العلا میں شمسی گھڑی ’الطنطورہ‘ کیسے کام کرتی تھی؟
العلا کمشنری میں سیاحوں کو ماضی کے منفرد تجربے سے روشناس کرانے کے لیے ’جب سایہ ہماری رہنمائی کرتا تھا‘ کے عنوان سے پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔
منفرد سیاحتی پروگرام کے تحت سیاحوں کو عہدِ رفتہ میں العلا کے روز مرہ کے حالات سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔
اس وقت سورج کی روشنی سے پڑنے والے سایے کے ذریعے وقت کا تعین کرتے ہوئے رہنمائی حاصل کی جاتی تھی۔
سایہ کی گھڑی سے نہ صرف روز مرہ کی زندگی کے امور طے کیے جاتے تھے بلکہ یہ عمل نخلستانوں کی آبپاشی اور زراعت کے لیے بھی کارگر ہوا کرتا تھا۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق العلا کے ’اولڈ ٹاؤن‘ میں سیاحوں کو شمسی گھڑی ’الطنطورہ‘ کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے جب ماضی میں فطری مشاہدات یومیہ معاملات میں اہمیت کی حامل ہوا کرتے تھے۔
ماضی میں سورج کی کرنیں صرف دن کو روشن کرنے کے لیے ہی نہیں بلکہ وقت کا تعین کرنے کے لیے بھی اہم ہوا کرتی تھی۔
اس کے علاوہ اہلیان العلا ان کرنوں کی تمازت اور تپش کو محسوس کرتے ہوئے کھیتی باڑی کے موسموں کا بھی تعین کیا کرتے تھے۔

سورج کی روشنی سے ابھرنے والے سایوں کو دیکھ کر قدیم زمانے کے لوگ وقت کا تعین کرتے اور اس کے مطابق اپنی روز مرہ زندگی کے امور کو انجام دیا کرتے تھے۔
مقامی لوک داستانیں سنانے والے سیاحوں اور وزیٹرز کو ماضی کے تجربے سے عملی طور پر آگاہ کرتے ہیں جب قدیم زمانے میں العلا کے باشندے اپنے وقت کا تعین سادگی سے کیا کرتے اور سایہ ان کے لیے گھڑی کا کام انجام دیتا تھا۔
