔ تاہم گہرے تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ بہتری کسی دیرپا اصلاح یا نئی حکمت عملی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ زیادہ تر خلیجی ممالک میں وقتی طلب اور بعض منصوبوں کی بحالی سے جڑی ہوئی تھی۔
سال 2023 میں بھی بیرونِ ملک جانے والوں کی اکثریت غیر ہنرمند اور نیم ہنر مند کارکنوں پر مشتمل رہی، جبکہ انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، ڈاکٹرز اور نرسز جیسے پیشہ ور زمروں میں اضافہ محدود رہا۔
ماہرین کے مطابق اگر وزارتِ سمندر پار پاکستانیز گزشتہ تین برس کے ملک وار، پیشہ وار اور صوبہ وار اعداد و شمار کو بنیاد بنا کر پالیسی میں بنیادی اصلاحات کرتی، ہنرمند تربیت، زبان اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن پر سرمایہ کاری بڑھاتی اور نئی منڈیوں میں فعال سفارتی کردار ادا کرتی تو شاید 2025 میں یہ خلا اتنا نمایاں نہ ہوتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں یہ اعداد و شمار نہ صرف کارکردگی کے عکاس ہیں بلکہ آنے والے برسوں کے لیے ایک واضح تنبیہ بھی کہ محض بڑے اہداف مقرر کرنا کافی نہیں، جب تک ان کے حصول کے لیے ٹھوس اور دیرپا حکمت عملی اختیار نہ کی جائے۔

 

شیئر: