انڈین سپریم کورٹ کی ناقابل علاج شخص کو ’پُرسکون موت‘ دینے کی اجازت
فیصلے سے قبل عدالت نے معائنے کے لیے دو میڈیکل بورڈ تشکیل دیے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کی سپریم کورٹ نے ملکی تاریخ میں پہلی بار اس شخص کو ’پُرسکون موت‘ دینے کی اجازت دے دی ہے جو دو ہزار تیرہ سے مسلسل بےہوشی کی حالت میں ہے۔
ٹریبیون انڈیا کی رپورٹ کے مطابق جسٹس جے بی پردیوالہ اور جسٹس کے وی وشواناتھ پر مشتمل بینچ نے اشوک رانا کی طرف سے دی گئی درخواست کی سماعت کی جس میں ان کے بیٹے ہریش رانا کو زندہ رکھنے کے لیے مسلسل علاج کو ختم کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔
ہریش رانا دو ہزار تیرہ میں ایک عمارت سے گرنے کے بعد سے مسلسل بے ہوشی کی حالت میں ہیں۔
عدالت کی جانب سے فیصلہ کامن کاز قانون کے تحت سنایا گیا ہے جو اس شخص کو عزت کے ساتھ مرنے کا حق دیتا ہے جس کے صحت مند نہ ہونے کے حوالے سے مصدقہ شواہد موجود ہوں۔
اس سے قبل عدالت نے دو میڈیکل بورڈ تشکیل دیے تھے جنہوں نے رپورٹ پیش کی گئی تھی کہ ہریش رانا کے صحت یاب ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔
عدالت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’لائف سپورٹ ذرائع کو بند کرنے کے عمل کو باوقار طریقے سے انجام دیا جائے۔‘
یہ ملک میں پہلا کیس ہے جس میں عدالتی ہدایات کے تحت ’کسی ایسے شخص کی اذیت ’ختم‘ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس کے صحت یاب ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔
عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے حکم میں کہا گیا ہے کہ ’آل انڈیا آف میڈیکل سائنسز مریض کو فالج کے پرائیویٹ کیئر سینٹر میں داخل کرنے کی اجازت دے گا جہاں اس کے علاج کے سلسلے کو موثر طور پر منقطع کیا جائے گا۔ رہائش گاہ سے منتقلی کے حوالے سے بھی سہولتیں فراہم کرے گا اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ مریض کا وقار برقرار رہے۔‘
پرائمری بورڈ نے مریض کا معائنہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اس کی صحت یابی کا کوئی امکان نہیں۔
کچھ عرصے بعد ایک اور بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس کی رپورٹ بھی اس سے ملتی جلتی تھی۔
ان کے بعد دسمبر میں عدالت میڈیکل بورڈ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں مریض کی حالت کو قابل رحم قرار دیا گیا تھا۔
نومبر 2025 میں نوئڈا کے ہسپتال کی ٹیم نے بھی عدالتی حکم پر مریض کا معائنہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کی حالت پہلے سے بھی خراب ہو گئی ہے۔
دو ہزار تیرہ میں حادثے کے بعد ہریش رانا کا کافی علاج کرایا گیا تاہم اس کی حالت بہتر نہیں ہوئی اور بعدازاں یہ معاملہ دو ہزار اٹھارہ میں عدالت پہنچا تھا۔