چہرے کے ذریعے بائیومیٹرک کی تصدیق، نیا نظام کیسے کام کرے گا؟
چہرے کے ذریعے بائیومیٹرک کی تصدیق، نیا نظام کیسے کام کرے گا؟
بدھ 31 دسمبر 2025 12:24
پاکستان میں فنگر پرنٹس ناقابلِ شناخت ہونے کی وجہ سے کئی شہریوں کو بائیومیٹرک کی تصدیق میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم اب چہرے کی شناخت کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیقی سہولت کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
بدھ کو نادرا کے ایک بیان کے مطابق چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیقی سہولت کی بدولت بزرگوں یا طبی مسائل کے باعث شہریوں کو فنگرپرنٹس کی تصدیق میں پیش آنے والی دشواری کا مسئلہ حل ہو گا۔
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے مطابق قومی شناختی کارڈ قوانین میں ترمیم کے ذریعے بائیومیٹرک کے نظام میں توسیع کی گئی ہے اور پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے علاوہ 20 جنوری سے تمام نادرا مراکز میں چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹ کا اجرا ہو گا۔
بیان کے مطابق شہری ضرورت پڑنے پر معمولی فیس کے عوض سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔
فنگر پرنٹس کی تصدیق نہ ہونے پر شہری قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز جائے گا جہاں چہرے کی شناخت کی کارروائی مکمل ہونے پر نادرا ایک سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔
اس پر تصویر، شناختی کارڈ نمبر، نام، ولدیت، منفرد ٹریکنگ آئی ڈی اور کیو آر کوڈ ہو گا اور یہ سرٹیفکیٹ سات دن کے لیے قابلِ استعمال ہو گا۔
بزرگ شہریوں کی انگلیوں کے نشانات کی شناخت کیوں نہیں ہو پاتی؟
بزرگ شہریوں کے فِنگر پرنٹس کے مسائل کی بنیادی وجہ عمر رسیدگی کے اثرات ہیں۔ جیسے جیسے انسان کی عمر بڑھتی ہے تو اُس کی جلد کی ساخت میں بھی نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عمر بڑھنے کے ساتھ ہاتھوں کی جلد پتلی، خشک اور کم لچک دار ہو جاتی ہے جس کے باعث فنگر پرنٹس دُھندلے یا تقریباً مٹنے لگتے ہیں۔ بعض اوقات انگلیوں کی پوروں پر جُھریاں بڑھ جانے سے بھی بائیومیٹرک سکینر درست شناخت نہیں کر پاتے۔
اس کے علاوہ وہ بزرگ افراد جنہوں نے زندگی بھر ہاتھوں سے مشقت طلب کام کیے ہوں، جیسے کھیتی باڑی، سلائی یا مزدوری تو اُن کے فنگر پرنٹس اکثر وقت کے ساتھ گَھس جاتے ہیں۔
یہی وجوہات نادرا یا دیگر اداروں کے بائیومیٹرک سسٹم کے لیے شناخت میں رُکاوٹ بنتی ہیں، اسی وجہ سے بعض اوقات بزرگ شہریوں کو تصدیق یا رجسٹریشن میں دُشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر چہرے کی شناخت سے بائیومیٹرک تصدیق کی سہولت دی گئی ہے: فوٹو ناردا
اہم مسئلے پر رواں ماہ پاکستان کے سب بڑے تجارتی چیمبر ایوان صنعت و تجارت کی جانب سے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایک خط لکھا گیا۔
خط میں حکومت سے استدعا کی گئی کہ بائیومیٹرک کے ذریعے تصدیقی عمل میں مشکلات کا سامنا کرنے والے بزرگ افراد سمیت دیگر شہریوں کے لیے تصدیقی عمل کو آسان بنایا جائے۔
نادرا کا کیا موقف
پاکستان میں فنگر پرنٹس کی وجہ سے شہریوں کو بائیو میٹرک کرانے میں شکایات اکثر سامنے آتی تھیں: فائل فوٹو اے ایف پی
نادرا کے ترجمان سید شباہت علی نے جولائی میں اردو نیوز کو بتایا تھا کہ ’نادرا نے نیشنل آئیڈینٹٹی کارڈ رولز 2002 میں اہم ترامیم کرتے ہوئے بائیومیٹرک تصدیق کی تعریف میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں جن میں چہرے کی شناخت (فیشل ریکگنیشن) اور آئرس (آنکھوں کی پُتلیوں کی شناخت) کو بھی شامل کیا گیا ہے۔‘
’اس کا مطلب یہ ہے کہ اب شناختی تصدیق صرف فِنگر پرنٹس پر منحصر نہیں رہی بلکہ اگر کسی شہری کے انگوٹھے یا انگلیوں کے نشانات قابلِ شناخت نہ ہوں، تو وہ بائیومیٹرک کے متبادل یعنی فیشل ریکگنیشن یا آئرس سکیننگ کے ذریعے بھی تصدیق کروا سکتے ہیں۔‘
سید شباہت علی کا مزید کہنا تھا کہ ’اس جدید نظام پر مکمل عمل درآمد کے لیے وزارت داخلہ نے تمام متعلقہ اداروں کو 30 دسمبر 2025 تک مہلت دے رکھی ہے۔‘
اس سلسلے میں نادرا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، سٹیٹ بینک آف پاکستان، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سمیت دیگر اداروں کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔
ترجمان نادرا کا کہنا تھا کہ ’اس ضمن میں سٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ جدید بائیومیٹرک ڈیوائسز استعمال کریں اور فیشل ریکگنیشن کی سہولت فراہم کریں تاکہ ان شہریوں کو سہولت دی جا سکے جن کے فِنگر پرنٹس ناقابلِ شناخت ہو چکے ہوں۔‘